Tuesday, 08 May, 2007, 08:38 GMT 13:38 PST
حسن مجتبی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
اگر کسی نے آج تک گرینڈ ٹرنک روڈ عرف جرنیلی سڑک پر لاکھوں لوگوں کے دل فتح کیے ہیں تو وہ پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہیں جو پانچ مئی کو اسلام آباد سے چلے تھے اور چھ مئی کو لاہور پہنچے۔
وہ گذشتہ اتوار کو پو پھٹے ہزاروں شہریوں اور وکیلوں کے جلو میں ایک انقلاب(چاہے اسکا ایک ٹریلر ہی سہی) کی طرح لاہور میں داخل ہوئے ہوں گے۔ فیض احمد فیض کی نظم کی بجتی تیز رنگ ترنگ میں کہ ’ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے جب محکوموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی تھر تھر کانپے گي ۔۔۔۔‘
جس دن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے گھر ججز کالونی اسلام آباد سے پانچ مئي کو چلے تھے اس دن کو میرے شہر سان ڈیاگو میں ہسپانوی بولنے والے میکسیکو کے لوگ ’سنکو ڈی مایو‘ نامی ایک جشن کے طور مناتے ہیں کیونکہ پانچ مئی اٹھارہ سو چھیاسٹھ کو میکسیکو کی فوجوں نے اپنے ملک پر فرانسیسی مداخلت روک دی تھی۔
ایک ریفرنڈم |
اسی دن پاکستان کے چیف جسٹس جرنیلی سڑک پر جرنیلوں کو اخلاقی شکست سے ہمکنار کر چکے تھے۔
گوجر خان سے لاہور تک کے درمیاں لاٹھی چارج، آنسو گیس، گولی اور آتشزنی کے باوجود ہزاروں لوگوں کا والہانہ استقبال واقعی ایک ریفرنڈم تھا جو کسی بھی مہذب معاشرے میں مرغوں کو اپنے ڈربوں اور فوج کو بیرکوں میں جانے پر مجبور کردیتا لیکن یہ پیارا پاکستان تھا جہاں جرنیلوں کی مضبوط ناک اور انا پر عوامی خواہشات اور ملکی مفادات کی بلی چڑھائي جاتی ہے۔
صدیوں سالوں سے اسی پنجاب اور اسکی جرنیلی سڑک پر سے بڑے بڑے دبنگ، ظالم اور جابر فاتح اور حکمران گزرے ہیں، ہاتھیوں اور ساتھیوں کے جلو میں تیر، تفنگ، توپیں اور مارشل لائيں اور مارشل لاء نما مصبتیں لیے، لیکن عوامی قافلوں کے پیچھے اٹھتی ہوئی دھول میں غائب ہوگئے۔ ان کے برعکس وہ جو لوگوں کے دلوں میں ہیں داستانوں کے روپ میں دائم رہے ہیں دریائے جہلم و سندھ کی طرح۔
شاید سرائے عالمگیر سے لیکرسندھ ، اورپشاور سے بولان تک چیف جسٹس چودھری افتخار محمد اب ایک عوامی کردار بنا ہوا ہے۔
![]() | |
| عوام کو ملک میں امید کی چھوٹی سی کرن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے روپ میں دیکھنے کو ملی ہے |
قاسم جلالی کے ڈرامے ’شمع‘ میں اداکار جمشید انصاری کا کردار تھا ’میرے پاس چقو ہے چقو‘ بالکل اسی طرح وزیر اعظم شوکت عزیز کے پاس’ایمرجنسی‘ کےہتھیار والے اختیارات ہیں۔
اور دوسری طرف انصاف اور قانون کی بالادستی سے محروم عوام ہے جسے پاکستان جیسے ملک میں امید کی چھوٹی سی کرن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے روپ میں دیکھنے کو ملی ہے۔
جلاد صفت تاریخ |
پاکستان کی تاریخ کتنی جلاد صفت ثابت ہوئی ہے کہ جنرل مشرف کے ایک ہاتھ پر احمد رضا قصوری کھڑے ہیں تو دوسرے ہاتھ پر بینظیر بھٹو انکی بیعت کرنا چاہتی ہیں۔
جیسا استقبال جسٹس افتخار چودھری کا ہو رہا ہے ایسا امریکہ میں راک سٹارز کا ہوا کرتا ہے۔ سڑکیں یا تو چیف جسٹس پر نچھاور کیے جانے والے پھولوں سے سرخ ہیں یا پھر انکے مداحوں پر پولیس اور ایجینسیوں کی لاٹھیوں سے بہتے خون سے:
کنڈیاں تے ٹُر کے آئے تیرے کول پیروانڑیں
اگوں تینڈی مرضی ڈھولا توں جانڑیں یا نہ جانڑیں
یہ ہیں دریاۓ جہلم پر بسنے والے لوگ اور انکے گیت جو اس دن چیف جسٹس کیلیے لاٹھی گولی کھا کر پہنچے تھے۔
گجرات میں گھوڑوں کا ناچ، ڈھول تاشے اور ہزاروں کا استقبال دیکھ مجھے پنجابی لکھاری سلیم پاشا کی سطریں یاد آتی ہیں ’دوجے پاسے چودھری اعتزاز کلم کلیاں چیف جسٹس نوں اپنی گڈی وچ بٹھا کے جٹ کچہری چڑہدا نظری آندا ہے تے لوکی آپے اوہدے پچھے پچھے نعرے لاندے ٹر پیندے نے۔`
کہنے والے کہتے ہیں چودھری برادران ان کے مری کے پہاڑوں پر ہاؤسنگ پروجیکٹس کا کیس اٹھانے پر چیف جسٹس سے سخت ناراض ہیں۔
ساہیوال کے وکلاء کے پرامن مشعل بردار جلوس پر جو لاٹھی چارج اور حملہ پنجاب پولیس نے کیا ہے وہ حکمرانوں کو چودھری ہٹلر بنا دیتا ہے۔ کیا اس ریاست کا لاٹھی گولی کے بل بوتے کے علاوہ قانونی و اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے جہاں کا چیف جسٹس بھی انصا ف سے محروم اور حکمرانوں کا معتوب بنا ہوا ہو۔
پنجاب اور باقی ملک کی سڑکوں پر عوامی فیصلہ چیف جسٹس کے حق میں آچکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گیند کورٹ میں ہے، یا بقول شخصے ’ کورٹ مشرف کے بال‘ میں ہے؟