http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 24 June, 2007, 11:47 GMT 16:47 PST

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

انوری اور کراچی

مجھے اس شخص کی تلاش ہے جس نے کراچی کو عروس البلاد کہا تھا۔

اس سال لوڈ شیڈنگ کے خوفناک بحران اور بارہ مئی کے خون خرابے کے بعد مرے پر سوواں درہ سنیچر تئیس جون کو پڑا جب طوفانِ بادو باراں نے سو سے زائد افراد کی جان لے لی اور دو سو سے زائد زخمی اسپتال پہنچ گئے۔وجوہات میں مکانات، درختوں اور کمرشل ہورڈنگز کا گرنا اور کرنٹ لگنا شامل ہیں۔

نہ تو یہ تباہی ناگہانی تھی اور نہ ہی یہ کبھی کبھار آئی ہے۔

دنیا کے ہر اچھے شہر میں کمرشل ازم اور انسانی تحفظ کو ایک خاص تناسب میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن آپ اگر کراچی ائرپورٹ سے نکل کر شہر کی پچیس کلومیٹر مرکزی شاہراہ فیصل پر سفر کرلیں تو آپ کو یوں لگے گا جیسے پورے راستے کو کمرشل ہورڈنگز نے اپنے محاصرے میں لے رکھا ہے۔

اتنے بڑے بڑے ہورڈنگز جنہوں نے پوری پوری عمارتیں چھپا رکھی ہیں۔ یہ ہورڈنگز ایک خاص علاقے میں کتنی تعداد میں اور کن زاویوں سے اور کتنی مضبوطی سے نصب ہونے چاہیں۔اگر اس بارے میں کوئی ضابطہ یا قانون ہے بھی تو عام آدمی نہیں جانتا۔

تئیس جون کو کراچی میں جتنی ہلاکتیں ہوئیں ان میں سے بیس سے زائد افراد ہورڈنگز گرنے سے ہلاک ہوئے۔

اگر پچھلے چھ عشروں کے اعدادو شمار جمع کیے جائیں تو اب تک ہزاروں افراد محض کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوچکے ہیں کیونکہ بارش اور تیز ہوا کے سبب بجلی کے تار کھمبوں سےٹوٹ کے گر پڑتے ہیں اور راہ گیر ان سے الجھ جاتے ہیں۔ کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو اب تک شہری انتظامیہ اور بجلی کا محکمہ ان اموات کا اربوں روپے ہرجانہ دے دے کر دیوالیہ ہوچکا ہوتا۔ لیکن کراچی میں تو یہ بھی نہ ہوسکا کہ نئی رہایشی سکیموں میں بجلی کے کھمبوں کے فرسودہ نظام کے بجائے زیرِ زمین تار بچھا کر فراہم کرنے کا ہی تجربہ کرلیا جاتا۔

کراچی میں کہنے کو ایک بلڈنگ کوڈ بھی نافذ ہے لیکن ایسی بیسیوں عمارات ہیں جو بارش یا گندے پانی کی نکاسی کے نالوں کو پاٹ کر اٹھائی گئی ہیں۔ یوں ذرا سی بارش کے نتیجے میں غریب علاقوں کو تو چھوڑیئے جدید علاقوں میں بھی کئی کئی روز کے لیے پانی کھڑا ہوجاتا ہے اور پانی کی بیماریوں کے نتیجے میں شہر کے دگرگوں نظامِ صحت کی کمر دوہری سے تہری ہوجاتی ہے۔

کراچی میں یا تو تمام اہم شاہراہیں برسوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں یا اب سب شاہراہوں کو الیکشن سے پہلے نیا کرنے کے لیے انہیں یکطرفہ یا دوطرفہ کھود دیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ٹریفک کا جو حال ہے اس کا الزام بارشوں پر رکھا جارہا ہے۔
کراچی میں زیادہ تر افراد دیواریں، سائن بورڈ، کرنٹ لگنے اور سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے ہیں
ہر سال مون سون سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے کے فول پروف انتظامات کی نوید ملتی ہے اور ہر سال کاغذی منصوبے تاش کی گڈی کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ مون سون تو بے چارا ماہ ڈیڑھ ماہ کے لیے آتا ہے۔ باقی دس ماہ پندرہ دن کا الزام کسے دیا جائے۔

اگر صرف ایک دن میں یہ اس شہر کی درگت ہے جسے دنیا کا دسواں بڑا شہر اور پاکستانی معیشت کا انجن کہا جاتا ہے جہاں ملک کی پندرہ فیصد آبادی رہتی ہے جس شہر کا ترقیاتی بجٹ پانچ ارب روپے کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے اور جو ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں قومی خزانے کو چالیس فیصد سے زائد رقم فراہم کرتا ہے۔ تو پھر اسلام آباد کو چھوڑ کر باقی کسی شہر کے بارے میں کیا کہا جائے۔

ایران کے کلاسیکی شاعر انوری نے سینکڑوں برس قبل ایک شعر کہا تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ آسمان سے جو بھی بلا اترتی ہے یہی پوچھتی ہے کہ انوری کا گھر کہاں ہے۔

بچارے انوری کو کیا معلوم تھا کہ وہ یہ شعر کراچی کے لیے کہہ رہا ہے۔