Sunday, 01 July, 2007, 14:03 GMT 19:03 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
اپنے ہی کنارے توڑنے والے غصیلے دریاؤں کا غیض وغضب روکنا ہماری طاقت سے باہر ہے لیکن بند بنانا اور ان کی مسلسل دیکھ بھال کرنا تو ہماری ذمہ داری ہے۔ زلزلے کے آگے ہم سب لاچار ہیں۔ لیکن اس کے نقصانات کو کم سے کم رکھنے کے لیے فنِ تعمیر اور طرزِ زندگی میں ضروری تبدیلی تو ہمارا ہی کام ہے نا!
سمندری طوفان کے سامنے بھلا کون ٹھہر سکتا ہے۔ مگر اس طوفان کی کئی روز قبل اطلاع دینے والے نظام اور اس اطلاع کی ہر عام آدمی تک بروقت ترسیل کا نظام قائم کرنا تو ہمارا ہی فرض ہے نا!
بالفرض اگر یہ سب کرنا ہمیں محال لگتا ہے تو ایک ایسے خودمختار ادارے کی تشکیل میں آخر کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں جو قدرتی آفات سے آنے والی تباہی کے اثرات سے نمٹنے والی لازمی سرکاری تنظیموں اور نجی شعبے کے امدادی وسائل کو بروقت یکجا کرسکے۔
قدرت نے کبھی منہ پر تھپڑ لگا کے تو کبھی بال کھینچ کر ایک مرتبہ نہیں سینکڑوں دفعہ ہمیں اپنی انسانی ذمہ داریاں یاد دلانے کی کوشش کی لیکن ہم ہیں کہ ہر مرتبہ ساری ذمہ داری خدا پر ڈال کے ہاتھ جھاڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔
پچھلے ساٹھ برس کے دوران کوئی عشرہ ایسا نہیں گزرا جب تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد نہ مرے ہوں۔ لاکھوں بے گھر نہ ہوئے ہوں۔ بے شمار کھڑی فصلیں تباہ نہ ہوئی ہوں اور اربوں روپے کا اقتصادی نقصان نہ ہوا ہو لیکن پاکستانی حکومتیں اس دوران میں ایک کاغذی فلڈ وارننگ سسٹم سے زیادہ کچھ نہ بنا سکیں۔
![]() |
انیس سو اٹھانوے میں مکران میں ڈیڑھ ہزار افراد پہاڑی سیلابوں میں بہہ گئے اور اس کے اگلے برس ٹھٹھہ اور بدین کو سمندری طوفان نے کنگال کردیا لیکن تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی ایسا مربوط امدادی نظام نہ بنایا جاسکا جو تازہ ترین تباہی کے نقصانات گزشتہ تباہی کے مقابلے میں کم کردیتا۔
انیس سو چوہتر میں شمالی علاقہ جات اور پھر دو ہزار پانچ میں کشمیر اور صوبہ سرحد میں تباہ کن زلزلے آئے۔ حکومتوں نے دونوں مرتبہ احتیاطی تدابیر وضع کرنے اور بلڈنگ کوڈ کے سختی سے نفاذ کا وعدہ کیا۔ لیکن میڈیا نے نہ سن چوہتر میں اور نہ ہی سن دو ہزار پانچ کے بعد سرکاری دعوؤں اور عملی کام میں فرق کو جانچنے کی سنجیدہ کوشش کی۔
کاش کوئی حکومت ایسی بھی آئے جو قدرتی آفات کو بھی طالبان، وزیرستانی پٹھانوں اور کوہلو اور ڈیرہ بگتی کے بلوچوں کے خطرے کے برابر سمجھ کر ان آفات سے ترجیحی طور پر نمٹنے میں مخلص ہو۔
کن نیندوں سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔