http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 19 August, 2007, 12:18 GMT 17:18 PST

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

نازی گردہ فروش

ڈاکٹر جوزف مینگل آشوٹز کنسنٹریشن کیمپ میں قیدیوں کو گیس چیمبرز میں بھیجنے کے لئے منتخب کرنے کے کام کا نگراں تھا۔ جب وہ یہ کام نہیں کرتا تھا تو قیدیوں پر طبی تجربات کرتا تھا۔ جب وہ قیدی ڈاکٹر مینگل کی تجرباتی آپریشن میز پر مرجاتے تھے تو انہیں برقی بھٹی میں جلا دیا جاتا تھا۔

اسی آشوٹز کیمپ میں ڈاکٹر کارل کلو برگ بھی موجود تھا۔ جس نے ہزاروں قیدی عورتوں پر بانجھ پن کے تجربات کیے۔ان عورتوں کو جو آزمائشی کیمیاوی انجکشن لگائے جاتے ان سے عورتوں کو ناقابل برداشت درد ہوتا۔ ان کے رحم پھول کر پھٹ جاتے، انتڑیاں جل جاتیں اور وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتیں۔ جبکہ ڈاکٹر کارل تولیدی مواد پر ریسرچ کے لیے زندہ قیدی مردوں کے خصئیے نکال کر پہلے خود تجربات کرتا اور پھر یہ خصیےمزید تجربات کے لئے نازی مقبوضہ بیلا روس کی ایک لیبارٹری میں بھجوا دیے جاتے۔

محاذ جنگ پر زخمی ہونے والے فوجیوں کی قوتِ برداشت کس نوعیت کے زخم کے نتیجے میں کتنی کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ جاننے کے لئے ایک نازی ڈاکٹر ھارتا اوبر ہاؤسر اپنی تحویل میں رہنے والے قیدیوں کو زنگ آلود کیلوں، شیشے اور لکڑی کے ٹکڑوں سے زخمی کرتی اور پھر ان زخموں پر دھاتی برادہ رگڑا جاتا جس کے بعد قیدیوں کی تکلیف کا درجہ ناپا جاتا۔

ڈاکٹر ہارتا بچوں کو تیل اور ایوی پین کے انجکشن لگا کر یہ تجربے بھی کرتی تھی کہ مختلف عمروں کے بچے مرنے سے پہلے کتنا درد برداشت کر سکتے ہیں۔ عام طور سے بچے انجکشن لگنے کے تین سے پانچ منٹ کے اندر مرجاتے لیکن آخری سانس نکلنے تک وہ پوری طرح با ہوش و حواس رہتے۔

عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد جرمن شہر نورمبرگ میں اکتوبر انیس سو چھیالیس میں ’میڈیکل‘ ٹرائل شروع ہوا جس میں تئیس جرمن ڈاکٹروں اور سائنسدانوں پر غیر انسانی طبی تجربات کرنے کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ان میں سے سات کو سزائے موت اور آٹھ کو قیدِ طویل ملی جبکہ آٹھ ڈاکٹر بری ہوگئے۔

آج ان نازی ڈاکٹروں میں سے کوئی زندہ نہیں۔ مگر ان کی بھٹکی ہوئی روحیں ان ڈاکٹروں اور ان کے سرپرستوں میں سرائیت کر گئی ہیں جنہوں نے پچھلے بارہ برس میں ہزاروں بے خبر، نادار اور ان پڑھ لوگوں کے گردوں پر ڈاکہ ڈال کر پاکستان کو عالمی گردہ بازار بنادیا ہے اور کروڑوں ڈالرز سے اپنی جیبیں بھر لی ہیں۔

نازی ڈاکٹروں کو ہٹلر کی آشیرواد حاصل تھی جبکہ پاکستانی گردہ چور بے نظیر سے پرویز مشرف تک ہر حکومت کےدوران کھل کھیلے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی خریدو فرو خت کی روک تھام اور سزا کے قانون کا مسودہ انیس سو بانوے سے تیار پڑا ہو۔ لیکن چار پارلیمانیں اسے منظور نہ کرپائیں اور اب یہ معاملہ پانچویں پارلیمنٹ کے لئے چھوڑا جارہا ہے۔

جو قانون چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت اور پاکستان کے سب سے بڑے ماہرِ گردہ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی چیخ و پکار کے باوجود نہ بن پایا اب اسے بنوانے اور نافذ کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔

یعنی کوئی انسانیت کا درد رکھنے والا کونڈولیز رائس سے درخواست کرے کہ وہ اسلام آباد ایک اور فون کریں اور جلدی کریں۔