Wednesday, 12 September, 2007, 13:22 GMT 18:22 PST
اجمل کمال
کراچی
شخصی مناقشے اور معرکے تو ادبی رسالوں میں بہت دیکھنے کو مل جاتے ہیں، لیکن اگر آپ ادبی رسالوں میں ہونے والی بحثوں کے ذریعے معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں اور دورحاضر کے تہذیبی مسائل کی جھلکیاں دیکھنا چاہیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ کو مایوسی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اردو رسالوں میں پائی جانے والی بحثوں کی ایک عام قسم وہ ہے جن میں مثلاً انشائیہ یا غزل جیسی کسی صنف کی برتری اور کمتری پر زوردار انداز میں اظہار خیال کیا جاتا ہے اور دوسری قسم وہ جو شخصی مناقشوں پر مشتمل ہے۔
اس صورت حال کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہے کہ اردو کے پرانے اور معتبر ادبی رسالے ایک ایک کر کے بند ہوتے چلے گئے یا اپنا معیار اور اعتبار برقرار نہ رکھ سکے۔ لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ صورت حال کا یہ عنصر اب تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور پچھلے چند برسوں میں متعدد نئے ادبی رسالے جاری ہوئے ہیں۔ یہ رسالے عموماً ایسی پابندی سے شائع نہیں ہوتے جیسے مثلاً ماہنامہ ’افکار‘ شائع ہوتا تھا، لیکن چونکہ ان کے پڑھنے والے (اور بہت سے لکھنے والے بھی) مشترک ہیں اس لیے آسانی یہ ہے کہ کسی ایک رسالے میں کسی موضوع پر شروع ہونے والی بحث کو دوسرے رسالوں میں بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔
![]() |
ظفر اقبال نے اپنے تبصرے میں مترجم شاعرہ کی یہ دلچسپ ہدایت نقل کی ہے: ’یہ ترجمہ بہرحال ’آسان اردو‘ والوں کے لیے نہیں کیا گیا۔ جو خواتین و حضرات اردو شاعری کے اساتذہ کا کلام نہیں سمجھ سکتے وہ اس کتاب کو فی الفور طاق پر رکھ دیں تو مترجم کو چنداں اعتراض نہیں۔‘ اس ہدایت پر ظفراقبال کا تبصرہ بھی اتنا ہی دلچسپ ہے: جس شاعری سے لطف اٹھایا جا سکتا ہو سمجھ میں بھی وہی آتی ہے جب کہ شاعری کو سمجھنے کی خاطر پڑھنا آج کے قاری کے لیے محض دردِ سر ہی کا درجہ رکھتا ہے۔ ...علاوہ ازیں، غزل کے نام پر جس ٹریش کے انبار لگائے جا رہے ہیں قاری تو اسی کی یبوست اور یکسانیت سے آخری حدوں تک بیزار ہے، چہ جائے کہ اسے سال ہا سال پہلے کی روٹین قسم کی شاعری کو ’سمجھنے‘ پر مامور کر دیا جائے‘۔
![]() |
اوپر ظفراقبال کی بطور غزل گو بسیارگوئی کا ذکر آیا تھا۔ یہ بھی مختلف رسالوں کے مراسلات کے کالم میں بحث کا موضوع رہتی ہے۔ ’دنیازاد‘ کے تازہ ترین شمارے میں ساقی فاروقی کا ایک مختصر مگر دھماکہ خیز خط شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے ظفراقبال کی بقول ساقی ’بوگس‘ غزلوں پر اپنے پیمانۂ صبر کے لبریز ہونے کی اطلاع دی ہے اور اوکاڑہ جا کر ظفراقبال کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے جواب میں ان کے مجروح کی یہ پھبتی بھی سینہ بہ سینہ گردش کر رہی ہے کہ ’چہ ساقی اور چہ ساقی کا شوربہ!‘ مذکورہ بحث سے دلچسپی رکھنے والے قارئین اس کے اگلے مرحلے کا تماشا دیکھنے کے لیے ’دنیازاد‘ کے اگلے شمارے کے بے تابی سے منتظر ہیں۔
ان میں سے بعض ردعمل تو پاکستانی معاشرے کے قدیم تعصبات کا اظہار کرتے ہیں اور کسی تعجب کا باعث نہیں بنتے۔ مثلاً ’کیا افتخار نسیم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ جس مکروہ زندگی کو گزار رہے ہیں اس کا برملا اظہار کر کے وہ کسی اخلاقی بلندی پر فائز ہو گئے ہیں؟‘ لیکن انکشاف کی بات یہ ہے کہ اس انٹرویو نے کئی پڑھنے والوں کو سوچنے اور اس میں اٹھائے گئے سوالات پر غور کرنے پر آمادہ کیا۔ ان میں سے ایک قاری کا خیال ہے کہ ’شاید ہمیں سماجی قبولیت کی حدوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے‘۔