Sunday, 31 December, 2006, 13:45 GMT 18:45 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
آج سال دو ہزار چھ کا آخری دن ہے۔میں نےخود کو اپنے کمرے میں قید کر رکھا ہے۔صبح سے میر کا یہ شعر تیر کی طرح میرے سر میں پیوست ہے۔
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا۔
شاید مفروضہ ہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ Reality بھی دراصلvirtual reality ہے سائنس کی عمارت جس صفر پر کھڑی ہوئی ہے وہ تک مفروضہ ہے۔
ہم سب روزانہ مفروضے خریدتے ہیں اور مفروضے بیچتے ہیں اور مفروضوں کی اس تجارت نے ہی شاید ہمیں مکمل پاگل ہونے سے بچا رکھا ہے۔
آنے والا کل یقیناً آج سے بہتر ہوگا۔سیاہ رات کے بعد سورج نکلتا ہے۔صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔سانچ کو آنچ نہیں۔بے بس کی مدد غیب سے ہوتی ہے۔جیسا بوؤ گے ویسا ہی کاٹو گے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح کے ہزاروں مفروضے ہیں جو ہمیں کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں اور زندگی کی تکالیف میں کمی کے لیے نفسیاتی گاؤ تکیہ بن جاتے ہیں۔
آئیے میں آپ کو ایک خط سناتا ہوں۔
’ پیارے بیٹے
مجھے اس بات کی بےحد خوشی ہے کہ تمہارا یہاں سے کوچ کرنا تمہارے کام آیا اور بالاخر تم طائر میں ایک جہازی کی نوکری ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔ تمہارے بعد یہاں کا حال اور ابتر ہوگیا ہے۔رومنوں کی زیادتیاں بڑھ گئی ہیں۔
ہمارے ہی لوگ ان کے لیے ہماری مخبری کرتے ہیں۔اس کےعوض رومن حاکم نے انہیں لوٹ مار کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ان کے بچے عورتوں پر آوازے کستے ہیں۔ شرفا کا نکلنا محال ہوگیا ہے۔ پروہت صرف صبر اور دعا کی تلقین کرتا ہے۔ اشیائے خوردو نوش اور کپڑا دستیاب ہے لیکن خریدار بےحال ہے۔میرا کاروبار بھی چوپٹ ہے۔میری مانو تو اب وہیں بسنے کی سوچو اور کسی شریف آدمی کے ہاں رشتہ طے کرلو۔بس خبر کردینا ہم خوش ہوجائیں گے۔تمہاری والدہ خیریت سے ہیں۔اپنی صحت سے غافل نہ رہنا اور ہماری فکر مت کرنا۔‘
یہ خط اب سے تقریباً ڈھائی ہزار برس پہلے یروشلم کے نواح میں رہنے والے ایک باپ نے اپنے بیٹے کو لکھا تھا۔
کیا ان ڈھائی ہزار برس کے دوران ہمارے حالات یا توقعات میں کوئی بنیادی تبدیلی آئی۔
کیا میں وہ گدھا نہیں ہوں جس کے سرپر ایک ڈنڈا باندھ دیا گیا ہے اور ڈنڈے کے سرے پرگدھے کے منہ سے دو انچ پرے تابناک مستقبل کی وہ گاجر لٹکا دی گئی ہے کہ جسے پانے کی آرزو میں گدھا مسلسل چلے چلا جا رھا ہےاور گاجر اور منہ کا فاصلہ کم ہو کے ہی نہیں دے رھا۔
ہم سب کو ایک اور پرتوقع سال مبارک ہو۔