Tuesday, 25 July, 2006, 06:25 GMT 11:25 PST
وجاہت مسعود
لندن
لبنان کی سرزمین پر آگ اور خون کا کھیل پھر سے لوٹ آیا ہے۔ 12 جولائی کو حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں ایک فوجی ٹھکانے پر حملہ کر کے آٹھ فوجیوں کو ہلاک اور دو کو اغوا کر لیا۔ اسرائیل نے فوری طور پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے لبنان پر فضائی حملے شروع کر دیے۔ ہفتے بھر تک فضا سے آگ برسانے کے بعد زمینی حملے شروع ہوئے۔ بظاہر تو یہ کارروائی جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کی جا رہی ہے لیکن اس میں عام شہریوں کے جان ومال کا بے پناہ نقصان لازم ہے۔ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والے مناظر میں تاحد نظر کھنڈر بستیوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
اس بدنصیب خطے میں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے الجھے ہوئے مفادات کے پیش نظر جنگ کے فوری خاتمے کا امکان نہیں۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کا تانا بانا کچھ بھی ہو، حقیقت یہ ہے کہ کچھ عرصے سے یہ خطہ بارود کا ڈھیر بن چکا تھا اور مسلح تصادم کی چنگاری کہیں بھی بھڑک سکتی تھی۔
مردم شماری کے خدشات |
لبنان گزشتہ کئی دہائیوں سے علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات کی رزم گاہ بنا ہوا ہے۔ ستر کی دہائی میں یہاں فلسطین کی تنظیم آزادی نے پناہ لی تھی۔ 1982 میں اسرائیلی جارحیت اسی کا ردعمل تھی۔ 1982 میں ایران کی پشت پناہی سے حزب اللہ قائم ہوئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت شام نے حزب اللہ کی مخالفت کی تھی۔ حکومتی سطح پر ایران حزب اللہ کو کسی قسم کی فوجی یا مالی امداد فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف سفارتی اور روحانی رہنمائی کا اقرار کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ بین الاقوامی برادری اس قسم کے دعوؤں کو آسانی سے قبول نہیں کرتی۔
لبنان کی روایتی فوج کے برعکس حزب اللہ گوریلا لڑائی لڑنے والے تربیت یافتہ جنگجوؤں پر مشتمل ہے جسے ایران اور شام کی پشت پناہی حاصل ہے۔ 1982 سے لبنان پر قابض اسرائیلی فوج کو سنہ 2000 میں حزب اللہ ہی نے لبنان سے باہر نکالا تھا۔
حالیہ تصادم میں اسرائیل کا مفاد یہ ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کا صفایا کر کے وہاں لبنانی فوج یا بین الاقوامی امن فوج کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔ اس سے اسرائیل کا یہ دیرینہ مقصد پورا ہوتا ہے کہ مصر اور اردن کی طرح لبنان کے ساتھ ملنے والی اسرائیلی سرحد کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔
عالمی اور علاقائی طاقتوں کی رسہ کشی میں گزشتہ کچھ مدت سے ایک نیا کردار داخل ہوا ہے۔ جو بڑی حد تک نا دیدہ ہے مگر جس کی انگلیوں کے نشان ہر جگہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ عامل مذہبی حوالے سے سیاست کرنے والی بنیاد پرستی ہے۔ لبنان کے تصادم سے بنیاد پرست قوتوں کو موقع ہاتھ آئے گا کہ مذہبی تفرقے کے شعلے کو مزید ہوا دی جائے۔ مزید یہ کہ مسلم اکثریتی ممالک میں حکمران قوتوں اور ریاستی اداروں کو لتاڑا جائے۔
اگرچہ ابھی مسلم ممالک میں یہ ردعمل پوری طرح واضح نہیں ہوا مگر پاکستان میں اس کے اشارے ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ جمعے کے روز متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن نے پشاور کی مدنی مسجد میں تقریر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی فوج کو لبنان روانہ کیا جائے۔ بلکہ مولانا کے لفظوں میں مسلم ممالک کی مشترکہ فوج لبنان بھیجی جائے۔ 1956 میں نہر سویز کے بحران سے لے کر1991 میں جنگِ خلیج اور2001 میں افغانستان جنگ تک مسلم ممالک کی اساطیری فوج کا واہمہ پاکستانی سیاست کے ساتھ ساتھ چلا ہے۔ بین الاقوامی حالات کے اس سادہ لوح تجزیے کا اصل مقصد داخلی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ریاست کو دیوار سے لگانا ہوتا ہے جو خود بھی موقع بےموقع مذہب کا نام استعمال کرنے سے نہیں چوکتی۔
حسب معمول اقوام متحدہ کو غیرمسلم مفادات کا ترجمان ادارہ قرار دے کر رد کیا جائےگا۔ او آئی سی کو بے حسی کا طعنہ دیا جائے گا۔ پاکستان کے عوام کو یہ بتانے کی زحمت نہیں کی جا رہی کہ او آئی سی سرے سے فوجی اتحاد ہی نہیں۔ اسی طرح لبنان میں پیچیدہ سیاسی صورت حال سے صرف نظر کرتے ہوئے عوام کو یہ بتانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جا رہی کہ لبنان کے تصادم میں شام اور ایران کا ردعمل محتاط کیو ں ہے؟ اردن، مصر اور سعودی عرب کی حکومتوں کا رد عمل دبا دبا کیوں ہے اور نہ یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ چین اور روس کی حکومتیں اس تنازعے پر خاموش کیوں ہیں؟
اسرائیلی پالیسی |
1978 اور1982 میں لبنان پر فوج کشی کے تجربات سے اسرائیل جان چکا ہے کہ جغرافیائی طور پر لبنان پر فوجی قبضہ کرنا آسان اور اسے برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔ چنانچہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد اسرائیل لبنان سے فوج واپس بلانے کو ترجیح دے گا۔ غالب امکان یہ ہے کہ اس تصادم میں ان گنت انسانی جانیں ضائع ہوں گی۔ حزب اللہ کو بالآخر ستمبر 2004 میں منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 1559 کے مطابق مسلح جدو جہد ترک کر کے سیاسی کردار اپنانا پڑے گا اور حزب اللہ کی مجاہدانہ فتوحات کے خواب دیکھنے والے پھر نسیم حجازی کے ناولوں سے رجوع کریں گے۔