Sunday, 01 June, 2008, 10:43 GMT 15:43 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردوڈاٹ کام
سنا تو یہ تھا کہ مقابلے اور مسابقت کا رجھان مصنوعات کے معیار کو بہتر سے بہتر بناتا ہے ۔اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اس سے پاکستانی میڈیا کی صحت کیوں بہتر نہیں ہورہی۔
مثلاً پرنٹ میڈیا کو ہی لے لیں۔ایک زمانہ تھا کہ اخباری دفاتر میں اشتہار، خبر، تبصرے اور خواہش کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں رکھا جاتا تھا۔آج خبر اسے کہتے ہیں جو نامہ نگاری، کالم نویسی اور ذاتی تمناؤں کا ملیدہ ہو اور اشتہاروں سے بچ جانے والی جگہ پر شائع ہونے میں کامیاب ہوجائے۔
پہلے قاری صرف اخبار خریدتا تھا۔آج اسے اخبار کے ساتھ ایک چھلنی بھی خریدنی پڑتی ہے تاکہ وہ خبری کالم میں موجود ملیدے میں سے
حقیقت ، فسانہ اور تمنا الگ الگ کرسکے۔پہلے قاری اس امید پر بھی اخبار پڑھتا تھا کہ اسے نئے الفاظ اور زبان برتنے کا شعور ملے
گا۔آج قاری کو اخبار پڑھتے ہوئے یہ خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ اسے جو تھوڑی بہت زبان آتی ہے کہیں اس پر صحافتی لفظیات کے چھینٹے
نہ پڑ جائیں۔
|
|
چہار طرفہ دباؤ ، معاشی جبر اور سیاسی ، سماجی اور ذاتی مصلحتوں نے صحافت کو پیشہ نہیں رہنے دیا بلکہ صحافی کو پیشہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
اب اس اخباری معیار کو آپ دس سے ضرب دے کر الیکٹرونک میڈیا پر لاگو کیجیے۔اب سے پانچ ، سات برس پہلے جب نجی چینلوں کو لہلہانے کی اجازت ملی تو عام ناظر کو گمان ہوا کہ کیمرے کی موجودگی میں رائی کا پہاڑ بنانا اور دو اور دو پانچ کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے گا۔کیمرہ جب دودھ اور پانی الگ کرے گا تو سب اسے سنجیدگی سے لیں گے اور یوں سماج کی مجموعی سودے بازی کی قوت میں بھی نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ تحقیقاتی رپورٹنگ کو نئی زندگی ملے گی اور ناظر کی معلومات کے ساتھ اسکے علم میں بھی صوتی و بصری اضافہ ہوگا۔
لیکن مقابلے اور مسابقت کے اژدھے نے یہ سب امیدیں نگل لیں۔کوئی بھی ڈرامہ ، ٹاک شو ، خبرنامہ یا دستاویزی پروگرام ایک گھنٹے میں
مکمل طور پر دیکھنے کے لیے ناظر کو پینتیس منٹ کے اشتہارات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ٹھوس مواد کی قلت کے سبب مباحثوں اور ٹاک
شوز کی اس قدر بھرمار ہوگئی ہے کہ گفتگو باز اسی طرح کم پڑ گئے ہے جیسے بقرعید پر قصائی قلیل ہو جاتے ہیں۔
|
|
وہ آدمی جس کے بیان کواخبار میں صفحہ چھ پر سنگل کالم میں لگانے سے پہلے ڈیسک ایڈیٹر بھی سات بار سوچتا تھا ۔اب اسے صرف ایک چینل کو اطلاع دینی ہوتی ہے جس کے بعد باقی چینل اسکی پریس کانفرنس کو لائیو دکھانے کے لیے اسی طرح لپکتے ہیں جیسے سبز مکھی آم کے چھلکے پر۔حالت یہ ہوگئی ہے کہ اگر ایک چینل کی گاڑی ڈیزل بھروانے بھی جارہی ہو تو دیگر چینلوں کی گاڑیاں احتیاطاً اسکے پیچھے لگ لیتی ہیں۔
اپنا دماغ استعمال کئے بغیر ہر مینگنی کو پیڑہ سمجھ کر لپکنے کی اس بھیڑ چال نے اتنی گنجائش بھی نہیں چھوڑی کہ صحافت کے پیشہ ورانہ
بنیادی اصولوں کو خاطر میں لانے کے بارے میں کوئی سوچ بھی سکے۔چنانچہ اب ہر اسلم ، حمیدے، بھورل اور ظہورے کو یہ راز معلوم ہوگیا
ہے کہ ڈگڈگی سنتے ہی میڈیا کا بندر ناچنا شروع کردیتا ہے۔جنٹلمین بن کر دکھاتا ہے۔ڈنڈ بیٹھکیں نکالتا ہے اور تماشائیوں کے سامنے
پاپی پیٹ نکال کر چکر لگاتا ہے تاکہ حسب ِ توفیق کوئی بھی خبر یا تبصرہ یا ساؤنڈ بائٹ یا افواہ کشکول میں ڈال دی جائے۔
تو یہ ہے میڈیا اور اس کی آزادی کا قصہ !