Thursday, 15 March, 2007, 20:41 GMT 01:41 PST
عامر احمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران میں اگر آج کوئی پوچھے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ہونے والے واقعات میں سے کونسا سب سے زیادہ اہم تھا تو زیادہ تر لوگوں کا خیال شاید سیدھا شریف الدین پیرزادہ کی طرف جائے گا۔
پاکستان میں شریف الدین پیرزادہ آمر حکمرانوں کی ہر آئینی مشکل کا حل نکالنے والے ’جادوگر وکیل‘ سمجھے جاتے ہیں۔
اپنے پورے قانونی کیرئیر میں انہوں نے نہ تو کبھی کسی آمر کی خواہش کو رد کیا، نہ ہی اس کی قانونی و آئینی مجبوریوں کو حل کرنے میں اس کی مدد سے انکار کیا اور نہ ہی اس کے نتیجے میں اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا برا منایا۔
سو جب انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف حکومتی ریفرنس میں سرکاری وکیل بننے سے انکار کر دیا تو ظاہر ہے ہر کوئی چونک اٹھا۔
صدر مشرف پاکستان کی فوج کے سربراہ ہیں جو ملک کا طاقتور ترین سیاسی ادارہ ہے ۔ جب تک انہیں فوج کی حمایت حاصل ہے ان کی صدارت کو کوئی خطرہ نہیں۔
ان کا دوسرا بڑا سہارا ان کے مغربی حلیف ہیں۔ اس بحران کے دوران صدر مشرف کے مغربی حلیفوں کے رویے پر ماہر تجزیہ کار اور مصنف طارق علی کا کہنا کچھ یوں ہے۔
’اگر اس طرح کے واقعات دنیا میں کہیں اور ہو رہے ہوتے مثلاً لاطینی امریکا میں تو مغربی میڈیا بہت شور مچاتا، اس مسئلے کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتا۔ لیکن چونکہ صدر مشرف کو مغرب کی حمایت حاصل ہے اس لیے کسی مغربی اخبار نے اس مسئلے کو کوئی خاص جگہ نہیں دی۔‘
یہ بات پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ شاید اسی لیے وہ اس سارے معاملے پر ابھی تک بیان بازی کی حد سے آگے جانے کو تیار نہیں ورنہ مشرف حکومت کے خلاف سیاسی تحریک شروع کرنے کا اس سے بہتر موقع انہیں پہلے کبھی نہ ملا ہو گا۔
لیکن اگر صدر مشرف کی صدارت فی الوقت محفوظ ہے تو یہی بات ان کے سیاسی عزائم کی صحت کے بارے میں ہرگز نہیں کہی جا سکتی۔
صدر مشرف کو بطور ایک فوجی حکمران آٹھ سال ہونے والے ہیں۔ اس عرصے میں ان کے آس پاس بے شمار ایسے لوگ اکٹھے ہو چکے ہیں جو انہیں ہر وقت یہ کہتے رہتے ہیں کہ جو کچھ پاکستان کے لیے انہوں نے کیا ہے پہلے کسی پاکستانی لیڈر نے نہیں کیا۔
اب وہ یقیناً چاہتے ہونگے کہ وہ ایک فوجی سربراہ کی متنازعہ حیثیت چھوڑ کر پاکستان کے حقیقی سیاسی رہنما کے طور پر ابھریں۔
شاید اسی لیے انہوں نے کئی ماہ پہلے سے اپنی انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے۔
شاید اسی لیے وہ لوگوں سے براہ راست اپنی حمایتی پارٹیوں کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار چودھری کا معاملہ صدر مشرف کی صدارتی کرسی تو شاید نہ ہلا سکے لیکن اس نے صدر مشرف کی ایک سیاسی لیڈر بننے کی خواہش کی قبر یقیناً کھود ڈالی ہے۔
اور لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں جسٹس چودھری کے ریفرنس میں ہونے والی کاروائی صدر مشرف کی سیاسی لیڈر بننے کی خواہش کی آخری رسم لگنے لگے گی۔