Sunday, 15 April, 2007, 10:36 GMT 15:36 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پنجاب یونیورسٹی میں ایک لڑکے اور لڑکی کی اس بات پر ٹھکائی ہوگئی کہ وہ ایک دوسرے کے قریب کیوں بیٹھے ہوئے تھے۔
پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس میں فارمیسی فیسٹیول کے اختتام پر ہونے والے ثقافتی میوزیکل شو میں تین بسوں میں بھر کر آنے والے لوگ اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے گھس گئے۔ کرسیاں، شیشے اور پروجیکٹر ٹوٹ گئے۔ایک بھگدڑ مچ گئی۔
اسلام آباد کی نواحی بستی بارہ کہو میں کچھ باریش نوجوانوں نے ایک وڈیو شاپ سے سی ڈیز نکال کر جلا ڈالیں۔
اسلام آباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے) اور ایک منہدم غیر قانونی مسجد الصفہ کی انتظامیہ کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ سی ڈی اے نے مسجد کے لیے متبادل جگہ کی پیش کش کی ہے لیکن حکمراں مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی قائم کردہ مصالحتی کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ مسجد وہیں بنائی جائے جہاں وہ اس وقت ہے۔
![]() | |
| اسلام آباد میں کچھ باریش نوجوانوں نے ایک وڈیو شاپ سے سی ڈیز نکال کر جلا ڈالیں |
باجوڑ کے علاقے خار میں کچھ لوگوں نے ایسے بیس لوگوں کو پیٹا جنہوں نے پرندوں کی دوڑ پر شرطیں لگا رکھی تھیں۔
صوبہ سرحد کے پولیس چیف شریف ورک کا کہنا ہے کہ یہ طالبان کا کام نہیں ہے کہ لڑکیوں کے سکولوں، وڈیو شاپس یا حجاموں کو تحریری دھمکیاں دیں بلکہ یہ کام علاقے کے جرائم پیشہ افراد کا ہے۔
یہ ساری خبریں پچھلے پانچ روز میں شائع ہوئی ہیں۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ میوزک، یونیورسٹی کی مخلوط نشستیں، حجامت، لڑکیوں کی تعلیم، رقص، فلم بینی وغیرہ ایوب خان، یحیٰی اور بھٹو کے زمانے میں بھی ہوتی تھی۔ مساجد بھی آباد تھیں۔ مذہبی مدارس بھی بھرے ہوئے تھے۔علماء بھی فعال تھے۔ لیکن اس وقت دھمکیوں، ڈنڈوں، توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کا رحجان وبائی شکل میں کیوں نہیں تھا۔ کیا اس زمانے کے علماء کمزور عقیدے کے تھے یا آج مذہب کے نام پر جہالت زیادہ فروغ پارہی ہے۔
اب جبکہ وائرس قابو سے باہر ہے تو سول سوسائٹی کی ویکسینیشن کرنے کے بجائے اسے پین کلرز اور نیند کی ایکسپائرڈگولیاں فراہم کی جارہی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اس وائرس کو دوبارہ لیبارٹری جار میں ڈالنے کے لیے وہ عام آدمی مدد کرے جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ وائرس کس نے اور کیوں چھوڑا تھا۔
اس دنیا میں ہر شے ممکن ہے مگر اپنے کیے کا کوئی علاج نہیں۔
’کیوں ڈھونڈھ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ
یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشان کرے گی‘