Sunday, 13 August, 2006, 08:58 GMT 13:58 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
یہ کوئی داسی ہے، عالم ہے یا ولی
یا خوشبو اور رنگوں سے گھرا ہوا کوئی طلائی جزیرہ
یا پھولوں کا وہ تختہ جو ناؤ کی طرح رواں ہے
اور اسکی نرم نگاہیں افق کو تک رہی ہیں
یہ بیروت ہے
ہزار بار مرتا ہے، ہزار بار جیتا ہے
یہ اس نادیہ ٹونی کی ایک نظم ہے جو تئیس برس پہلے اڑتالیس برس جی کر مر چکی ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی شاعری صرف ایک ماہ پرانی ہو۔
اگر میں نادیہ کی آنکھوں سے دیکھوں تو لبنان اور اس خوبرو نڈھال عورت میں کیا فرق ہے جو فٹ پاتھ پر کھڑی کھڑی ہر راہ چلتے کی چھیدتی ہوئی نگاہیں سہہ رہی ہو۔
اس عورت اور اس لونڈی میں کیا فرق ہے جو ایک آقا سے دوسرے آقا کو منتقل ہوتی رہتی ہے۔ جسے ہزار برس پہلے یروشلم آزاد کرانے والے صلیبی جہادیوں نے امویوں سے چھین کر ریپ کیا۔ جو صلیبیوں سے عثمانی ترکوں کو منتقل ہوگئی۔ جسے عثمانیوں سے فرانسیسیوں نے لے کر اپنے حرم میں رکھ لیا۔ اس کا بناؤ سنگھار کیا، ناز نخرے سکھائے اور طبیعت بھرگئی تو کوٹھے پر بٹھا دیا۔
جب جب بھی اس نے عزت کی زندگی اپنانے کی کوشش کی اس کے تین بچوں کو ترکے کی تقسیم میں الجھا کر بندوقیں پکڑا دی گئیں۔مجرئی تماشبینی کرتے رہے، بچے ایک دوسرے کو لہولہان کرتے رہے۔
خلیل جبران نے کہا تھا ’قابلِ رحم ہے وہ قوم جو تقسیم کردی جائے اور اس کا ہر گروہ خود کو قوم سمجھنے لگے‘۔
مجھے کیوں لگتا ہے کہ اس کہاوت نے بھی کوہ لبنان پر جنم لیا ’غریب کی جورو سب کی بھابھی‘۔ اس کے دروازے پر کوئی کنڈی نہیں ہے۔کوئی بھی ہمسایہ دن ہو یا رات جب چاہتا ہے، بغیر دستک اندرگھس آتا ہے اور باہر اپنے جوتے چھوڑ دیتا ہے۔ کوئی زدوکوب کرکے اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کوئی چمکار کر ہوس مٹاتا ہے۔
کیا لبنان کی مسلسل بے بسی تماشبینوں کی بھری مجلس میں فواد سینیورا کے بہتے آنسوؤں سے بھی پوری طرح آشکار نہیں ہوسکی۔ کیا آپ نے کسی ایسے ملک کے بارے میں سنا ہے جس کے ایک کروڑ چالیس لاکھ بچوں میں سے ایک کروڑ ملک سے باہر بس گئے ہوں۔
نادیہ ٹونی نے یہ لائنیں کس دل سے لکھی ہوں گی
کیا مجھے جھوٹ نے جنم دیا ہے
تو کیا میں اس ملک میں پیدا ہوئی جس کا وجود ہی نہیں۔
مگر نادیہ کی شاعری سے بھی ڈھائی ہزار سال پہلے عہد نامہ عتیق میں یہ لائن لکھی جاچکی ہے۔ جو کوہ لبنان پر تشدد کرے گا خود بھی لپیٹ میں آوے گا۔