http://bbc.com.im/urdu/

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

امریکہ اور شیر

وہ امریکہ جو انیس سو اکانوے میں کویت سے عراقی فوجوں کو نکالنے کے بعد دنیا کی واحد سپر پاور کے منبر پر بیٹھ کر نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کی بات کررہا تھا۔وہ امریکہ جو اب سے ساڑھے تین برس پہلے صدام حسین کے بغداد سے فرار ہونے کے بعد پورے مشرقِ وسطی میں جمہوریت کی بادِ نسیم چلنے کی خوشخبری سنا رہا تھا۔ آج وہی امریکہ اس سطح پر آگیا ہے کہ وینزویلا جیسے منہ پھٹ چھوٹے سے پڑوسی کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں داخلہ رکوانے کے لیئے پسینے پسینے ہورہا ہے اور وہ لاطینی امریکہ جسے ڈیڑھ صدی سے واشنگٹن اپنا بیک یارڈ یا پچھواڑہ سمجھتا رہا ہے۔ اسی بیک یارڈ کے آدھے سے زیادہ ممالک وینزویلا کو سلامتی کونسل میں داخلہ دلوانے پر تلے بیٹھے ہیں۔

شمالی کوریا جیسا ملک جس کو عالمی برادری میں کوئی منہ نہیں لگاتا جس کے پاس اپنے عوام کا پیٹ بھرنے کے لیئے پورا اناج تک نہیں اور جس کے شہر اور گاؤں ایندھن کی قلت کے سبب شام ہوتے ہی اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔
وہی شمالی کوریا باقاعدہ تاریخ کا اعلان کرکے ایٹمی دھماکہ کرتا ہے اور اس کے بعد بھی امریکہ کے بس میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ شمالی کوریا سے چھ فریقی مذاکرات کی میز پر دوبارہ آنے کا مطالبہ کرے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کو موثر بنانے کے لیئے چین کا پوری طرح مرہونِ منت ہو۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد ہر دوسرے روز امریکہ پر ایک پھبتی کستے ہیں اور امریکہ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی خبر لے یا پھر عراق کے کمبل سے جان چھڑانے کے لیئے ایران کو تعاون پر آمادہ کرے۔

جب ساڑھے تین برس قبل امریکی دستے بغداد میں داخل ہوئے تھے تو بیشتر بغداد خوشی سے ناچ رہا تھا۔ نوے فیصد کرد، پچھتر فیصد شیعہ اور پچاس فیصد سنی امریکہ کی فوج کشی کے بارے میں یا تو خوش تھے یا پھر غیر جانبدار تھے لیکن آج واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سڈیز کا کہنا ہے کہ اکسٹھ فیصد عراقی امریکی اور برطانوی افواج پر مسلسل حملوں کے حمایتی ہیں۔

 ایران کے صدر محمود احمدی نژاد ہر دوسرے روز امریکہ پر ایک پھبتی کستے ہیں اور امریکہ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی خبر لے یا پھر عراق کے کمبل سے جان چھڑانے کے لئے ایران کو تعاون پر آمادہ کرے
 

صدر بش کو عراقی عوام کو اس مرحلے تک پہنچانے کے لیئے اس عرصے میں ستائیس سو سے زائد امریکی فوجیوں کی قربانی دینی پڑی ہے اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی۔

عراق پر فوج کشی کے صرف دو ماہ بعد فوجی مہم کی کامیابی کا اعلان کرنے والے جارج بش کو شاید گمان تک نہ ہوگا کہ ساڑھے تین برس بعد انہیں اعتراف کرنا پڑے گا کہ عراق ویتنام بنتا جارہا ہے۔

میرے پڑوس میں پان کا کھوکھا لگانے والے عبداللہ کے بقول عراقی امریکہ سے جو برتاؤ کر رہے ہیں اس کے بعد امریکہ اور اس ناقابلِ اشاعت لطیفے والے شیر میں کوئی فرق نہیں رہا جس کے ساتھ ہونے والے سلوک کی خبر اخبار میں چھپ گئی تھی۔