Sunday, 14 January, 2007, 14:16 GMT 19:16 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
اگر صدر جنرل پرویز مشرف کو ان کی سوانح حیات اور پچھلے سات برس کے آئینے میں دیکھا جائے تو ایک حیرت انگیز شبیہہ ابھرتی ہے۔
ایک ایسا جری شخص جو کبھی بھی نازک گھڑی میں فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔چاہے کوئی پسند کرے یا نہ کرے جو اس کے دل میں ہے وہی زبان پر ہے۔وہ کبھی اپنے فیصلوں کو اس لیے ملتوی نہیں کرتا کہ لوگ کیا کہیں گے۔اسے کبھی پرواہ نہیں ہوتی کہ کڑے فیصلے کرتے ہوئے یا عام ڈگر سے ہٹ کر کوئی موقف اپناتے ہوئے اس کی مقبولیت پر کوئی منفی اثر پڑے گا یا نہیں ۔کیونکہ اس کی زندگی کا تو صرف ایک ہی مقصد ہے۔ سب سے پہلے پاکستان۔
یہ وہ صدر مشرف ہیں جنہیں اندر سے یقین ہے کہ ان کی اقتصادی پالیسی نے پاکستان کو کم آمدنی والے غریب ممالک کی صف سے اٹھا کر متوسط آمدنی والے ممالک کے کلب میں شامل کردیا ہے۔ یہ وہ صدر ہے جس نے اٹھاون برس میں پہلی مرتبہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی کشمیر پالیسی کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے روایتی اور فرسودہ پنجرے سے آزاد کر کے ڈپلومیسی کی کھلی فضاؤں میں چھوڑ دیا ہے۔
یہ وہ ثابت قدم صدر ہے جس نے تمام سیاسی اور علاقائی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آبپاشی کے بڑے بڑے منصوبوں اور دیگر میگا پروجیکٹس کو ہر قیمت پر بروقت مکمل کرنے کی ٹھان لی ہے کیونکہ وہ پاکستان کو اقتصادی خودکشی کرتا نہیں دیکھ سکتا۔
یہ وہ پرویز مشرف ہے جو مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ سیاست کے سامنے سدِ سکندری ہے۔ جسے دنیا کی کوئی طاقت یا دھمکی عورتوں کے حقوق کے لیے قانون سازی سے نہیں روک سکی۔ جس کا وعدہ ہے کہ وہ جعلی جمہوریت نہیں بلکہ حقیقی جمہوریت کوعام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے میں کامیاب ہوگا۔ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑے گا۔
جس کے بارے میں مغربی ذرائع کہتے ہیں کہ وہ دنیا کے سب سے خطرناک منصب پر فائز شخصیت ہے۔اس پر دو شدید اور درجن بھر نیم شدید قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں۔مگر اس کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائے۔ایک فوجی ہونے کے باوجود ایک امریکی سروے کے مطابق پرویز مشرف عوامی مقبولیت میں پاکستان کے کسی بھی سیاستدان سے آگے ہیں۔
مگر ایک بات سمجھ میں نہیں آتی۔
اتنے مقبول، جری، ثابت قدم اور راست گو صدر کو آخر وردی اتارنے کی ہمت کیوں نہیں پڑتی اور وہ پرانی پارلیمنٹ سے ہی اپنی نئی مدتِ صدارت کا ووٹ لینے پر کیوں بضد ہیں۔
اور اس وقت مجھے غالب کا یہی شعر کیوں یاد آرہا ہے۔
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں