|
’مرغے ریٹائر بھی تو ہوتے ہوں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’سائیں اس علائقے میں ایسا ایسا مرغ باز لگا پڑا تھا کہ وری میں آپ کو کیا بتاؤں۔ لاڑکانے کا نواب غیبی خان اور اس کا بیٹا نواب سلطان چانڈیو مرغوں کی کراس بریڈنگ کے لیے حیدرآباد دکن جیسے دور دور کے علاقوں سے نسلی مرغے منگاتے تھے۔ ابھی تو خیر کراس کے لیے پنجاب کے مرغوں پر گزارہ ہے۔ خوشاب اور سرگودھا کے مرغے لڑائی اور نسل کے معاملے میں سندھ میں اچھے سمجھے جاتے ہیں۔ نواب چانڈیو کے علاوہ سندھ میں مرغے لڑوانے میں میرپور خاص کا وڈیرہ شاہنواز جونیجا بھی بڑا مشہور تھا۔ لوگ دور دور سے لڑائی دیکھنے اور شرط لگانے کے لیے آتے تھے۔ لاڑکانہ میں نواب خیربخش مری والے بھی اپنے اپنے مرغے لاتے تھے۔خیر بخش کے مرغے تو اس وقت بھی اس کے ساتھ تھے جب بھٹو نے اسے حیدر آباد جیل میں رکھا ہوا تھا۔ آہ ہا۔۔۔۔اب نہ وہ مرغ باز ہیں اور نہ ویسے مرغے۔۔۔۔‘ اب کیا ہوا؟ میں نے جیکب آباد کے بھنگر قبیلے کے سردار عمر دراز خان سے پوچھا۔ کہنے لگے ’پہلے تو یہ شونق ہر صاحبِ حیثیت کرتا تھا۔ ابھی یہ شونق سیاست میں پورا ہوتا ہے۔ مرغے کوئی اور ہوتے ہیں لڑوانے والے کوئی اور تماشبین کوئی اور۔ ابھی وہ بات تو نہیں رہی نا سائیں۔پھر دوبئی والوں نے بھی ستیا ناس کردیا‘۔ وہ کیا؟ میں نے پوچھا۔
’دیکھیں ابھی میری عمر پچاس سے اوپر ہے۔ اب سے دس پندرہ سال پہلے تک ایک اچھی نسل کا لڑاکو مرغا تین چار حد آٹھ ہزار میں مل جاتا تھا۔ابھی دوبئی کے شیخ یہاں سے اسی اسی ہزار کے مرغے لے کر جاتے ہیں۔ لاڑکانے والوں نے ان کے دماغ آسمان پر پہنچا دئیے ہیں۔ شیخوں کو مرغ بازی میں ڈال دیا اور خود بھی مرغوں کی ٹریننگ اور دیکھ بھال کے نام پر دوبئی میں کام پکڑ لیا۔ میں پندرہ سال کا تھا جب سے یہ شونق کرتا ہوں۔ آج کے حالات میں اب یہ میری دسترس سے بھی باہر ہوگیا ہے۔ شیخوں نے اب بازوں اور تلوروں کے بعد مرغوں پر بھی آنکھ رکھ لی ہے‘۔ اچھا آپ اپنے مرغوں کے بارے میں بتائیے۔ان کی نسل کیسے پہچانتے ہیں۔ کیا کھلاتے پلاتے ہیں۔کس طرح لڑواتے ہیں؟ ’میرے پاس تو ابھی تھوڑے سے ہی مرغے ہیں۔ ہم ایسے مرغے پالتے ہیں جن کی آنکھ سفید، گردن چھوٹی، پنجے بڑے ہوں اور وزن زیادہ نہ ہو۔یہ جب دو سال کے ہوتے ہیں تو لڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور پھر چھ سال کی عمر تک لڑتے ہیں۔ ان مرغوں کی خدمت کی جاتی ہے ایک آدمی انہیں صبح اور شام دوگھنٹے تک ٹہلاتا ہے۔ جوار باجرہ دیتا ہے اور طاقت کے لیے پستہ بادام بھی خوراک میں ملایا جاتا ہے۔ رات کو آگ جلا کر گیلا کپڑا گرم کرکے ان کی گردن اور ٹانگوں کو سینکا جاتا ہے۔ مالش کی جاتی ہے۔ سینک دینے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ لڑائی کے دوران خون کم نکلتا ہے اور سوجن نہیں ہوتی‘۔ ان مرغوں کے نام بھی ہوتے ہوں گے؟ ’بالکل ہوتے ہیں۔ ابھی یہ جو مرغ آپ دیکھ رہے ہیں۔اس کو سینک لگایا جارہا ہے۔ اس کا نام ہے کالا ناگ۔ یہ میرے دوست کے پاس تھا۔ اس نے دوبئی والوں کو ساٹھ ہزار میں نہیں دیا مجھے تحفے میں دے دیا اور یہ جو پنجرے میں بند ہے اس کا نام ہے میزائیل۔ ایک مغلِ اعظم بھی تھا۔‘
عمر دراز خان کے پاس کرم خان مرغ باز بھی بیٹھے تھے۔ کہنے لگے ’ آپ تو ابھی شہر سے آئے ہیں۔ ہم یہاں جنگلوں میں بیٹھے ہیں۔ کوئی کرنے کو خاص کام نہیں ہے۔ اگر یہ شوق بھی نہ کریں تو وقت کیسے گزرے گا۔ بڑے زمیندار تو وقت گزارنے کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ ہمیں ویسے کام نہ تو پسند ہیں اور نہ ہی وسیلہ ہے۔ اس لیے مرغے لڑاتے ہیں اور خوش ہوجاتے ہیں‘۔ لڑائی کے آداب کیا ہوتے ہیں؟ میں نے کرم خان سے پوچھا۔ ’ایک دن میں دس دس جوڑیاں بھی لڑتی ہیں۔ فیورٹ مرغوں پر دس ہزار سے لے کر لاکھ روپے تک کی بازیاں بھی لگتی ہیں۔ بڑی لڑائیوں میں کبھی اتنے لوگ بھی آجاتے ہیں کہ مرغوں کے لڑنے کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ پھر منت سماجت کرکے جگہ بنانی پڑتی ہے۔ لڑائی سے کچھ دن پہلے ہم مرغوں کو نیوروبان کے انجکشن اور سربیکس ٹی اور زیڈ کی گولیاں بھی دیتے ہیں تاکہ وہ چست ہوجائیں۔ ہر جوڑی دو راؤنڈ لڑتی ہے۔اگر کوئی مرغا زیادہ زخمی ہوجائے تو مالک اسے اٹھا لیتا ہے اور ہار مان لیتا ہے۔ یا مرغا خود بھاگ جاتا ہے۔ دونوں بے حال ہوجائیں تو میچ ڈرا ہوجاتا ہے۔‘ کرم خان اور عمر دراز خان سے مل کر میں قریبی گاؤں گڑھی حسن پہنچا۔ وہاں امان اللہ شاہ سے ملاقات ہوگئی۔ جنہوں نے خود تو مرغے نہیں پالے لیکن لڑائیاں بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب اس کام میں شوق سے زیادہ جوا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ دو نمبر کام بھی ہورہا ہے۔ مرغ باز ذبح شدہ مرغوں کی چونچیں اور ناخن خشک کرکے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور جب ان کے مرغے کی لڑائی میں چونچ ٹوٹ جائے یا پنجے کا ناخن اتر جائے تو نئی چونچ اور ناخن اس مہارت سے جوڑتے ہیں کہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ کوئی ری کنڈیشنڈ مرغا ہے۔ کئی لوگ اتنے استاد ہیں کہ اپنے مرغے کے ناخن پر ایک اور ناخن چڑھا دیتے ہیں تاکہ مخالف مرغا زیادہ زخمی ہوجائے۔ اس کھیل کے کرکٹ اور ہاکی کی طرح لکھے ہوئے قاعدے ضابطے تو ہیں نہیں اس لیے جس کا جو جی چاہتا ہے کرتا ہے۔ میں نے پوچھا مرغے ریٹائر بھی تو ہوتے ہوں گے۔ ’بالکل ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو سابق کھلاڑیوں اور فلمی ستاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یا تو ان سے نسل بڑھانے کا کام لیا جاتا ہے یا انہیں جوان مرغوں کے ساتھ رکھ دیا جاتا ہے۔ جب وہ کسی کام کے نہیں رہتے تو بعض مرغ باز ان کی کڑاہی بنوا لیتے ہیں۔۔۔‘ |
اسی بارے میں پاکستانی مرغی پابندیاں، پریشانیاں28 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||