Monday, 18 August, 2008, 18:41 GMT 23:41 PST
وجاہت مسعود
لاہور
ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے بالآخر پیر 18اگست 2008ءکو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر کے عہدے سے مستعفی ہونےکا
اعلان کر دیا اور 12اکتوبر 1999ءکی رات شروع ہونے والا براہ راست فوجی اقتدار کا یہ عہد بالآخر اختتام کو پہنچا۔ اُردو کے جواں
مرگ شاعر محمد انور خالد کی ایک نظم کہتی ہے ’سو وہ ایسے گیا، جیسے زمیں سے گھاس جاتی ہے‘ شاعر نے اِس نظم میں آمریت کے انجام
کو’سراسر حادثاتی‘ قرار دیا ہے۔ پرویز مشرف کا آٹھ سال دس مہینے اور ایک ہفتے پر محیط یہ عہد بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک حادثہ
ہی کہلائے گا۔
پرویز مشرف کے بطور فوجی سربراہ آئینی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کو جدید عالمی تاریخ میں ایک خاص اعتبار سے روایت
سے اِستثنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ پرویز مشرف نے سرد جنگ ختم ہونے کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔
![]() |
|
| چلی آمرِ مطلق جنرل آگستو پنوشے جنہوں آلندے کی حکومت کا تختہ الٹا جس میں نیرودا جیسے شاعر کی بھی جان گئی |
ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے نوآزاد ملکوں میں مقبول سیاسی قیادتوں کو معزول کر کے اقتدار پر زبردستی قابض ہونے کی روایت
نے ایک مانوس نمونہ اختیار کر لیا۔ بندوق کے بل پر اپنے ہی ملکوں کو فتح کرنے والے فوجی آمر اپنی سرپرستی کے لیے اشتراکی یا سرمایہ
دار بلاک میں سے ایک کا انتخاب کر لیتے تھے۔ اِس سے اُن کی سیاسی تنہائی بھی ختم ہوتی تھی اور معاشی بقا کو بھی یقینی بنایا جا
سکتا تھا۔
|
آمر اور ان کی سیاسی تنہائی
|
بڑی طاقتوں کا اصل مقصد دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے فوجی مفادات، معاشی اثر و نفوذ اور سیاسی رسوخ کو برقرار رکھنا تھا۔ امریکہ
اگر عراق کے صدام حسین، ایران کے رضا شاہ پہلوی، چلّی کے پنوشے یا فلپائن کے مارکوس کی حمایت کرتا تھا تو استعمار دشمنی کا دعویٰ
رکھنے والے سوویت یونین کو کمبوڈیا کے پول پاٹ، شمالی کوریا کے کم ال سنگ یا یوگنڈا کے عدی امین کی سرپرستی میں عار نہیں تھا۔
![]() |
|
| فلپائین کے مارکوس جو 1965 سے 1986 تک بر سرِاقتدار رہے |
ایران کے رضا شاہ فروری 1979ءمیں معزول ہوئے تو اُنھیں مصر میں پناہ لینا پڑی۔ چلّی کے پنوشے پناہ کی تلاش میں اٹلی پہنچے۔ فلپائن کے مارکوس کو جزائر ہوائی میں جلاوطنی نصیب ہوئی۔ پانامہ کے جنرل نوریگا کو استثنیٰ سمجھنا چاہیے کہ اُنھیں باقاعدہ فوجی کارروائی کر کے گرفتار کیا گیا اور منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔
صدام حسین نے اپنے اقتدار کا آغاز امریکی سرپرستی ہی میں کیا تھا۔ مگر بیچ میں کویت اور کچھ ایسے جھگڑے آن پڑے کہ اُنھیں بغداد ہی میں پھانسی پر جھولنا پڑا۔
چند برس پہلے مسلم اکثریتی ملکوں میں آمریت کی بلند شرح کے پیشِ نظر امریکی سرپرستوں نے سعودی عرب کی صورت میں جلاوطنی کا ایک
مقبول ٹھکانہ تلاش کیا۔ مسلمانوں کے لیے سعودی عرب سے تقدیس کی بھی وابستگی ہے اور سعودی عوام کو احتجاج وغیرہ کا حق بھی میسر
نہیں۔ یوگنڈا کے عدی امین سعودی عرب ہی میں رکھے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جدّہ کا سرور پیلس آج بھی کسی نئے مہمان کے لیے خالی
رکھا گیا ہے۔
![]() |
|
| یوگنڈا کے آمر عیدی امین نے سعودی عرب میں پناہ پائی |
پاکستان میں جمہوری روایت کبھی مضبوط نہیں ہوئی۔ لیکن عسکری آمریت ہو یا جمہوری لبادے میں آمرانہ اُمنگیں، ایک فرق واضح ہے۔ عوامی تائید کے بل پر حکومت کرنے والوں کا انجام زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔
لیاقت علی خان سیاسی رہنما تھے، قتل ہوئے۔ بھٹو سیاسی قوتوں کی نمائندگی کرتے تھے، پھانسی پا گئے۔ نواز شریف کو عوامی تائید ملی تو اُنھیں اٹک قلعہ میں قید و بند اور پھر سعودی عرب میں طویل جلاوطنی نصیب ہوئی۔ بے نظیر بھٹو پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقبولیت رکھتی تھیں، سو اُنھیں ہزاروں کے مجمعے میں قتل کیا گیا۔
دوسری طرف غیر سیاسی اور غیر جمہوری پس منظروالے پاکستانی حکمران زیادہ خوش نصیب ثابت ہوئے۔ غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑی،
وزیر اعظم برطرف کئے لیکن بستر میں موت نصیب ہوئی۔ سکندر مرزا برج کھیلنے کے شائق تھے اور سیاسی وزرائے اعظم کو پتّوں کی طرح پھینٹتے
تھے، لندن میں طبعی موت پائی۔ ایوب خان اقتدار سے علیحدگی کے بعد اپنے گاؤں ریحانہ میں فوت ہوئے۔ یحییٰ خان کی صدارت میں مشرقی
پاکستان علیحدہ ہوا۔ یحییٰ خان نے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں موت پائی اور فوجی اعزاز کے ساتھ دفن ہوئے۔ ضیاءالحق کی موت حادثاتی تھی
لیکن اُن کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ ہوئی۔
![]() |
|
| احمد رضا شاہ پہلوی ایران کے امریکہ نواز آمر |
پرویز مشرف کے استعفے کے باعث مواخذے کا عمل خودبخود ختم ہو گیا ہے۔ مواخذے کی تحریک پر پارلیمانی مباحثے کی صورت میں فوج کے ادارے کا وقار محفوظ رکھنا مشکل ہو جاتا۔ غالباً امکان ہے کہ پرویز مشرف کے گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد گزشتہ آٹھ برس کے اقدامات لپیٹ دیے جائیں گے۔ البتہ یہ امر ابھی تک قیاس آرائیوں کی زد میں ہے کہ پرویز مشرف جلاوطنی کا زمانہ کہاں گزاریں گے۔
(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں)