Tuesday, 25 July, 2006, 04:20 GMT 09:20 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
وہ پاکستانی نوجوان جنہوں نے جولائی کے وسط میں ویلز کے شہر کارڈف میں منعقد ہونے والے مباحثوں کے عالمی مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اِن تمام مقرّرین کا تعلق ’ڈیبیٹنگ سوسائٹی آف پاکستان‘ سے ہے جسکا قیام 1991 میں عمل میں آیا تھا۔
اس کے علاوہ کوارٹر فائنل تک پہنچنے کے لیئے آٹھ کے آٹھ مقابلوں میں کامیابی کا اعزاز پاکستان کے علاوہ صرف آسٹریلیا نے حاصل کیا ہے۔
دنیا بھر کے نوجوان مقرّرین میں تیسرے بہترین مقرر کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہوا اور انگریزی بطور ثانوی زبان والے ممالک کے مقابلے میں پاکستانی نوجوانوں نے حسبِ سابق اس مرتبہ بھی ٹرافی حاصل کی۔ یہ تمام اعزاز’ڈیبیٹنگ سوسائٹی آف پاکستان‘ کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
سوسائٹی کی روحِ رواں اور موجودہ صدر مسز سونو رحمان نے بتایا کہ نوجوانوں میں مختلف نقطہء نظر رکھنے والوں کے لیئے برداشت اور رواداری کا مادہ پیدا کرنا اِس سوسائٹی کا بنیادی مقصد ہے کیونکہ اختلافِ رائے کی گنجائش جمہوریت کا کلیدی عنصر ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ حاضر دماغی مباحثے میں کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے کیونکہ اِن مقابلوں میں موضوعِ بحث کا اعلان موقعے پر ہی کیا جاتا ہے اور تقریر کو پہلے سے رٹ لینے کی تکنیک کام نہیں آتی۔ مخالفین کے دلائل کو مسترد کرنے کےلیئے بُرہانِ قاطع کے مقابل قاطعِ برہان کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔
عالمی مقابلوں میں حصّہ لینے کا طویل تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایشیائی ممالک میں کس طرح کا طرزِ اِستدلال کام آتا ہے اور یورپی ممالک میں حاضرین کِن دلائل سے متاثر ہوتے ہیں۔
ویلز کے شہر کارڈف میں منعقد ہونے والے عالمی مباحثے میں کامیابی حاصل کرنے والے پاکستانی طالبِ علم انصر آفتاب نے بتایا کہ جِن ممالک میں انگریزی مادری زبان کے طور پر رائج نہیں، اُن کا علیحدہ مقابلہ بھی ہوتا ہے جس میں پاکستان ہمیشہ ٹرافی حاصل کرتا ہے اور اس سال بھی اُس نے ٹرافی حاصل کی ہے۔ ڈیبیٹنگ سوسائٹی آف پاکستان کے نوجوان رکن عدیل شہریار کا کہنا ہے کہ امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ اوپن مقابلوں میں بھی پاکستان نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے حالانکہ اِن تمام ملکوں میں پہلی زبان انگریزی ہے جبکہ ہمارے یہاں انگریزی کو دوسری یا تیسری زبان کا درجہ حاصل ہے۔
![]() | |
| ڈیبیٹنگ سوسائٹی آف پاکستان کے عدیل شہریار |