http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 10 December, 2006, 14:38 GMT 19:38 PST

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

ڈیلکس انصاف

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انیس سو بانوے میں ایک متفقہ قرار داد منظور کی جس میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو جبراً غائب کرنے کا اقدام انسانی وقار اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی پامالی ہے۔

جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے ہر اقدام کی مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں کسی بھی فرد کو مروجہ قوانین کی حدود سے باہر رکھنے کے لیے کوئی سرکاری اہلکار یا ادارہ یا سرکاری حمایت یافتہ نجی گروہ یا فرد عملاً یا اراداتاً شریک ہو اور اس ضمن میں دستیاب معلومات ظاہر کرنے یا اعتراف کرنے سے انکاری ہو۔

مجھے علم نہیں کہ پاکستان نے انیس سو بانوے میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تھا یا نہیں۔ اگر حق میں ووٹ دیا تھا تو کیا وزارتِ خارجہ نے کبھی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ہر برس خطاب کرنے والے صدر پرویز مشرف کو کبھی اس قرار داد سے آگاہ کیا یا نہیں۔

بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں انسانی حقوق کی ایک وزارت اور کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ کیا یہ وزارت اور کمیشن اب بھی موجود ہے۔ اگر ہے تو اس کا سربراہ کون ہے۔ کیا کررہا ہے۔ کیا وہ کوئی سالانہ انسانی حقوق رپورٹ بھی جاری کرتا ہے یا نہیں کرتا۔

مجھے تلاش ہے پاکستان کے صرف ایک صوبے میں قائم ہیومن رائٹس کمیشن آف پنجاب کے دفتر کی۔ سنا ہے کہ وہ لاہور سیکرٹیریٹ کی کسی سرکاری فائل میں زندہ ہے۔

  سن دو ہزار سے اب تک چار سو کے لگ بھگ افراد جبراً غائب ہوئے۔ ان میں سے دو سو بیالیس ہنوز لاپتہ ہیں اور ان دو سو بیالیس میں سے بھی ایک سو ستر کا تعلق سب سے کم آبادی والے صوبہ بلوچستان سے ہے جبکہ سندھ سے ستر، پنجاب سے بیالیس اور صوبہ سرحد سے بیس افراد غائب ہیں
 
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان

حکومتی اداروں نے عوام کی آسانی کے لیے کئی فون ہیلپ لائنیں مشتہر کر رکھی ہیں۔ کیا ایسی بھی کوئی ہیلپ لائن ہے جس پر جبری طور پر غائب ہونے والے یا والی کا باپ، بیٹا، بیٹی یا ماں کسی افسر سے رابطہ کر سکے۔

غیر سرکاری ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار سے اب تک چار سو کے لگ بھگ افراد جبراً غائب ہوئے۔ ان میں سے دو سو بیالیس ہنوز لاپتہ ہیں اور ان دو سو بیالیس میں سے بھی ایک سو ستر کا تعلق سب سے کم آبادی والے صوبہ بلوچستان سے ہے جبکہ سندھ سے ستر، پنجاب سے بیالیس اور صوبہ سرحد سے بیس افراد غائب ہیں۔

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل کے چار گھریلو ملازمین کو بیس بیس سال قید اور چالیس ہزار روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ان پر یہ فردِ جرم تھی کہ انہوں نے ڈیوٹی پر مامور ملٹری انٹیلیجنس کے دو سادہ اہلکاروں کو یرغمال بنایا، مارا پیٹا اور ذاتی اشیاء اور نقدی چھین لی اور ان کے فرائض میں مداخلت کی۔

میں یہ خبر پڑھ کے سوچ رہا ہوں کہ کاش جو دو سو بیالیس شہری کئی برس یا ماہ سے غائب ہیں وہ بھی کسی انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکار ہوتے۔ کم ازکم انہیں اغواء کرنے والے مجرم تو عدالتی کیفرِ کردار تک پہنچ جاتے۔