Sunday, 12 August, 2007, 14:31 GMT 19:31 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
مجھے کل صوبہ سندھ کے ایک شہری کا خط موصول ہوا ہے جسے مِن و عن آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
وسعت اللہ خان جی
میں سن چھیاسٹھ سے بی بی سی اردو اور ہندی سن رہا ہوں۔ لیکن آج پہلی دفعہ خط لکھنے کو جی چاہا۔ جب پارٹیشن ہوئی تو میری عمر چوبیس سال تھی۔ شکار پور اور سکھر میں ہمارے خاندان کا آڑھت کا جما جمایا کاروبار تھا۔
اس زمانے میں پنجاب اور آس پاس کے علاقوں سے دنگوں کی خبریں ملتی رہتی تھیں۔ چنانچہ پریشان ہو کر ہمارے دور نزدیک کے کئی رشتے داروں نے انڈیا جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ہمارے پتاجی نے ہم دو بھائیوں اور ماں کو صاف صاف کہا کہ جب تک ہماری جان کو خطرہ نہ ہو ہم اپنی جنم بھومی نہیں چھوڑیں گے۔
سچی بات یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں کوئی دنگا نہیں ہوا اور مسلمان بھائیوں نے اس خطرناک زمانے میں ہمارا ہر طرح سے خیال کیا اور یوں ہمارے پیر آج تک اس دھرتی پر جمے ہوئے ہیں۔
آج میری پڑپوتی نے جو فرسٹ ائیر میں پڑھتی ہے ٹی وی دیکھتے دیکھتے مجھ سے اچانک پوچھا بابا کیا کوئی ہندو پاکستان کا صدر یا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے۔ میں نے کہا نہیں بن سکتا کیونکہ قانون کے مطابق اس کا اکثریتی فرقے سے ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن بابا ہندوستان بھی ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا۔ وہاں ایسا قانون کیوں نہیں ہے۔
میں نے اپنی پڑپوتی سے کہا کہ ہر ملک کا اپنا قاعدہ قانون ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن بابا صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ تو کسی اور عہدے پر کوئی بھی پاکستانی آسکتا ہے نا؟ میں نے کہا بالکل آ سکتا ہے۔ جیسے جناح صاحب کی کابینہ میں جوگندر ناتھ منڈل وزیرِ قانون تھے۔ سر طفراللہ خان وزیرِ خارجہ تھے۔اس وقت تو ظفراللہ کے فرقے کو مسلمان سمجھا جاتا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ مسلمان نہیں تھے۔
میری پڑپوتی نے پوچھا کہ کیا کوئی غیر مسلم گورنر، چیف منسٹر، سپیکر یا فوج کا سربراہ بھی رہا ہے۔ میں نے ذہن پر بہت زور دیا لیکن کوئی نام یاد نہیں آیا۔ میں نے کہا بن تو سکتا ہے لیکن اتفاق ہے کہ اب تک شاید کوئی نہیں بنا۔
اس کے بعد اس بچی نے کچھ نہیں پوچھا اور وہ تھوڑی دیر ٹی وی دیکھ کر اٹھ گئی۔
وسعت جی ! میں چوراسی سال کا ہوں اور معلوم نہیں کب تک ہوں۔ میرے پِتا سمیت چار پیڑھیوں نے بغیر سوال پوچھے زندگی گزار دی۔ لیکن میں خوش ہوں کہ میری پڑپوتی کی پیڑھی نہ صرف سوال کرتی ہے بلکہ ان کے جواب بھی فوراً چاہتی ہے۔ امید کی بس یہی ایک کرن ہے جو مجھ سے کہتی ہے کہ شاید میری پڑپوتی کے بچوں کو ایسے سوالات کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
بھگوان آپ کو خوش رکھے
ایشور لال