http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 24 October, 2006, 06:39 GMT 11:39 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں چاند کی آنکھ مچولی

عید ایک مرتبہ پھر آنے سے قبل ہی بدمزا ہوگئی۔ یہ یقیناً پہلی مرتبہ نہیں اور بدقسمتی سے شاید آخری مرتبہ بھی نہ ہو۔ لیکن اس مرتبہ تو افسوس کی بات اس تنازعے کا مضحکہ خیز ہوتے جانا ہے۔

جانے کب یہ قضیہ ہمیشہ کے لیئے حل ہوگا، ہم رمضان کا بنیادی سبق تقویٰ اور صبر سمجھ پائیں گے، اتفاق اور اتحاد کے معنی سمجھ پائیں گے اور رمضان اور عید کو جانے کب ہم متنازعہ بنانے سے اجتناب کریں گے؟

پاکستان میں چند لوگوں کو پہلے رمضان اور عید کے چاند صرف ایک دن قبل دکھائی دیئے جاتے تھے لیکن اب دو دو دن پہلے نظر آنے لگے ہیں۔ معلوم نہیں اس کی وجہ سائنسی ہے یا جذباتی۔ یہ تفریق اگر اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو شاید وہ دن دور نہیں جب ہمیں تین یا چار عیدوں کا نہیں بلکہ ’ہفتہ عید‘ کا بندوبست کرنا پڑے۔

لیکن سوموار کی شام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان نے کہ چاند کہیں بھی دکھائی نہیں دیا عید بدھ کے روز منانے کا اعلان کر دیا۔ اس سے صوبہ سرحد کی حکومت کے فیصلے کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

کئی لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر روزہ رکھنے اور عید کرنے میں اتنی عجلت کی کیا ضرورت ہے۔ اسے مرکزی اور زونل رویت ہلال کمیٹیوں نے انا کا مسئلہ کیوں بنا دیا ہے۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمان اور سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں پہلے روز سے رویت کے مسئلے پر بدمزگی کے پیدا ہونے سے تعلقات آج تک کشیدہ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی بات تو کیا شواہد بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

مرکزی حکومت نے بھی مفتی منیب الرحمان کی حمایت میں انہیں تبدیل کرنے کے صوبائی حکومت کے مطالبے کو مسترد کیا ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا کہ معاملہ اب مذہبی نہیں بلکہ ذاتی انا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

عام شہری تو جس مشکل اور کرب سے گزر رہے ہیں وہ تو ہے ہی لیکن اس بابت صدر پرویز مشرف اور صوبہ سرحد کے گورنر لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی سب سے زیادہ بڑے مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں تو صوبہ سرحد سے بھی ایک روز پہلے سے روزہ رکھے ہوئے ہیں۔

اس کی وجہ ان کا رمضان کے آغاز پر امریکہ میں صدر مشرف کے ساتھ دورے پر ہونا تھا۔ امریکہ اور یورپ میں رمضان کا آغاز صوبہ سرحد سے بھی ایک روز قبل ہوا تھا۔

صوبہ سرحد میں اکتوبر سن دوہزار دو کے عام انتخابات کے نتیجے میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت اقتدار میں آئی تو عوام کو امید بندھی کہ اور کچھ نہیں تو رویت ہلال کا سالانہ تنازعہ حل کر پائے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ ایک آدھ برس کے بعد صورتحال بد سے بدتر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

پشاور کل آدھا روزے دار تھا، آدھا عید منا رہا تھا۔ آدھے خوشی منا رہے تھے، آدھے پریشان تھے کہ ان کے روزے کی کیا حیثیت ہوگی، آدھے کھا پی رہے تھے اور باقی آدھے گھروں میں دبکے ہوئے ہیں۔

جن کے تیس روزے پیر کو مکمل ہوئے وہ آج یعنی منگل کے روز کیا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم ان سے یہ مذاق چاند نے کیا ہے یا ان کی حکومت نے۔ اب تمام عید دوستوں، رشتہ داروں کے ساتھ ملاقاتوں میں یہ معاملہ پھر سے زیر بحث رہے گا۔ شاید ہمارے یہاں اسی کو عید کہتے ہیں۔