Thursday, 23 August, 2007, 17:38 GMT 22:38 PST
وجاہت مسعود
لاہور
فطری طور پر مسلم لیگ (نواز) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی خوشی دیدنی ہے لیکن پاکستان کے غیر جانبدار جمہوریت پسند عوام بھی اس فیصلے پر مسرور ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال قابلِ بحث ہی نہیں کہ نواز شریف وطن واپس آئیں گے یا نہیں۔ کوئی سیاستدان ان حالات میں وطن واپسی کے واضح اور غیر معمولی سیاسی فوائد سے محروم رہنا پسند نہیں کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ صدر مشرف ایک ہفتہ قبل اخباری مدیروں سے گفتگو میں جلاوطن سیاسی رہنماؤں کو وطن سے باہر رہنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا رسمی اعلان ایک بات ہے جب کہ اس کے سیاسی عواقب کو برداشت کرنا بالکل مختلف امر ہے۔ قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں جس کی مدد سے صدارتی سطح پر دی گئی معافی کو واپس لیا جا سکے۔ البتہ ایسے مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے جن پر ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔
شاید اسی خدشے کے پیشِ نظر آٹھ اگست کی رات کو مشرف حکومت سے ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کر رہی تھی۔ باخبر حلقوں کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ محض بیرونی مداخلت کے باعث روکنا پڑا۔ ایسے بیرونی عوامل تو اب بھی موجود ہیں۔ قبائلی علاقوں میں تصادم کی صورت حال گھمبیر سے گھمبیر تر ہو رہی ہے۔ امریکہ کی موجودہ حکومت اپنے آخری برس سے گزر رہی ہے اور ممکنہ صدارتی امیدواروں کے بیانات سے عوامی رجحانات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ چنانچہ پاکستانی حکومت مخمصے کا شکار ہے کہ نواز شریف کو آزادانہ طور پر سیاسی عمل میں حصہ لینے دیا جائے یا ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔
عدالتی فیصلے سے آن کی آن میں ملک کا سیاسی توازن درہم برہم ہو گیا ہے۔ ہفتہ بھر پہلے تک معلوم ہوتا تھا کہ پیپلز پارٹی انتخابات میں آسانی سے سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔ نواز شریف کے ملک میں موجود ہوتے ہوئے یہ بات ایسے یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ سرکاری مسلم لیگ کا رنگ تو اڑنے سے پیشتر بھی زرد ہی تھا۔ اب تو شاید اس پر مزید پانی پھر گیا ہے۔
رنگ زرد ہے ![]() |