Saturday, 27 October, 2007, 09:23 GMT 14:23 PST
علی احمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
شر انگیزی یا خانہ جنگی
شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور بگٹی علاقے کے بعد جمعرات سے وادی سوات میں بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی ہے۔ جمعرات کے روز شدت پسندوں نے ایک فوجی ٹرک پر حملہ کر کے 20 اہلکاروں کو ہلاک اور 34 کو زخمی کر دیا، اس طرح گزشتہ دس ماہ میں سوات میں مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد 63 ہوگئی ہے جبکہ 140 سے زیادہ زخمی بتائے جاتے ہیں۔
دوسرے دن یعنی جمعہ کو فوجی اہلکاروں نے شدت پسند رہنما مولانا فضل اللہ کے ہیڈ کوارٹر امام ڈئری پر حملہ کر دیا اور یہ لڑائی چھ گھنٹے جاری رہنے کے بعد بغیر کسی اعلان کے دونوں طرف سے روک دی گئی۔ جمعہ کو ہی مولانا فضل اللہ کے ترجمان مولانا سراج الدین نے بتایا کہ اس لڑائی میں ان کا ایک ساتھی ہلاک اور تین زخمی ہوئے جبکہ پانچ سرکاری اہلکاروں کا گلا کاٹ کر ہلاک کردیا گیا۔ ادھر یہ اطلاع ہے کہ مولانا فضل اللہ سوات میں فوج کی تعیناتی کے فوراً بعد امام دئری سے دیر چلے گئے ہیں اور وہیں روپوش ہیں۔ اب لڑائی میں تو لوگ مارے جاتے ہیں لیکن گلا کاٹ کر مارنا ایک بڑی مکروہ حرکت ہے مولانا فضل اللہ کے ساتھی ایسی حرکتیں بھی کرسکتے ہیں اس کا مجھے یقین نہیں آتا۔اب دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے اور کون کتنے گلے کاٹتا ہے ۔
عام خیال ہے کہ یہ کارروائی بڑی تاخیرسے کی گئی ہے اور اس کی تکمیل میں بھی اتنی ہی مشکلات پیش آسکتی ہیں جتنے لال مسجد کے قضیےسے نمٹنے میں۔سوات کے کچھ عمائدین کا خیال ہے کے جب اتنی تاخیر ہو ہی گئی ہے تو بہتر یہ ہے کہ اس مسئلے کو گفت وشنید سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ وزیرستان والی صورتحال پیدا نہ ہو اس لیے کہ یہ علاقہ بھی اتنا ہی دشوارگزار ہے جتنا جنوبی اور شمالی وزیرستان کا اور یہاں بھی فوج کی نقل وحمل میں اتنی ہی دشواری پیش آسکتی ہے جتنی وہاں آ رہی ہے اور نتیجہ یہ کہ وہ کارروائی کرتے ہیں تو فوجی اغوا کر کے لیجاتے ہیں، فوجی کارروائی کرتے ہیں تو بچوں اور عورتوں کو مار کے چلے آتے ہیں۔ اس سے شدت پسندوں کی سرکوبی تو کیا ہوگی مزید شدت پسند پیدا ہوجاتے ہیں۔
مجھے تو کبھی کبھی صدر پرویز مشرف کا دور حکومت اورنگزیب عالم گیر کا دور حکومت لگتا ہے جس کی ساری عمر باغیوں اور شرپسندوں کی سرکوبی میں گزرگئی لیکن نہ بغاوتیں فرو ہوئیں نہ شرپسندی ختم ہوئی ہاں اس کے گزرتے ہی مغلیہ سلطنت کا شیرازہ ضرور بکھر گیا۔
انتخابی مہم
پاکستان میں یوں تو انتخابی مہم کا آعاز صدارتی انتخابات سے پہلے ہی ہوگیا تھا اور بڑے طمطراق سے ہوا تھا، صدر صاحب اور پنجاب کے وزیراعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دور میں کیے جانے والے کاموں کا ذکر بڑے شاندار طریقے سے اخبارات کے صفحات اور ٹی وی چینل پر بڑے بڑے اشتہاروں کی شکل میں کیا گیا۔ اگرچہ یہ اب بھی جاری ہے لیکن پہلا جیسا جوش و خروش نہیں پایا جاتا اور صدر صاحب کے حصے کے اشتہار تو خاصے کم ہوگئے ہیں۔
![]() | |
| انتخابی مہم میں نجی زندگی اور خاندانی جھگڑے بھی زیر بحث آئیں گے |
یہ مہم وقت کے ساتھ تلخ ہوتی جارہی ہے۔ اگرچہ انتخابی کمیشن نے ضابطۂ اخلاق کا اعلان کر دیا ہے لیکن اس ملک میں ضابطے،قوانین اور آئین پر عمل درآمد ذرا مشکل سے ہی ہوتا ہے۔ اغلب یہی ہے کہ یہ مہم ایسی ہی چلتی رہے گی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الزام تراشی اور جوابی الزام تراشی کا سلسلہ شدت اختیار کرتا جائے گا، خوب کیچڑ اچھالی جائےگی اور چونکہ اس ڈرامے کے تمام اہم کرداروں کا ماضی کچھ نہ کچھ داغدار ہی رہا ہے اس لیے انگریزی محاورے کے مطابق یہ کیچڑ تھوڑی بہت ہر ایک پر چپکے گی بھی۔
سیاسی زندگی کی حد تک تو یہ کوئی ایسی بری بات نہیں ہے، اس لیے کہ ایک سیاسی رہنما کی سیاسی سرگرمیاں عوام الناس کی امانت ہوتی ہیں جنہیں برسر عام زیر بحث لانا چاہیے لیکن یوں لگتا ہے کہ اس مہم میں نجی زندگی اور خاندانی جھگڑے بھی زیر بحث آئیں گے اور بات نکلے گی تو دور تلک جائےگی۔
محترمہ بینظیر اور سانحہ کارساز
![]() | |
| پیپلز پارٹی کے کارکن بینظیر کے دورے کے شدت سے منتظر ہیں |
محترمہ اور امریکہ
یوں تو پاکستان میں مرحوم لیاقت علی خان سے آج تک ہر سیاسی رہنما جو اقتدار کا مزہ چکھ چکا ہے یا اقتدار کا متمنی ہے امریکہ کی جانب ایسی ملتجیانہ نظروں سے دیکھتا ہے جیسے یتیم اور نادار بچے کھاتے پیتے لوگوں کی جانب کہ اے کاش! وہ انکے سر پر اپنا دست شفقت رکھ دیں۔
![]() |
محترمہ کو سمجھنا چاہیے کہ ایک توصدر جنرل مشرف سے انہوں نے سلسلہ جنبانی کر کے ان کی غیرمقبولیت بانٹ لی ہے، اب ایسی کھلی ڈلی امریکہ نوازی کر کے وہ اپنی پارٹی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔امریکہ پر اتنا انحصار ذرا معیوب لگتا ہے۔ اپنے کسی بیان، تقریر یا انٹرویو سے یہ تاثر بھی تو دینے کی کوشش کریں کہ انہیں امریکی بیساکھی سے زیادہ اپنے عوام کے شانوں اور بازوؤں کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ احساس تو ہونا چاہیے کہ ان کے خیرمقدم میں آنے والے اور مرنے والے امریکی نہیں پاکستانی ہی تھے۔
حکومت اور سیاسی جماعتوں کا دیوالیہ پن
پاکستان میں یوں تو 90 سے زیادہ سیاسی جماعتیں ہیں جن میں سے بیشتر ایک تانگے یا ٹیکسی میں آجائیں گی سو ان سے تو شکایت کرنا ہی غلط ہے لیکن جو بڑی اور اہم ہیں ان میں سے بھی کسی نے اب تک نہ اپنا منشور جاری کیا ہے نہ اہم داخلی اور خارجی امور سے متعلق اپنی آئندہ حکمت عملی کا ذکر کیا ہے، ایسی صورت میں صرف وہی لوگ ووٹ دینے جائیں گے جنہیں زبردستی لے جایا جائے گا یا پھر جنہیں اپنے امیدوار سے جذباتی لگاؤ ہوگا، باقی جو سوچ بچار کے بعد ووٹ ڈالتے ہیں انہیں تو اب تک ہر پارٹی ایک ہی جیسی لگ رہی ہے۔