Saturday, 15 May, 2004, 18:21 GMT 23:21 PST
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے نے کہا ہے کہ رفا میں اسرائیل کی تباہ کاریوں سے ایک ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی بلڈوزرز نے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کردیا ہے۔
اسرائیلی سپریم کورٹ نےمسماری پر عارضی پابندی عائد کی ہے۔
تل ابیب کے مرکزی سکوائر میں تقریباً ایک لاکھ اسرائیلیوں نے غزا سے اسرائیلی فوج کے انخلاء پر زور دینے کے لیے مظاہرہ کیا۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم شمون پیریز نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں اور تمام اسرائیلی فلسطین کے ساتھ پر امن طور پر مسئلہ کا حل چاہتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی علاقوں کی تباہ کاری کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ تاہم اسرائیل نے فلسطینیوں کے تقریباً نوے گھر منہدم کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ فوج نے صرف وہ گھر تباہ کیے ہیں جنہیں فلسطینی عسکریت پسند استعمال کرتے تھے۔
ایک مقامی فلسطینی شخص نے بتایا کہ علاقے میں بلڈوزر آنے سے پہلے اسرائیلی فوج نے کوئی تنبیہ نہیں کی تھی۔
دریں اثناء اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے غزہ میں اسلامی جہاد نامی تنظیم کے دفاتر پر میزائیلوں سے حملہ کیا ہے جس میں کم از کم دس افراد زخمی ہو گئے۔
اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کا یہ حملہ ان کے رہنما محمد الہندئی کو قتل کرنے کی کوشش تھی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اسرائیل کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ گھروں کو گرایا جانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تیرہ اسرائیلی فوجی اور تیس فلسطینی غزہ کی پٹی میں تشدد کی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر میں ایک اہلکار نے گھر گرانے کو ’جائز دفاعی حکمت عملی قرار دیا‘۔
جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج رفا کے پناہ گزیں کیمپوں اور مصری سرحد کے درمیان نو کلومیٹر کے علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں۔
فلسطینی انتظامیہ نے بین الاقوامی برادری سے فلسطینیوں کے گھر گرائے جانے کا آپریشن رکوانے کی اپیل کی ہے۔