Tuesday, 27 March, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
راولپنڈی میں ستائیس مارچ کے صدارتی جلسہ عام کے طفیل پنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہر میں جو صحافی جلسہ کور نہیں کر رہے وہ دفتروں میں بیٹھے میری طرح تین پانچ کررہے ہیں۔ فرصت کا یہ عالم ہے کہ میں کیلکولیٹر پر جلسے کے خرچے کا حساب لگا رہا ہوں اور مٹا رہا ہوں۔
پچھلے ایک ہفتے سے راولپنڈی کی شہری حکومت قومی اور مقامی اخبارات میں اس جلسے کی پبلسٹی کے لیے پورے یا آدھے اخباری صفحات کی اشتہاری مہم چلائے ہوئے ہے۔ اگر موجودہ اشتہاری نرخوں کو پیشِ نظر رکھا جائے تو لگ بھگ پانچ کروڑ روپے مالیت کے اشتہارات چھپ چکے ہیں۔
اس دوران جلسے کی پبلسٹی کے لیے پنڈی کے مئیر، مقامی یونین کونسل کے ناظم، پنجاب کے وزیرِاعلی چوہدری پرویز الہی اور صدر مشرف کی رنگین پینا فلیکس دیوقامت ہورڈنگز، پنڈی کی ہر اہم شاہراہ کے ہر دوسرے کھمبے پر لٹکنے والے بینر اور اشتہارات، مسلم لیگی جھنڈوں اور سٹیکرز کا اگر کم ازکم تخمینہ بھی لگایا جائے تو ایک کروڑ روپے سے کم نہیں بنتا۔
![]() | |
| صدر کے ذاتی حفاظتی انتظامات کے لیے پولیس کے ہزاروں جوانوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں |
جلسے میں لوگوں کی شرکت میں آسانی کے لیے ضلع بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ اس تعطیل کے نتیجے میں لاکھوں افراد جو پیداواری گھنٹے کام میں نہیں لا سکے۔ ان کی محتاط مالیت دس کروڑ روپے کے لگ بھگ بنے گی۔
انتظامیہ نے جلسہ گاہ میں لوگوں کو لانے کے لیے تین دن سے ایک ہزار سے دو ہزار روپے یومیہ پر جو ایک ہزار کے لگ بھگ بسیں اور ویگنیں پکڑ پکڑ کر جمع کیں۔ پٹرول سمیت ان کے مجموعی اخراجات کم ازکم ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ ہوں گے۔
اس اعتبار سے اس جلسے کے نتیجے میں تقریباً اٹھارہ کروڑ روپے کا خرچہ ہوا۔ اگر جلسے کے منتظمین پچاس ہزار افراد بھی اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو منتظمین کو فی آدمی کم ازکم تین ہزار چھ سو روپے میں پڑا۔
![]() | |
| صدر مشرف کی رنگین پینا فلیکس دیوقامت ہورڈنگز، پنڈی کی ہر اہم شاہراہ پر لگی ہوئی ہیں |
اگر جلسے کی کاروائی تین گھنٹے بھی چلی تو اس جلسے کی فی منٹ لاگت ایک ملین روپے بنتی ہے۔
اگر صدرِ مملکت کوئی پیشہ ور سیاستدان ہوتے تو شاید ان کے جلسے پر اتنا پیسہ صرف نہ ہوتا۔ ان کے ساتھ ویسا ہی ہورہا ہے جو اس نئے نئے فلم پروڈیوسر کے ساتھ ہوتا ہے جسے فلم بنانے کا تو شوق ہو لیکن ناتجربہ کاری کے سبب یہ معلوم نہ ہو کہ کتنا پیسہ کس مد میں لگے گا۔ ان حالات میں یار لوگ فلم کی ریل ریوائنڈ اور فارورڈ کرنے کا خرچہ بھی اس پر ڈال دیتے ہیں۔
یہ مضمون لکھنے کے بعد باقی وقت میں میرا ارادہ ہے کہ بچوں کے مشہورِ عالم ڈینش ادیب ہانز کرسچین اینڈرسن کی کہانی’دی ایمپررز نیو کلودز‘ پڑھوں گا۔