حسن مجتبی
سان ڈیاگو،کیلیفورنیا
واشنگٹن کے لابیسٹس آج کل سر سے گلے تک سراپا دوپٹہ، تسبیح پھیرنے والی، بنگالی بابا سے لے کر ٹھٹھ کے جناتی بابا تک کو ماننے والی اور کچھ لوگوں کی نظر میں ’سول ڈکٹیٹر‘ بینظیر بھٹو کو پھر سے پاکستان کی مادر جہموریت و لبرل ازم بناکر پیش کر رہے ہیں۔
جمعہ جمعہ آٹھ دن ٹائپ کے جیالے لندن، لاس اینجلز اور دبئي میں نئے سوٹ اور شیروانیاں سلوا رہے ہیں۔ بگل بجائی جا رہی ہیں کہ ’ڈیل‘ کے ذریعے پھر سے پاکستان میں پی پی پی پاور میں آرہی ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ وہ بکری چھ نومبر انیس سو چھیانوے کی رات سے پہلے مری یا نہیں جسے آصف زرداری نے اس یقین سے پالا تھا کہ جس دن وہ ’بھاگ بھری بکری‘ مرے گی پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوجائيگي۔ مجھے معلوم ہے کہ اس بکری سے پہلے وہ 'دہشت گرد شہزادہ ’میر مرتضی بھٹو اپنے ہی گھر ستر کلفٹن سے چند سو گز دور کلفٹن کراچی میں دو تلوار کے چوراہے پر پولیس مقابلے میں مارا گیا جسے پاکستان کے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فوج اور اس کی ایجینسیوں نے مروایا۔
مقتول دشمن کی مہربان بیٹی |
حال ہی میں انہوں نے اسکا اعتراف بھی کر ہی لیا کہ انکے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ غیر رسمی رابطے ہیں۔
اس خوبرو نوجوان بیوروکریٹ نے آخر کیا برا کیا تھا جس نے اپنی منگنی ممکنہ طور پر حزب مخالف کی رہنما کے ساتھ کرنے کی اجازت کیلیے رسمی طور پر ایک ’ڈی او‘ لیٹر جنرل ضیا ء کو بھیجا تھا اور ضیاء نے اس خط کو اپنی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا تھا جس پر بھٹو خاندان نے ناراض ہو کر اس نوجوان بیوروکریٹ سے منگنی کی بات منقطع کردی تھی۔
![]() | |
| آصف زرداری سے بے نظیر کی شادی کو بھی جنرل ضیا کی سازش تصور کیا جاتا ہے |
اب جس کی اپنی وزارت اعظمی میں اس کا بھائي اس کے گھر کے قریب اس کے قریبی پولیس والوں کے ہاتھوں مر سکتا ہے وہ دنیا کو عالمی دہشت گردی سے بچانے کی دعویٰ کر رہی ہیں۔
نوابشاہ سے تعلق رکھنے والے مقبول عرف لالہ امریکہ میں ایک ایسے عام محنتی سیلزمین ہیں جنھیں امریکی ’ریگولر ورکنگ گائے‘ کہتے ہیں، جن کا سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ صبح سے شام تک آرگینک فوڈ اور وٹامنز بیچنے والا یہ نوجوان گذشتہ دنوں کم از کم تین برسوں کے بعد مجھے جب نیو جرسی میں ملا تو سب سے پہلے اس کا سوال تھا: ’بینظیر بھٹو پاور میں آرہی ہے یا نہیں؟‘ لالہ قدرے پریشان دکھائي دیا۔
’ہاں اس کے علاوہ وہاں (پاکستان میں) اور ہے بھی کون۔ لیکن اس کے آنے سے ہمارے علاقے میں زرداری کسی کو بھی چـین سے نہیں رہنے دیں گے۔
صرف نوابشاہ کا لالہ ہی نہیں، پاکستان کے ہرگاؤں، گلی اور محلے میں ایسے بہت سے لوگ ہونگے جن کے دلوں میں اس انتقام کا خوف ہوگا جس کا سلسلہ چھ نومبر انیس سو چھیانوے کی رات کو فاروق لغاری کی حکومت کے ہاتھوں بینظیر بھٹو کی برطرفی پرتھم گیا تھا۔
![]() | |
| کراچی میں 70 کلفٹن کے قریب، بے نظیر کی وزارتِعظمیٰ میں مرتضیٰ بھٹو کے ہلاک کیا گیا |
چھ نومبر انیس سو چھیانوے کی رات نوابشاہ، ٹنڈو جام اور ٹنڈو اللہ یار میں لوگوں نے ٹی وی پر پی پی پی کی حکومت ختم ہونے کا اعلان سنتے ہی جو سب سے پہلا کام کیا وہ زرداری اور اس کے دوستوں کی زمینوں کو جانے والے وہ واٹر کورسز تھے جن کا رخ انہوں نے لوگوں کی زمینیں بنجر کرکے اپنے فارموں کی طرف کیا ہوا تھا۔
بینظیر بھٹو پاکستانی عوام میں بہت سوں کیلیے چڑیل تو بہت سوں کے لیے شہزادی کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن پاکستانی سٹیبلشمنٹ عرف پاکستانی فوج کے لیے وہ اس کے ہاتھوں قتل ہونے والے دشمن کی ایسی مہربان بیٹی ہیں جسے اکثر بھنور میں پھسنی ہوئی نیا پار لگانے کیلیے کال کیاجاتا ہے۔
بینظیر بھٹو کے ساتھ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی بات چیت ہو کہ اسلام آباد کی لال مسجد والوں کی حرم سرا کی ملانیاں، فیصلہ ہوچکا ہے کہ بھٹو کے بھوت سے ضیاء الحق کا بھوت بڑا ہے۔
ٹٹوگھوڑا بننے کو تیار |
سلمان رشدی نے بینظیر بھٹو کی کتاب 'دختر مشرق' کے پہلے ایڈیشن پر اپنے تبصرے میں لکھا تھا: ’اگر بینظیر بہترین امید ہے تو آپ خود اندازہ کرلیں کہ باقی کیا ہونگے‘۔
پاکستان میں وکیلوں نے جو آنے والے دنوں کا طوفان نوح کا برپا کر رکھا ہے اس میں پی پی پی پاکستانی عوام کا سفینۂ غم دل تو کیا بنتی، فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ٹٹو گھوڑا بننے کو تیار نظر آرہی ہے۔
کیا بینظیر بھٹو اب پاکستان میں جنرل تانا شاہی اور ملاؤں ملانیوں کی پاپائیت میں شرطیہ نئي کاپی ہونگی؟