Wednesday, 04 April, 2007, 14:37 GMT 19:37 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پھر جانے کب اور کیوں میرا مزیدار بھٹو کلف زدہ وزیراعظم بھٹو کے پیچھے چھپ گیا۔ اس پر ان پیشہ ور مگرمچھوں، ٹمنوں، گیلانیوں، مخدوموں، سرداروں اور ٹیکنو کریٹس نے کنڈلی مارلی جو اس وقت کہیں نہیں تھے جب ایوب خان کے خوف سے کوئی ہوٹل بھٹو کو ایک رات کی بکنگ دینے اور کوئی وڈیرہ مہمان بنانے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ اس وقت بھٹو کے آگے پیچھے ریڑھے والوں، موچیوں، خوانچہ فروشوں، کنگلے طالبِ علموں اور جوگیوں کے سوا کوئی پر نہیں مار سکتا تھا۔
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بھٹو کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں مسیحا کو اپنا دل دیا تھا۔
مگر بھٹو نے جب ان سادہ دلوں سے فلرٹ کیا تو خود بھٹو بھی پیشہ ور شکاریوں کے جال سے نہ بچ سکا۔ شاید اسی لیے پورے پاکستان میں چار اپریل انیس سو اناسی کو حالت یہ تھی کہ
ہو کا عالم ہے یہاں نالہ گروں کے ہوتے
شہر خاموش ہیں شوریدہ سروں کے ہوتے
مگر خواب فروش بھٹو کی پھانسی سے پہلے اور بعد میں بھی بھٹو کو انہی عاشقوں نے یاد رکھا، خود سوزیاں کیں، کوڑے کھائے اور پھندے گلے میں ڈالے جنہیں خود بھٹو نے اقتدار کے آ خری دو تین برس کے دوران کھیل سے باہر کردیا تھا۔
عشاق کا یہ بینک بیلنس اتنا بڑا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی سے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بننے کے باوجود آج بھی اس کے سود پر چل رہی ہے۔
سالِ گزشتہ میں نے پاکستان کے ایک کونے میں پڑے ہوئے ضلع چترال کے بھی دور دراز علاقے مستوج میں ایک شخص کے حجرے میں بھٹو کی تصویر لٹکی دیکھی۔ کہنے لگا بھٹو ایک دفعہ یہاں آیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ چترال سے گلگت جانے والے راستے کو شاہراہ ریشم کی طرح پکا اور چوڑا کردے گا۔
میں نے کہا کہ ایسا تو نہیں ہوا۔راستہ تو آج بھی دشوار گزار ہے۔ کہنے لگا بھٹو نے کم ازکم یہاں آ کر وعدہ تو کیا۔۔کسی اور سے تو یہ بھی نہ ہوسکا۔۔
تو کیا بھٹو کو پھانسی سے بچایا جاسکتا تھا۔
میرے ساتھی شاہد ملک کا خیال ہے کہ چار اپریل کو اگر اتنے ہی ٹی وی چینل ہوتے جتنے آج ہیں تو بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی۔۔۔
آپ کیا کہتے ہیں ؟؟؟