Wednesday, 07 February, 2007, 19:35 GMT 00:35 PST
ملاقات : سارا واجد
ایان ہرسی علی کی خود نوشت ’بے دین‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ یہ نام ان کی خود نوشت کےلیے مناسب ترین ہے کیونکہ شاید وہ اس وقت دنیا کی مشہور ترین دہریہ ہیں۔ وہ ہالینڈ پارلیمنٹ کی سابق رکن ہیں لیکن انہیں عالمی شہرت 2004 میں اس وقت حاصل ہوئی جب فلم ڈائریکٹر تھیو وان گوف کو ایک شدت پسند مسلمان نے ایک ایسی فلم بنانے پر قتل کر دیا جس میں اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہرسی علی اس فلم کی تیاری میں وان گوف کی شریک تھیں۔
وہ صومالیہ میں پیدا ہوئی تھیں اور اسلام پر بے باکانہ تنقید کی وجہ سے مسلسل خطرے میں رہتی ہیں۔ دوسری بار وہ خبروں میں اس وقت آئیں جب انہیں ہالینڈ کی شہریت سے محروم کیا گیا اور انہیں ولندیزی پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ صومالیہ، سعودی عرب، ایتھوپیا اور کینیا کے متشدد ، کڑے اور تکلیف دہ ماحول میں پرورش کے بعد انہوں نے والد کی طرف سے برادری میں طے کی جانے والی شادی سے بچنے کے لیے ہالینڈ میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی درخواست کی تھی اور پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
جسم کا نازک حصہ یا فاضل چربی |
وہ 1992 کے اس دن کے بارے میں بے یقینی سے لکھتی ہیں ’اچانک، میں اِس ملک میں رہ سکنے والی بن گئی تھی، ان تمام اچھے لوگوں کے ساتھ۔ یہ بات ایک خواب کے مانند تھی‘۔ لیکن گزشتہ سال ہالینڈ کے وزیر برائے تارکینِ وطن و نسلی انضمام ان کی شہریت کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کر دیا کیونکہ انہوں نے پناہ کی درخواست دیتے ہوئے جھوٹ بولا تھا۔ جس پر لوگوں نے ہرسی علی کی حمایت میں بہت واویلا کیا۔
اس بارے میں بھی وہ صاف صاف کہتی ہیں کہ اگر خود انہیں بھی ایسی کسی درخواست پر فیصلہ کرنا پڑتا جس میں جھوٹ بولا گیا ہوتا تو وہ کبھی اس کی اجازت نہ دیتیں۔ وہ اعتراف کرتی ہیں کہ انہوں نے درخواست میں یہ کہا تھا کہ وہ براہِ راست صومالیہ سے آ رہی ہیں اور یہ بات جھوٹ تھی۔ لیکن اس ساتھ ہی وہ یہ دلیل بھی دیتی ہیں کہ جب ان کی پارٹی نے انہیں پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے کے لیے کہا تو انہوں نے انہیں بتا دیا تھا کہ انہوں نے پناہ لینے کے لیے دروغ گوئی سے کام لیا تھا اور اس کے باوجود انہیں الیکشن لڑنے کے لیے کہا گیا۔
![]() | |
| ’میں نے بتا دیا تھا کہ میں نے پناہ لینے کے لیے دروغ گوئی سے کام لیا تھا، اس کے باوجود انہیں الیکشن لڑنے کے لیے کہا گیا |
وہ اپنے بچپن کے بارے میں دہلا دینے والی تفصیلات بیان کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے نازک حصے کا کچھ گوشت ایک قینچی سے کاٹ کر الگ کیاگیا۔ ایسے جیسے قصائی گوشت کے کسی ٹکرے سے فاضل چربی کو بے رحمی سے الگ کرتا ہے۔
اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ وہ خوش نصیب تھیں کیوں کہ میری ایک ماں تھی، ایک گھر تھا جس میں کھانا بھی ہوتا تھا اور جو تحفظ دے سکتا تھا۔ جب ہم سکول جاتے تھے تو کچرے کے پہاڑ جیسے ایک ڈھیر کے قریب سے گزرتے تھے۔بچے اس ڈھیر پر بھی رہتے تھے، ہمیں جیسے، ہماری ہی عمروں کے اور ہم سے جھوٹے بھی۔ ’اسی لیے میں کہتی ہوں افریقہ ایک الگ حقیقت ہے اس کا ایک الگ تناظر ہے‘۔
ان کے والد ہرسی مگان عیسیٰ صومالی انقلاب کی ایک سرکردہ شخصیت ہیں لیکن جب سے ہرسی علی نے اسلام کو ماننے سے سرِ عام انکار کیا ہے انہوں نے بھی ان سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔ اس خود نوشت میں ان کے والد کا ایک خط بھی شامل ہے جو انتہایی قربت کا اظہار کرتا ہے۔ اس خط میں ان کے والد نے انہیں ’پیاری عیار لومڑی‘ کے نام سے مخاطب کیا ہے۔ تو کیا انہیں اس بات کا خیال بھی نہیں آیا کہ ’بے دین‘ میں وہ جو انکشافات کرنے جا رہی ہیں وہ ان کے اور ان کے خاندان کے درمیان موجود کشیدگی کو اور گہرا کر دیں گے۔
ہرسی علی بتاتی ہیں کہ ’میں نے ان سب باتوں کے بارے میں کتاب لکھنے سے پہلے سوچا اور میں اپنی والدہ اور والد سے صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ میں نے اس کتاب کا انتساب ان کے نام کیا ہے۔ اور اس میں جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ اس لیے نہیں کیا کہ انہیں شرمندہ یا بے عزت کیا جائے بلکہ اس لیے لکھا ہے کہ اپنی زندگی کی کہانی ان لوگوں سے بانٹ سکوں جن کی کہانیاں مجھ سے ملتی جلتی ہیں تاکہ شاید ہم مل جُل کر سوچ سکیں اور حالات کو آئندہ نسلوں کے لیے تبدیل اور بہتر بنا سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں ایک بات جانتی ہوں کہ جس معاشرے سے میں آئی ہوں اس میں خاندان اور برادری کی باتوں کو اس طرح منکشف نہیں کیا جاتا جیسے میں نے کیا ہے۔ لیکن میں وہاں رہی ہوں اور اب میں یہاں ہوں اور میں نے حالات کو بیان کیا ہے‘۔
ہرسی علی کہتی ہیں کہ ’میں اپنے گھر والوں کی کمی محسوس کرتی ہوں اور صومالیہ کی اور کہانیوں کی اور گرمی کی اور اس تعلق کی کو جو آپ کو یوں ہی مل جاتا ہے۔ بلا شبہ میں ان سب کی کمی محسوس کرتی ہوں لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ویسے ویسے تنہائی اور کٹ جانے کا احساس کم سے کم تر ہوتا جا رہا‘۔
واشنگٹن پوسٹ نے ’بے دین‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’کتنی عورتیں ہوں گی جنہیں ہرسی علی کی طرح انقلابی اسلام کا تجربہ ہوا ہو گا؟ اور ان میں سے کتنی ہوں گی جو اپنی اپنی کہانیاں بیان کریں گی اور ان میں سے بھی کتنی ہوں گی جو اتنے واضع انداز اور شعور کے ساتھ انہیں بیان کر سکیں گی؟ اس لیے ’بے دین‘ ایک منفرد کتاب ہے اور ایان ہرسی علی ایک منفرد مصنف اور دونوں بہت آگے تک جانے کے لائق ہیں‘