Wednesday, 19 September, 2007, 04:05 GMT 09:05 PST
علی احمد حان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
صدر جنرل پرویز مشرف بالآخر وردی اتارنے پر تیار ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی نو رکنی بنچ کے سامنے انکے وکیل جناب شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ اگر انکے موکل یعنی صدر اگر دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ اپنے عہدے کا حلف لینے سے پہلے فوج کے سربراہ کہ عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔
وزیر اطلاعت جناب درانی نے ایک بیان میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ جنرل صاحب کا یہ فیصلہ حتمی(اٹل) ہے۔ جنرل پرویز مشرف کا یہ فیصلہ بہت صائب ہے لیکن اس فیصلے پر پہنچنے میں انہوں نے بہت دیر کردی، اتنی کہ ممکن ہے اب یہ فیصلہ بھی انکے خلاف جائے۔
ایوب خان صاحب جب اقتدار میں آئے تو لوگ موقع پرست سیاستدانوں اور انکی محلاتی سازشوں سے اتنے تنگ آچکے تھے کہ انہوں نے مارشل لاء جیسی لعنت کو بھی وقتی طور پر قبول کرلیا۔ لیکن جب عوام کو یہ احساس ہوگیا کہ محترم نے تمام برائیوں اور بدعنوانیوں کو بنیادی جمہوریت کی شکل میں ایک ادارے کی حیثیت دیدی ہے۔ تو پھر انہوں نے انکے خلاف تحریک چلائی اور جب 1968 میں یہ تحریک اپنے عروج پر تھی تو ایوب حکومت پورے ملک میں بڑی دھوم دھام سے عشرۃ ترقی منارہی تھی اس پر طرا یہ کہ انکے حواریوں نے، جو انہیں فیلڈ مارشل پہلے ہی بنا چکے تھے اب ملک کا تا حیات صدر بنانے کی بات کرنے لگے۔
جناب بھٹو بھی اگر 1977 کے انتخابات میں اپنے دشمن نما دوستوں کو قابو میں رکھتے اور انتخابات کے فوراً بعد انتخابی دھاندلیوں کا ازالہ کرنے کی سعی کرتے تو شائد ضیاءالحق کو انہیں اقتدار سے ہٹانے کی ہمت نہیں ہوتی۔
ضیاءالحق مرحوم نجی زندگی میں پتہ نہیں کیسے آدمی تھے لیکن انکے دور میں اسلام اورپاکستان کے نام پر جو کھیل کھیلے گئے اور جو مظالم ڈھائے گئے اس کے بعد تو یقین مانئے ان کے حق میں دعا کرنے والے بہت کم لوگ رہ گئے تھے۔
ایوب خان نے بھی دیر کر دی تھی |
پرویز مشرف صاحب بھی جب اقتدار میں آئے توانہوں نے جو دعوے کئے تھے اس کے بعد تو یہ محسوس ہونے لگا تھا ان کی کابینہ میں تمام وزیر ایسے پاک صاف لوگ ہونگے کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوع کریں والی کیفیت ہوگی لیکن معلوم ہوا کےانہوں نے بھی آزمائے ہووں کو ہی آزمایا۔ کچھ لوگ جو شروع میں انکے ’جذبۂ خدمت‘ سے متاثر ہوکر انکے ساتھ ہو لیے تھے وہ بھی دامن چھڑا کر بھاگے اور جو رہ گئے تھے وہ وردی کی مخالفت کے گرم میں نکالے گئے۔
ان تمام باتوں کے باوجود میں جناب صدر کے وردی اتارنے کے فیصلے کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہوں لیکن بڑی دیر کردی مہرباں یہ فیصلہ کرتے کرتے۔خاکم بدہن، اب تو بات وردی سے آگے بڑھتی نظر آرہی ہے۔