http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 08 April, 2007, 06:23 GMT 11:23 PST

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کہیں نمبر تو نہیں بدل گیا؟

کم ازکم ایک برس سے حکمران مسلم لیگ کے ہر جلسے، پریس کانفرنس اور ریڈیو، ٹی وی پر ہونے والی صدر پرویز مشرف کی تقاریر کا نچوڑ یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت سرکاری، اقتصادی، سماجی، مذہبی اور آئینی پالیسیوں سے مطمئن ہے۔

خوشحالی میں اضافہ ہورہا ہے۔ میگا پروجیکٹس کی تکمیل سے اتنا روزگار پیدا ہوگا کہ سنبھالے نہ سنبھلے گا اور اس اقتصادی حرکت پذیری کے سبب پاکستان وسطی و مغربی ایشیا، چین ، بھارت اور خلیج کے درمیان ایک سٹرٹیجک تجارتی چوک بن جائے گا۔

سات برس میں اتنا ترقیاتی کام ہوا ہے کہ پچھلے باون برس میں نہ ہوا ہوگا۔

سٹاک ایکسچینج انڈیکس دیکھ لیں۔ زرِ مبادلہ کے بارہ بلین ڈالر سے زائد زخائر چیک کر لیں۔ تعلیم اور صحت کے بجٹ پر نظر مار لیں۔ سڑکوں پر نئی کاروں کا اژدھام ملاحظہ فرما لیں۔ موٹر سائیکلوں کی سالانہ پیداوار اور خریداری کو دھیان میں رکھیں اور ہر تیسرے ہاتھ میں موبائل فون دیکھ لیں۔۔۔

سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ ٹھیک سمت میں جارہا ہے تو اچھی بھلی آمدنی والا مڈل کلاسیا وکیل ہاتھ میں پتھر لے کر کیوں دوڑ رہا ہے اور لاٹھی سے اپنا سر کیوں پھٹوا رہا ہے۔

 سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ ٹھیک سمت میں جارہا ہے تو اچھی بھلی آمدنی والا مڈل کلاسیا وکیل ہاتھ میں پتھر لے کر کیوں دوڑ رہا ہے اور لاٹھی سے اپنا سر کیوں پھٹوا رہا ہے
 

سرکاری لال مسجد کا مولوی لٹھ لے کےروشن خیالی اور اعتدال پسندی کی پالیسی کو کیوں کاٹ کھانے دوڑ رہا ہے۔

سرکاری تعلیمی بجٹ میں دس گنا اضافے کے بعد بھی عام آدمی کیوں روٹی، کپڑے اور رہائش کا وعدہ کرنے والے مدرسے کی طرف بچے کی انگلی پکڑے چلا جا رہا ہے۔ کیا وہ اپنے جگر گوشے کو تنگ نظر بنیاد پرست بنانا چاہتا ہے یا پھر اچھے سکولوں کے گیٹ اس کے لیے بہت اونچے ہوگئے ہیں۔

صحت کے بجٹ میں پانچ گنا اضافے کے بعد بھی ایک آدمی کیوں اپنا یا اپنی بیوی کا گردہ بیچ رہا ہے۔ کیا وہ کوئی خدا ترس ہے یا اس کے پاس ایک گردہ فالتو ہے۔

کیا لوگوں کے پاس اتنا پیسہ آ گیا ہے کہ وہ دھڑا دھڑ گاڑیاں اور موٹر سائکلیں خرید رہے ہیں یا ان میں سے نوے فیصد بینکوں اور لیزنگ کمپنیوں کے مقروض ہیں۔

اور یہ کون نوجوان ہیں جو موبائل فون، گاڑیاں اور موٹر سائکلیں گن پوائنٹ پر چھین رہے ہیں۔اور چھین کر لے کہاں جارہے ہیں۔ کیا ان میں بھی را، القاعدہ یا طالبان کا ہاتھ ہے۔

آخر غیر سرکاری بلوچ منہ پر اور سرکاری بلوچ پیٹھ پیچھے گالی کیوں دے رہا ہے۔
’صدر پرویز مشرف کی تقاریر کا نچوڑ یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت سرکاری، اقتصادی، سماجی، مذہبی اور آئینی پالیسیوں سے مطمئن ہے‘

اور یہ امریکہ، افغانستان، ہندوستان اور ایران کو کیا ہوگیا ہے جو ایک ایسی حکومت کو مستقلاً ملزم ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو اپنے تئیں دہشت گردی کے خلاف مسلمان ملکوں کے اتحاد، مسئلہ فلسطین اور مسئلہ عراق کے حل اور افغانستان اور کشمیر میں قیامِ امن اور ایران و امریکہ کے درمیان مصالحت کے لیے ہلکان ہورہی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ بقول صدر مشرف یہ سب وہ حاسد قوتیں یا ان کے مٹھی بھر ایجنٹ کروا رہے ہوں جنہیں پاکستان کی ترقی اور مفاد ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ باری کا یہ بخار اور پھوڑے کسی گہرے مرض کی نشانیاں ہوں۔

میں ہر چھ ماہ بعد اپنی نگاہ چیک کراتا ہوں مبادا نمبر نہ بدل گیا ہو۔ کیا صدرِ مملکت بھی کراتے ہیں ؟؟؟