Tuesday, 29 August, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST
تحریر و تصاویر: عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور کی نیرنگ گیلری میں جدید فوٹو گرافی کی ایک نمائش شروع ہوئی ہے جِس میں اٹھارہ نوجوان پاکستانی فوٹوگرافروں کی تصاویر پیش کی گئی ہیں۔
اِن تصویروں میں انسانی چہروں سے لے کر فطری مناظر اور ساکت اشیاء تک مختلف مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔
گیلری کے روح و رواں نیّر علی دادا کا کہنا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں کام کی اُمنگ اور آگے بڑھنے کا شدید جذبہ پایا جاتا ہے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُن کی مناسب رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اِس تصویری نمائش کا مقصد نوجوانوں کے کام کو منظرِ عام پر لانا ہے تاکہ اُن کے فن کی مناسب تحسین ہوسکے۔
![]() | |
| لاہور کی بادشاہی مسجد ایک نوجوان فوٹوگرافر کی نظر میں |
نمائش میں شامل فنکار تصویروں کی اس نمائش میں جِن نوجوان فوٹوگرافروں کا کام دکھایا گیا ہے اُن کے نام یہ ہیں: یاسر نثار، رضوان غیث، عثمان احمد، ظہیر ستار، جواد ذکریا، سروش انور، مظفر بخاری، آریانہ، بابر ہارون منگی، احمد ۔ آر ۔ شاہ، عثمان میر، خالد سعید بخاری، یوسف فیاض، اسد اللہ طاہر، عمران احمد خان، انصار پال، زاہد علی خان، اعجاز آسی۔ |
عثمان کا کہنا ہے کہ ہر انسانی چہرے پر ایک داستان رقم ہوتی ہے اور آنکھیں اس قصّے کو بیان کرتی ہیں، لیکن اس کہانی تک رسائی ہر آدمی کا کام نہیں۔
![]() | |
| نیّر علی دادا اور اظہر جعفری نمائش کا افتتاح کر رہے ہیں |
نوجوان خاتون سروش انور نے بھی حال ہی میں یہ شوق اپنایا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کرتے ہوئے انھوں نے شوقیہ جو تصاویر اتاری تھیں وہ پرنٹ ہوکر آئیں تو انھیں بے حد سراہا گیا اور خاتوں کو احساس دلایا گیا کہ اُن کے اندر ایک تصویر کار کی روح کارفرما ہے۔ چنانچہ سروش انور نے مناظرِ فطرت کی تصویر کاری کو ایک مستقل مشغلے کے طور پر اپنا لیا ہے۔
![]() | |
| ’ڈوبتے سورج کو وقتِ شام دیکھ‘ ایک نوجوان عکاس کی کامیاب کوشش |
ناقد نے نمائش میں آویزاں ایک تصویر کی جانب اشارہ کیا جس میں شہری ٹریفک کا منظر دکھایا گیا تھا لیکن یہ تصویر کسی اخبار میں چھپنے والی صحافتی تصویر سے بےحد مختلف تھی کیونکہ اس میں فوٹوگرافر رنگ و نور سے کھیلتا ہوا نظر آتا ہے اور سڑک کسی پینٹر کے برش سے لگایا ہوا بڑا سا سٹروک معلوم ہوتی ہے جبکہ برقی قمقمے چھوٹے برش سے لگائے ہوئے نقطے!
![]() | |
| شام کے دھندلکے کو کیمرے کی گرفت میں لینا ہر فوٹوگرافر کا خواب ہے |