Sunday, 29 June, 2008, 07:54 GMT 12:54 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردوڈاٹ کام،اسلام آباد
خدا کا شکر ہے کہ تمام تر بے قاعدگیوں اور غفلتوں کے باوجود پاکستان کبھی بھی زمبابوے نہیں بنا جہاں افراطِ زر دس ہزار فیصد سے زائد ہے۔ ملک پر جنگِ آزادی کا ہیرو قریباً تیس برس سے یک جماعتی آمر بن کر مسلط ہے۔اور حزبِ اختلاف کے صدارتی امیدوار کو انتخابات کا پہلا راؤنڈ جیتنے کے باوجود بھی جان بچانے کے لیے ڈچ سفارتخانے میں پناہ لینی پڑتی ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ کثیر النسلی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کا روانڈا بننے کا بھی امکان نہیں ہے جہاں جنگل کے قانون کے تحت ایک طاقتور اکثریتی گروہ موقع ملنے پر آبادی کے اقلیتی گروہ کو جسمانی طور پر ملیامیٹ کردے۔
خدا کا شکر ہے کہ پاکستان ایران بھی نہیں ہے جہاں انتخابی عمل کو غیر منتخب رہنما کنٹرول کرتے ہیں اور انکی جانب سے نظریاتی سرٹیفیکٹ ملنے کی صورت میں ہی کوئی بھی امیدوار انتخابات میں حصہ لینے کا اہل ہوتا ہے۔اور پھر انہی تطہیر شدہ امیدواروں میں سے کچھ حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرتے ہیں تو کچھ حزبِ اقتدار کا۔
خدا کا شکر ہے کہ پاکستان سعودی عرب بھی نہیں ہے۔جہاں تمام تر مادی جدیدیت کے باوجود ملک کی نصف آبادی اگر سڑک پر ڈرائیونگ کرے تو اسے سرکاری طور پر جرم سمجھا جاتا ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ پاکستان ترکی بھی نہیں ہے جہاں اسکولوں اور دفاتر میں حجاب پہنا جائے یا نہ پہنا جائے کا سوال ایک ایسا قومی
مسئلہ ہے جس میں فوج اور عدلیہ بھی برابر کی فریق ہے۔
|
|
لیکن ان دنوں یوں لگ رہا ہے جیسے پاکستان سن ستر کی دھائی کا کمبوڈیا بننے کی راہ پر پھسل رہا ہے۔وہ کمبوڈیا جس کی سرحدیں امریکہ
سے برسرِ پیکار ویتنام سے ملتی تھیں۔اور جب ویتنامی گوریلے امریکہ کے اعصاب کو بری طرح جھنجوڑنے لگے اور امریکہ کو معلوم ہوا کہ
ان میں سے کچھ چھاپہ مار ایکشن کے بعد سرحد پار کرکے کمبوڈیا میں پناہ لیتے ہیں تو اس نے پہلا کام تو یہ کیا کہ شہزادہ سہانوک
کی پاپولر حکومت کو برطرف کروا کر اپنی پسند کا فوجی جنرل تخت پر بٹھوایا۔اسکے بعد ویتنام سے متصل کمبوڈیا کے سرحدی علاقوں میں
غیر اعلانیہ طور پر کارپٹ بمباری شروع کردی۔اسکے ردِ عمل میں عام کمبوڈیائی نے خاموشی کے ساتھ اپنے ہی ملک کی حکومت کی حمایت سے
یا توہاتھ اٹھا لیایا پھر قوم پرست کھمیر روج انتہا پسندوں کے ساتھ ہمدردی میں بندھ گیا۔یہ جانے بغیر کہ کھمیر روج برسراقتدار
آ کر ملک کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے ۔
|
|
حکومت اور امریکہ کے ایک ہاتھ میں گاجر ہے تو دوسرے ہاتھ میں تلوار۔ جس طرح کمبوڈیا کی امریکہ نواز فوجی حکومت آخری دن تک اس معمے کو نہ حل کرپائی کہ آخر لوگ کھمیر روج کا ساتھ دینے پر کیوں مجبور ہیں اور ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہا کہ کھمیر روج بالاخر پلٹ کر انہی پر وار کریں گے۔اسی طرح امریکہ اپنے کمبوڈیائی تجربے کے باوجود یہ سمجھنے سے عاری ہے کہ تمام تر مسلح اور غیر مسلح کوششوں کے باوجود طالبان کا اثر قبائیلی علاقوں سے پاکستان کے شہری علاقوں کی جانب مسلسل کیوں بڑھ رھا ہے۔
بس حکومتوں کی یہی معصوم ادائیں اچھے بھلے ملکوں کو کمبوڈیا، الجزائر، یوگوسلاویہ اور بالاخر صومالیہ بنا دیتی ہیں۔