Friday, 10 August, 2007, 13:29 GMT 18:29 PST
حسن مجتبی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
پاکستان اور افغانستان کے بیچ کھنچی ہوئی سرحدی لکیر کو سرکاری طور پر کتنا ہی ’ڈیورنڈ لائن‘ کہا جائے، اسکے دونوں پار کے بڑے ہوں یا پشتون بچے اسے ’کالی لکیر‘ ہی کہتے ہیں اور اب کالی لکیر والوں کا جرگہ ہورہا ہے۔
انگریز کی کالی لکیر بھی پٹھان کو نہیں بانٹ سکی تھی لیکن ملا اور پاکستان کی ملٹری نے اسے تقسیم کرکے رکھ دیا۔
میرے ایک پشتو شاعر دوست کا شعر ہے: ’میرے محبوب میں تیرے لیے پھول پشاور سے، اسپیلنے (خیبر کی پہاڑوں میں پیدا ہونے والے ہرمل کی بوٹی) خیبر سے اور حیا زابل کی خانہ بدوش لڑکی سے لاؤں گا‘۔
پشتون کالی لکیر سے پہلے بھی پشتون تھا کالی لکیر کے بعد بھی پشتون ہے۔
تقریباً دس برس قبل پاکستان میں جمہموریت کے بڑے داعی اور پشتون رہنما خان عبد الولی خان نے کہا تھا: ’میں پانچ ہزار سال سے پٹھان، چودہ سو سال سے مسلمان اور چالیس سال سے پاکستانی ہوں‘۔
پاکستانی ریاست اور اتھنو سینٹرک (نسلی مرکزیت پسند) سوچ رکھنے والوں کے منہ سے نکلی ہوئی بات کے تحت خان عبدالولی خان اور ان کے عظیم والد خان عبدالغفار خان عرف باچا خان اور تمام خاندان کو تا عمر ’ملک کا غدار' کہا جاتا رہا۔ سالہا سال گزر جانے کے باوجود بھی اس نام نہاد اسلامی ریپبلک اور اسکے ماہی جرنیلوں، کرنیلوں، ڈھول سپاہیوں اور سیاستدانوں نے اپنی زبان سے پھسلی ہوئی بات کی کبھی تصحیح نہیں فرمائی۔
![]() | |
| کابل جرگے کے موقع کابل میں لگائے گئے ایک بینر کی تصویر |
مجھے دکھ ہوا جب میں نے سنا کہ خان عبد الغفار خان جنہیں کالی لکیر کے دونوں پار کے پشتون باچا خان، بادشاہ خان یا خان بابا کہتے ہیں کے سرخپوش خدائی خدمت گار ساتھی اور صوفی حاجی ترنگزئي کے مزار پر بھی طالبان نے قبضہ کر کے اسے ’لال مسجد‘ کا نام دے دیا ہے۔
باچا خان نے انیس سو بیس کے عشرے میں اپنے آبائي چارسدہ اور دوسرے علاقوں میں غیر فرقہ وارایت اور عدم تشدد کے فسلفے کی بنیاد پر ایک آزاد مدرسے کی بیناد ڈالی تھی جسکے اولین طالب علموں میں ان کے اپنے فرزند اور بعد میں شاعر و فنکار عبدالغنی خان بھی شامل تھے۔
’میں تیرے رخ زیبا میں کھو کر اتنا بے خبر ہوگیا کہ نہ مجھے کعبے کا ہوش رہا نہ بت خانے کا‘۔ غنی خان کا ایک پشتو شعر ہے۔ کیا طالبان کی کوئی گولی یا ایم ایم اے کی حد اور حکومت غنی خان کے اس شعر پر بھی لاگو ہوسکے گي؟ پشتو کے ایک اور عظیم شاعر اجمل خٹک بھی ہیں۔ اکوڑہ نے صرف مولانا سمیع الحق ہی پیدا نہیں کیے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق حاجی ترنگزئي کے مزار پر قابض طالبان میں سے کچھ انگریزی بھی بول رہے تھے اور وضع قطع سے طالبان نظر نہیں آتے تھے، تو مجھے افغان حکومت اور کچھ آزاد میڈیا کی وہ رپورٹیں یاد آئيں کہ طالبان کے بھیس میں ایجنسیوں والے ایسی کارروائيوں میں سرگرم ہیں۔
کالی لکیر کے دونوں پار رہنے والے پشتوں کہتے ہیں کہ وہ اب کئي سالوں سے سیہ بختی کا شکار ہیں کیونکہ کالی لکیر کے دونوں پار پختون مر رہے ہیں۔
میرا ایک دوست مجھے بتاتا ہے کہ خان بابا کہتے تھے کہ کالا باغ ڈیم پختونوں کی تباہی ہے تو پھر ان کے کہنے کو کون ٹال سکتا ہے۔
عدم تشدد کے پیغمبر خان عبد العفار خان نے ایک ناقابل یقین پشتون کا تصور دیا تھا یہ اقبال کا شاہین نہیں تھا بلکہ ’ان آرمڈ‘ یا ’غیر مسلح پٹھان‘ کا تصور تھا۔
![]() | |
| کابل جرگے میں شریک مندوب روایتی لباس میں |
’پختون سوسائٹی بٹ چکی ہے۔ ملا نے پختون سوسائٹی کو بانٹ دیا ہے‘۔ ایک پسشتون صحافی نے مجھ سے کہا کہ ’ہر محلے میں کم از کم پانچ کے لگ بھگ مساجد ہیں اور ہر مسجد میں ایک ملا اور اس کے پانچ سو سے زیادہ سامعین ہیں۔ سامعین کے حلقے کی اتنی بڑی تعداد پاکستان میں اس سے پہلے نہ میڈیا کو تھی نہ کسی سیاستدان کو جتنی کہ ملا کو میسر ہے‘۔
جب پاکستان کی قومی شاہراہوں پر چلتے بہت سے ٹرکوں پر سے اداکار بدر منیر، اداکارہ مسرت شاہین (بقول شخصے بمقابلہ مولانا ڈیزل) اور خان عبد الولی خان اور خان عبدالغفار خان یا یوسف خان، شہر بانو اور عجب خان آفریدی کی پینٹنگز کی جگہ اسامہ بن لادن کی تصویریں یا ملا عمر زندہ باد کے نعروں نے لی تو اس سے بہت پہلے پشتوں سماج کا شیزارہ بکھر چکا تھا۔ یہ کس نے بکھیرا: ملاؤں نے، مجاہدین نے یا کمیونسٹوں نے کہنا بہت مشکل ہے۔
![]() | |
| افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز کی جرگے کے دوران مشاورت |
جرگے میں کوئی ثالث نہیں ہے، جوپختون جرگے کا ایک اہم ستون ہوتا ہے۔ اس میں تو سب مار کھائے ہوئے ہیں۔ مظلوم ہیں۔ ’اے خدا کبھی ہم پشاور میں قتل ہوتے ہیں اور کھبی کابل میں‘۔ یہ ایک جدید پشتو ٹپے کے بول ہیں۔ اب تک صرف قبائيلی علاقوں میں سترہ ہزار لوگ مرچکے ہیں۔
انیس سو نوے کی دہائي میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت میں جب افعانستان کے تب کے وزیر خارجہ شہزادہ محی الدین نے کہا تھا کہ پاکستان کو وہ پختون علاقے واپس کرنا پڑیں گے جن پر اس نے قبضہ کیا ہوا ہے، بہت سے پختون قوم پرست سمجھتے ہیں کہ اٹھارہ سو ننانوے میں امیر عبدالرحمان کا انگریزوں سے ایک سو سال کیلیے کیا ہوا معاہدہ انیس سو نناوے میں ختم ہوچکا ہے۔ وہ کہتے ہیں پاکستان کی آئي ایس آئی اور فوجی ایجینسیوں نے کالی لکیر کو خون کی لکیر میں بدل دیا اور پشتون سماج کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلیے پشتونوں پر طالبان مسلط کردیے، جن کے ذریعے وہ اس ڈیورنڈ لائن یا کالی لکیر کو قائم رکھنا چاہتے تھے جسے پشتون دل و دماغ نےکبھی قبول نہیں کیا۔
![]() | |
| کابل جرگے میں شریک پاکستانی وفد |