Saturday, 18 November, 2006, 20:02 GMT 01:02 PST
وجاہت مسعود
پاکستان
کلکتہ سے آنے والی جی ٹی روڈ پشاور میں جہاں ختم ہوتی ہے وہیں بائیں ہاتھ کوئی دو سو گز کے فاصلے پر سرحد اسمبلی کی عمارت واقع ہے۔ تیرہ نومبر کو یہاں بیٹھے قانون سازوں نے بالآخر حسبہ بِل منظور کر لیا۔ اسمبلی میں اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوئے اور عوام کو برکاتِ عظیم کا مُژدہ سنایا گیا۔
حسبہ قانون کی کہانی نئی نہیں۔ پاکستانی شہریوں کے کان شرعی نظام کے نام پر بارہا ایسے قوانین سے آشنا ہوئے ہیں جن کے نقارے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں اور زیرِ متن ’ہم کو مِلے ہر بار، نمک سے بنے ہوئے پتوار‘۔ ان سب تجربوں کی پس نوشت بھی کچھ یکساں ہی ہے۔ ’یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا‘۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سے حسبہ بل پر بات ہوئی تو انہوں نے بے نیازی سے کہا کہ ’اس کی کچھ خاص اہمیت نہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے اس قانون کا ڈنک تو پہلے ہی نکال دیا تھا۔ جو چھلکا بچ رہا تھا، ایم ایم اے نے اسے اسمبلی سے منظور کرا لیا ہے۔ اُسے اگلے انتخابات میں لوگوں سے ووٹ بھی تو لینا ہیں‘۔
اس گفتگو سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ قابلِ قدر صحافی کو حسبہ قانون کا ڈنک نکالے جانے پر مایوسی ہے یا انہیں ایم ایم اے کی مشقِ لا حاصل پر افسوس ہے۔ مگر مجھے خواجہ ناظم الدین یاد آ گئے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ![]() |
خواجہ ناظم الدین مرنجاں مرنج شخصیت تھے۔ ان کی طبیعت کا مذہبی میلان بھی کچھ ایسا ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ انہوں نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر کہا ’مگر یہ مطالبات تو فانے کا پتلا سِرا تھے‘۔ مفہوم یہ کہ ان سے طاقت پا کر مزید مطالبات سامنے آنا تھے۔ متحدہ مجلسِ عمل نے اس کٹے پھٹے حسبہ بِل کو فانے کا پتلا سِرا جان کر ہی یہ قانون منظور کیا ہے۔
اس طرح کے قوانین کا منطقی انجام سمجھنے کے لیے آپ کو ایک تصویر دکھاتے ہیں۔
اس مضمون میں آپ کو سب سے اوپر جو تصویر نظر آ رہی ہے وہ تہران میں لی گئی ہے۔ کچھ برس پہلے ایک مقتدر آیت اللہ کے انتقال پر فیصلہ کیا گیا کہ ان کے مرقد پر ایک خوشنما گنبد تعمیر کیا جائے۔ سو تعمیر کے جدید آلات کی مدد سے فٹ بال گراؤنڈ کے رقبے پر محیط گنبد کی تعمیر شروع ہوئی۔ عمارت اپنی تکمیل کو پہنچ رہی تھی کہ کسی کو خیال آیا کہ گنبد کے عین بیچ کھڑی کرین نکالنے کا تو کوئی اہتمام ہی نہیں کیا گیا۔ اب جملہ ماہرینِ تعمیر سر جوڑ کر بیٹھے۔ یہ قضیہ کوئی ڈیڑھ دو برس چلتا رہا۔ گنبد اپنی وسعت میں گنبدِ فلک کو شرماتا تھا مگر اس کے بیچوں بیچ سینکڑوں من وزنی کرین گڑی تھی۔ جسے گنبد سے نکالنے کا کوئی حربہ باور نہیں ہوتا تھا۔ اُدھر آئے روز ایران کے طنز نگار اس گنبد کی ہیئت کذائی پر نت نیا حاشیہ جماتے تھے۔ آخر گنبد کو گِرا کر کرین باہر نکالی گئی اور تعمیر از سرِ نو شروع ہوئی۔
تقدیس کے لحاف میں فانے کے جو پتلے سِرے قبول کیے جاتے ہیں وہ بالآخر ایرانی گنبد کی کرین بن جاتے ہیں۔
2002 میں متحدہ مجلسِ عمل کے صوبہ سرحد میں برسرِاقتدار آنے کے بعد شرعی قوانین کا غلغلہ بلند ہوا۔ بڑی ہماہمی کے بعد شریعت بِل منظور کیا گیا۔ اخبارات کا بُرا ہو جنہوں نے انکشاف کیا کہ متحدہ مجلس عمل کا شریعت بِل تو حرف بہ حرف بلکہ شوشہ بہ شوشہ 1991 میں نواز شریف حکومت کے منظور کردہ شریعت بِل کا چربہ تھا جو پورے پاکستان کی طرح صوبہ سرحد میں بھی پہلے سے نافذ العمل تھا۔ اس پر متحدہ مجلسِ عمل کو خاصی شرمندگی اٹھانا پڑی۔ اس کے بعد سعودی عرب کی مطوّعہ فورس، ایران کے پاسداران اور افغان طالبان کی طرز پر مذہبی احتساب کا ڈول ڈالا گیا۔
![]() | |
| مجلسِ عمل نے یہ منوا لیا ہے کہ مذہبی پیشواؤں کو قانون، انتظام عامہ اور شہریوں کی نِجی زندگی میں من مانی مداخلت کا اختیار ہے |
پاکستان میں آئین اور قوانین کو قرآن و سنت کے تابع قرار دیا گیا ہے۔ قرآن و سنت کی اصطلاح اپنی تشریح کے اعتبار سے بجائے خود کچھ کم متنازع نہیں۔ حسبہ قانون کے مسودے میں اس مصرع طرح پر ’اسلامی اقدار کے تحفظ‘ کی گرہ لگائی گئی۔ حسبہ بِل اپنی اصل شکل میں قانون، شہریت حتٰی کہ مذہب کی ایسی سادہ لوح تفہیم پر مبنی تھا کہ اس سے مولانا عبدالقادر ڈیروی کی تحریر کردہ وہ تقریر یاد آتی تھی جو اکتوبر 1996 میں ناکام بنائے جانے والے اسلامی انقلاب کے ’امیرالمومنین‘ نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ’عزیز ہم وطنوں‘ کے سامنے پیش کرنا تھی۔ اس تقریر میں نمازوں کے اوقات، اخبارات میں عورتوں کی تصاویر نیز ویڈیو دکانوں کی بندش کا تو ذکر تھا مگر معیشت یا خارجہ پالیسی پر ایک لفظ نہیں تھا۔
ایم ایم اے حکومت نے حسبہ کے مسوّدہ قانون کو مشتہر کرنے کی بجائے خفیہ رکھنا مناسب سمجھا۔ ادھر اُدھر سے منظرِ عام پر آنے والےاس کے مندرجات پر عوام نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا۔ چنانچہ یہ مسوّدہ قانون مشاورت کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا گیا۔ صوبائی حکومت کا دعٰوی تھا کہ حسبہ قانون دراصل اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ہی پر مبنی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اگست2004 میں گورنر سرحد کے نام مکتوب نمبر PSG-1(2) 2004/324-25-WF کے ذریعے حسبہ قانون کو غیر اسلامی قرار دے دیا۔ تاہم کچھ جھاڑ پونچھ کے بعد سرحد اسمبلی نے جولائی 2005 میں حسبہ قانون منظور کر لیا لیکن گورنر سرحد نے اس کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا۔ ادھر وفاقی حکومت نے حسبہ قانون کی آئینی حیثیت کے بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔ عدالتِ عظمٰی نے4 اگست 2005 کو حسبہ قانون کی قریب 80 فیصد دفعات کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ تب سے یہ مسوّدہ قانون مفلوج حالت میں سرحد اسمبلی کے طاق پر دھرا تھا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق چند در چند اسباب کی بنا پر مرکزی حکومت حقوقِ نسواں کے تحفظ کا قانون منظور کرانے پر تُلی ہوئی ہے جب کہ مجلسِ عمل حدود قوانین میں کسی تبدیلی کی سخت مخالف ہے۔ چنانچہ قومی اسمبلی میں تحفظِ نِسواں بِل کی منظوری کے عوض متحدہ مجلسِ عمل کو حسبہ بِل کی ریوڑی دی گئی ہے۔
کچھ لو کچھ دو کا اصول ![]() |
حسبہ قانون اپنی موجودہ شکل میں بڑی حد تک بے دست و پا سہی اور شاید مرکزی حکومت اب اس کی مخالفت کا ارادہ بھی نہ رکھتی ہو مگر اس کٹے پھٹے قانون ہی کے ذریعے متحدہ مجلسِ عمل نے دور رس نتائج کی حامِل پیش قدمی کی ہے۔ مجلسِ عمل نے یہ اصول باقاعدہ طور پر منوا لیا ہے کہ مذہبی پیشواؤں کو قانون، انتظام عامہ اور شہریوں کی نِجی زندگی میں من مانی مداخلت کا اختیار ہے۔
قانون سازی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ فوجداری قوانین میں تمام اصطلاحات کا ٹھیک ٹھیک مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ حسبہ قانون میں نہ تو کسی قابلِ گرفت فعل کی تعریف بیان کی گئی ہے اور نہ اس کی سزا کا پیمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ گویا یہ قانون مذہب کے نام پر شہریوں کی نِجی زندگی، روز مرہ اطوار حتٰی کہ عبادات کی آزادی تک میں من مانی مداخلت کی اجازت کے مترادف ہے۔ مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے رسمی ذکر سے قطعِ نظر، حسبہ قانون کا بنیادی مفروضہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں غیر مسلم شہری سِرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔
1954 میں برطانیہ کے متعدد شہریوں کی نِجی زندگی کے بارے میں پے در پے انکشافات سامنے آنے پر صدیوں پرانے قوانین کے اطلاق کا سوال اٹھا۔ برطانوی حکومت نے ماہرِ قانون وول فنڈن(Wolfendon) کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا۔ کمیشن کی رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ’قانون کا اصل مقصد امن و امان قائم رکھنا نیز عام شہری کو دوسرے افراد کے ہاتھوں نقصان، استحصال یا بدعنوانی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ہماری رائے میں قانون کا کام شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا یا معاشرتی طرزِ عمل کا کوئی خاص نمونہ نافذ کرنا نہیں ہے‘۔
وول فنڈن رپورٹ گزشتہ50 برس میں انفرادی شہری آزادیوں کے بارے میں تشکیل پانے والے تمام جدید قوانین کی اساس کہلاتی ہے۔ سرحد اسمبلی کا منظور کردہ حسبہ بِل وول فنڈن رپورٹ میں بیان کردہ اصولِ قانون کے سراسر منافی ہے۔
اگرچہ متحدہ مجلسِ عمل موجودہ شکل میں حسبہ قانون کے حقیقی مقاصد پر شاید پوری طرح عمل نہ کر سکے تاہم پاکستان کے مذہبی رہنماؤں نے 2003 کے مسودہ قانون کی صورت میں اپنے قانونی اور معاشرتی نصب العین کی ایک جھلک پیش کر دی ہے۔ مزید یہ کہ مذہبی احتساب کا ادارہ قائم کر کے پاکستان کے نظامِ قانون میں فانے کا پتلا سِرا تو بہرحال ٹھونک دیا گیا ہے۔
(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔)