http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 04 March, 2007, 14:55 GMT 19:55 PST

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پی آئی اے کا نوحہ

جب یکم فروری انیس سو پچپن کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی پہلی سمندر پار پرواز کراچی سے براستہ قاہرہ لندن روانہ ہوئی تو یوں لگا کہ سپر کانسٹیلیشن طیارے نے نہیں پاکستان کی قسمت نے ٹیک آف کیا ہے۔

پی آئی اے ایشیا کی پہلی کمپنی تھی جس نے جیٹ پروازیں شروع کیں۔ پہلی غیر کیمونسٹ ایئر لائن تھی جس نے عوامی جمہوریہ چین میں لینڈ کیا۔ پہلی فضائی کمپنی تھی جس نے براستہ ماسکو ایشیا اور یورپ کو ملایا،جس نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی پروازوں میں فضائی انٹرٹینمنٹ کا فلموں اور موسیقی کے ذریعے آغاز کیا۔ انیس سو سڑسٹھ میں جب ایک عام پاکستانی کو شاید پوری طرح اندازہ نہ ہو کہ کمپیوٹر کیا بلا ہے پی آئی اے پہلا قومی ادارہ تھا جس نے آئی بی ایم کمپیوٹر خریدا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب کراچی ایشیا کا دروازہ تھا۔ چالیس سے زائد فضائی کمپنیوں کے طیارے یہاں آتے تھے اور تازہ دم ہو کر آگے جاتے تھے۔ تیس کے لگ بھگ فضائی کمپنیاں اپنے عملے کو تربیت کے لیے کراچی بھیجتی تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پی آئی اے کی ایئرہوسٹس فرنچ ڈیزائنر پی ایغ کاغدیں کا بنایا ہوا یونیفارم پہنتی تھی اور مسکراتی بھی تھیں۔

پی آئی اے میزبانی، تکنیکی اور فضائی مسابقتی دوڑ پر مبنی وہ سپر ہٹ فلم تھی جسے ابوالحسن اصفہانی، ظفر الحسن، نور خان اور اصغر خان جیسوں نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ فیض احمد فیض نے یونہی نہیں’گریٹ پیپل ٹو فلائی ود‘ کا ترجمہ ’باکمال لوگ، لاجواب پرواز‘ کیا تھا۔

مگر یہ وہ کہانی ہے جو میں نے اپنے بڑوں سے سنی ہے۔ میرے دور کے پی آئی اے میں کوئی کیپٹن عبداللہ بیگ اور غیور بیگ نہیں ہے جنہوں نے پینتالیس برس پہلے بوئنگ سات سو بیس کو لندن سے کراچی چھ گھنٹے تینتالیس منٹ اور پچپن سیکنڈ میں پہنچا کر وہ عالمی ریکارڈ قائم کیا جو اب تک نہیں ٹوٹا۔

مجھے تو ایسی خبریں ملتی ہیں کہ اوسلو ایرپورٹ کے میڈیکل حکام نے ایک’کو پائلٹ‘ کو مقررہ حد سے زیادہ شراب نوشی کے جرم میں پرواز سے ذرا پہلے حراست میں لے کر چھ ماہ کے لیے اندر کر دیا یا برمنگھم سے پاکستان آنے والی پرواز اس لیے منسوخ کرنا پڑی کہ ایک پائلٹ پارٹی سے سیدھا ایئرپورٹ پہنچ گیا اور پھر اسے یاد آیا کہ وہ یونیفارم پہننا بھول گیا ہے۔

پی آئی اے کا سیفٹی ریکارڈ اب بھی بیشتر ایئرلائنز کے مقابلے میں بہتر ہے۔ باون برس میں اڑتیس حادثے ہوئے ہیں لیکن سب سے برا دور سنہ دو ہزار سے اب تک کا ہے یعنی چھ برس میں چھ فضائی حادثے۔

میرے بزرگ بتاتے ہیں کہ پی آئی اے کا شعبہ انجینئرنگ اتنا اچھا تھا کہ ایئر مالٹا، الیمنیہ اور صومالی ایئرلائن سمیت متعدد ایئر لائنز کی ٹیکنیکل منٹیننس پی آئی اے کرتی تھی لیکن اب یہ صورت ہے کہ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب تکنیکی وجوہات کے سبب کوئی نہ کوئی پرواز منسوخ یا معطل نہ ہوتی ہو۔

تساہلی کا معیار یہ ہوگیا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے سال بھر پہلے سیفٹی کے بارے میں ملنے والی متعدد وارننگز کو اس طرح نظرانداز کیا گیا کہ اب پی آئی اے کے اسّی فیصد جہاز یورپ نہیں جاسکتے۔

یہ واقعہ ایک ایسے برس کے شروع میں پیش آیا ہے جسے حکومتِ پاکستان فروغِ سیاحت کا قومی سال کہتی ہے اور یہ مصیبت وہ ادارہ اپنے پر لایا ہے جو انیس سو ترانوے میں حکومت کی یکطرفہ اوپن سکائی پالیسی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پہلے ہی ادھ موا ہوچکا ہے۔

وہ پی آئی اے جس کا ہاتھ ساڑھے تین دہائیوں تک اپنے تکنیکی، تجارتی اور سروس کے معیار اور کھلاڑیوں اور فنکاروں کی فراخدلانہ سرپرستی میں ہمیشہ اوپر رہا آج لنگڑی لولی حالت میں ریڑھے پر بٹھا کر نجکاری کے کمیلے کی طرف روانہ کیا جا رہا ہے اوراب بھی پی آئی اے کا نعرہ ہے’Come Fly With Us‘