Saturday, 15 July, 2006, 15:10 GMT 20:10 PST
رضیہ سلطانہ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستانی کمیونٹی میں منشیات یا ڈرگز کے استعمال کے بارے میں لوگوں کے خیالات جاننے کے لیئے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق برطانیہ کی پاکستانی کمیونٹی میں منشیات استعمال کرنے والوں کی 94 فیصد تعداد بہ وجوہ مذہب کو انتہائی اہم سمجھتی ہے۔
ان تحقیقات میں شامل یاسر احمد کا کہنا ہے کہ ڈرگ ایکشن کمیٹی والتھم فارسٹ اور برطانوی محکمہ صحت کے تعاون سے ہونے والی اس تحقیق میں برطانیہ بھر کے نوے مراکز نے حصہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی مراکز میں منشیات کے عادی برطانوی مسلمانوں کے بارے مکمل اعداد و شمار نہیں ہیں کیونکہ مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی مسلمان بدنامی اور شرمندگی کے باعث ایسے معاملات کو سامنے نہیں لاتے۔ ’اکثریت تو اس حقیقت کو ہی تسلیم نہیں کرتی کہ کمیونٹی کے اندر ایسا کچھ ہو بھی رہا ہے‘۔
یاسر کا کہنا تھا کہ ’منشیات استعمال کرنے والے زیادہ تر افراد مساجد کے امام حضرات سے مدد لینا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اکثرمساجد کے امام اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتے‘۔
منشیات: مسلمانوں کے اعداد و شمار |
انہوں نے بتایا کہ ترک منشیات کے مراکز کا عملہ حیران ہے کہ اگر پاکستانی کمیونٹی میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو وہ کیوں ان سینٹروں کی سروسز سے فائدہ نہیں اٹھاتے؟۔
دوسری طرف یاسر یہ بھی کہتے ہیں کہ ان مراکز میں فراہم کی جانے والی سروسز مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ مڈل کلاس انگریزطبقے کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہیں اور دوسرے یہ کہ ان سینٹروں کا عملہ مسلمانوں کے مسائل اور اس کا پس منظر سمجھنے سے قاصر ہے۔
![]() | |
| ’منشیات استعمال کرنے والے زیادہ تر افراد مساجد کے امام حضرات سے مدد لینا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اکثرمساجد کے امام اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتے‘ |
ان کا کہنا تھا کہ مسلمان لڑکیوں میں منشیات استعمال کرنے کی وجہ صنفی امتیاز ہے کیونکہ عمومًا دیکھا گیا ہے کہ مسلمان گھرانوں میں لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دی جاتی ہے اور پابندیاں لگائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ان کے ذہنوں میں باغیانہ جذبات پیداہوتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کالج یا یونیورسٹی جانے والی لڑکیوں کو نشہ کرنے والی چیزوں نے زیادہ متاثر کیا۔
حسین یاسر، جو اب تیس سال کے ہونے والے ہیں، انہوں نے سولہ سال تک مسلسل نشہ کیا۔ وہ بتاتے ہیں’میں نے چودہ سال کی عمر سے چرس اور پھر کوکین پینی شروع کی، بس یونہی۔ کلاس میں کچھ دوست چرس پیتے تھے ان کی دیکھا دیکھی میں نے بھی شروع کر دی۔ دوستوں کے ساتھ پینے کا مزہ ہی کچھ اور تھا ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہم ایک دم بڑے ہو گئے ہوں‘۔
نشہ کرنے والوں کا خاص حلیہ |
کم عمری کے باوجود چرس آسانی سے ملنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ نشہ کرتے ہیں تو آپ کے اطراف ایسے لوگ جمع ہو جاتے ہیں جو خود بھی اس کا شکار ہوتے ہیں تو آسانی ہو جاتی ہے مگر چرس یا منشیات اتنی آسانی سے بھی نہیں ملتی۔ البتہ پاکستانی کمیونٹی میں کچھ لوگ اس کارروبار میں ہیں ان کے ذریعے بھی آسانی ہو جاتی تھی‘۔
ان کے مطابق چرس خریدنے کے لیئے وہ پارٹ ٹائم ملازمت کرتے تھے اور ساتھ ہی گروپ کا طریقہ یہ تھا کہ باری باری ایک شحض گروپ کے باقی افراد کے لیے چرس خریدتا تھا۔ اس طرح چرس بھی ملتی رہتی اور گروپ کے تمام لوگ ایک دوسرے سے جڑے بھی رہتے تھے۔
حسین کا کہنا ہے کہ ’جب آپ نشہ کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی بھی اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے کہ آپ کوئی الگ یا غلط کام کر رہے ہیں یعنی ایسا کام جو ایک نارمل معاشرتی زندگی سے ہٹ کر ہو۔ آپ خود کو یہ کہہ کر مطمئن کرتےرہتے ہیں یہ بھی لوگوں سے گھلنے ملنے کا ایک طریقہ ہی تو ہے۔ معاشرے کا چلن ہی ایسا ہے‘۔
![]() | |
| ’لوگوں کے ذہنوں میں نشہ کرنے والوں کا ایک خاص حلیہ ہے ‘ |
حسین کا کہنا تھا کہ لوگوں کے ذہنوں میں نشہ کرنے والوں کا ایک خاص حلیہ ہے اور ان کے ذہن اس طرف کبھی نہیں جاتے کہ نشہ کرنے والے لوگ ہمارے معاشرے میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور اچھی ملازمتیں کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ایک تصور یہ بھی ہے کہ مسلمان اور پاکستانی نشہ نہیں کرسکتے، جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے‘۔
حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے ماں، بہن یا بھائی کی وجہ سے منشیات نہیں چھوڑیں۔’منشیات ترک کرنے کا فیصلہ ہر لحاظ سے میرا ذاتی فیصلہ تھا اور میں سوچتا تھا کہ جب تک میں خود ارادہ نہیں کروں گا تو اس سے چھٹکارہ نہیں پا سکوں گا۔
منشیات چھوڑنے میں حسین کی مدد کرنے والی ان کی بڑی بہن مسز خان نے بتایا کہ سب سے پہلے والدہ کوشک ہوا کہ حسین نشہ کرنے لگا ہے لیکن مسز خان کے بقول انہوں نے اس پر اعتبار نہیں کیا لیکن آخر یہ بات سچ ثابت ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ نشہ کرنے کے کچھ عرصے ہی میں حسین کے رہن سہن کا انداز ہی بدل گیا تھا۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پرغصہ کرنے لگا حالانکہ اس سے پہلے جب وہ اسے ڈانٹتیں تھیں یا سخت الفاظ بھی کہتیں تھیں تو وہ سن لیا کرتا تھا۔ تاہم حسین کے بارے میں سچائی جان لینے کے باوجود بھی گھر والے اس سے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔
گھر والے بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے |
مسز خان کا کہنا تھا کہ والدہ جب بھی حسین سے اس موضوع پر کوئی بات کرنے کی کوشش کرتیں یا اس کی سرزنش کرتیں تووہ آگے سےسو سو طرح کی دلیلیں دیتا۔ اس بات پر دونوں میں جھگڑا شروع ہو جاتا تھا۔ آخرحسین گھر سے چلا جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھر سے جانے کا وقفہ گھنٹوں سے دنوں اور پھر مہینوں میں تبدیل ہوتا گیا۔
’پانچ چھ سال قبل وہ گھر سے بالکل ہی دور ہو گیا۔ بچوں کو کسی اچھے مقام پر دیکھنے کی تمنائی والدہ کو حسین کی اس حالت نے بیمار کر دیا اور ان کی حالت کے پیش نظر ہم نے بھی حسین کوگھر لوٹنے کے لیئےنہیں کہا لیکن منشیات چھوڑنے کے بعد وہ خاصا بدل گیا ہے۔اب جب وہ میرے گھر آتا ہے تو بچوں سے کھیلتا ہے ان سے باتیں کرتا ہے۔
![]() | |
| بشیر خان کا کہنا تھا کہ مسلم نوجوانوں میں منشیات کی وجوہات بے روزگاری، گھریلو ماحول اور تعلیمی سہولتوں کی عدم موجودگی ہے |
ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجوہات بے روزگاری، گھریلو ماحول، مناسب طبی اور تعلیمی سہولتوں کی عدم موجودگی ہے۔
ان کا کہنا تھا’ایشائی لوگ برطانیہ آ کر ساری زندگی کمانے میں لگے رہتے ہیں اور بچوں کی تعلیم اور تربیت پر ضروری توجہ نہیں دے پاتے۔ تعلیم کی کمی اور ملازمت کے نہ ملنے سے نوجوانوں میں فسٹریشن پیدا ہوتی ہے اور وہ جرائم یا منشیات کی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں‘۔
ان کی تنظیم نے حال ہی میں ڈیپارمنٹ آف ہیلتھ اور یونیورسٹی آف سینٹرل لنکا شائر کی جانب سے منشیات کے استعمال کے بارے میں والدین، نوجوانوں اور کمیونٹی میں رہنے والے پروفیشنل افراد کے رحجانات جانے کے لیئےتحقیق کی تاکہ منشیات کے تدارک کے لیئے ایسے مراکز قائم کیے جا سکیں جہاں مسلمان بچوں کو تعلیم اور خاص کر منشیات کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔
بشیر چوہدری کا کہنا تھا کہ ’والدین مقامی سینٹروں میں بچوں کو بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ وہاں شراب عام ہے اور ایسے مراکز کی تعداد بہت ہی کم ہے جہاں مسلمان بچوں کے مطابق ماحول ہو۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نوجوان پارکوں یا پھر سڑکوں پر گھومنے پھرنے یا غلط لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مسلمانوں کا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بچے کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ نشہ کرتاہے، چور، سمگلر یا ٹھگ ہے۔ بچوں کے غلط کاموں کی اس وقت تک پردہ پوشی کی جاتی ہے جب تک وہ ایسی بند گلی میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں سے انہیں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اس معاشرے میں تیزی سے پھیلتی منشیات کی برائی کو ایک مسئلہ تسلیم کرنے کے لیئے تیار نہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے معاشرے کا مزاج بن گیا ہے کہ ہم بری باتوں پربات نہیں کرناچاہتے۔
![]() | |
| والدین پیسہ کمانے کی مشین بن گئے ہیں: یوسف خنصہ |
اس مسئلے کے پس منظر میں امام کے کردار کے بارے میں یوسف خنصہ کا کہنا تھا کہ ’اسلام میں امام حضرات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ اسی وجہ سے منشیات استعمال کرنے والے امام حضرات کے پاس جاتے ہوں لیکن ایک امام ہزاروں متاثرہ افراد کی مدد تو نہیں کر سکتا‘۔
منشیات استعمال کرنے والوں کو امام حضرات کی طرف سے مطلوبہ تعاون فراہم نہ کیے جانے کی ایک شکایت پر انہوں نے کہا کہ ’زبان بھی ایک رکاوٹ ہو سکتی ہے کیونکہ جو بچے یہاں پیدا ہوئے وہ صرف انگریزی بولتے ہیں تو ایسے نوجوان جس امام کے پاس گئے ہوں گے اسے اس مسئلے کے بارے میں آگاہی تو ہو مگر وہ زبان ہی نہ جانتا ہو تووہ انہیں اپنی بات نہیں سمجھا سکتا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ’والدین پیسے کمانے کی مشین بن گئے ہیں اور بچے، جس کے لیے وہ کما رہے ہیں ان کے پاس وقت نہیں ہے‘۔
لڑکیوں میں منشیات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’جیسے ہی لڑکیاں کالج یا یونیورسٹی تک پہنچتی ہیں والدین ان کی جانب سے پہلے کی نسبت لاپرواہ ہو جاتے ہیں۔ وہ کیسی لڑکیوں کو دوست بناتی ہیں والدین کو کچھ پتہ نہیں ہوتا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی لڑکیاں بھی دیکھی ہیں جو حجاب پہنتی ہیں مگر ان کے ہاتھوں میں سگریٹ دبے ہوتے ہیں اور اگر وہ سگریٹ پی سکتی ہیں تو بڑی آسانی سے منشیات کا شکار ہوسکتی ہیں۔
![]() | |
| منشیات کے فروغ میں معاشرتی تعلقات بھی ذمہ دار ہیں: نعیم |
ان کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں کو یہاں کے والدین چھپاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پیچھے ان کے ملکوں میں رہنے والے رشتے دار، دوست احباب اس طرح کے انکشاف کے بعد ان پر انگلیاں اٹھائیں گے کہ تم ایک اچھے مستقبل کے لیئے برطانیہ گئے اور وہاں جا کر بچے ہی کھو دیے۔