Thursday, 13 July, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST
حسن مجتبی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
انیس سو ترانوے میں بمبئی میں دھماکوں کے مبینہ ملزمان داؤد ابراہیم اینڈ کمپنی کی پشت پناہی کے الزمات آج تک انڈیا کی حکومت پاکستان پر لگاتی ہے اور پاکستان سب کی تردیدیں کرتا ہے۔ تب بھی صحافیوں سمیت بہت سے لوگ یہ دعوے کرتے تھے کہ کراچی میں ڈیفینس سوسائٹی میں کلفٹن پل کے اس پار اور جنوبی کراچی کے اور حصوں میں بمبئی دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث بتائے جانے والے ’بھائی لوگ‘ ہیں اور کس کے زیر سایہ ہیں۔
کراچي میں اور نہیں تو بہت سے میمن بچوں ’میں یہ افواہیں گشت کررہی ہوتی تھیں کہ وہاں ’فلانے‘ کہ ’ڈھمکانے‘ بھائی کی حفاظت کے لیئے مبینہ طور تب پاکستانی فوج کے کمانڈوز سول کپڑوں میں مامور ہیں۔ یہ تمام باتیں کراچي میں ایک کھلا لیکن ’قومی راز‘ تصور کی جاتی تھیں اور اب بھی ہوں گی۔
تب مرکزی اور جنوبی کراچي کے کاروباری حلقوں اور برادریوں میں ایسے نامی گرامی مہمانوں کے بارے میں عجیب اور غریب لیکن چونکا دینے والی افواہ نما کہانیاں گردش میں تھیں جن میں ان خانوادوں میں ایک نام توفیق بھائی جالیہ والا کا بھی تھا جس کا بظاہر تعلق ’ہری پگڑی والوں‘ سے بتایا جاتا تھا اور جو بعد میں پر اسرار طور پر سعودی عرب میں عمرہ یا شاید حج کے موقع پر ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سیٹھ جالیہ والا بھی مبینہ طور ’ممبئي کے بھائی لوگوں‘ کے بہت ہی قریب بتائے جاتے تھے جنکے چرچے دبئي سے کراچی تک تھے اور اب بھی شاید ہونگے۔
ستمبر دو ہزار ایک میں میرے تب کے مادر جریدے ماہنامہ ’نیوز لائين‘ کراچي نے داؤد ابراہیم سمیت بھائی لوگوں کی کراچی کے شب و روز پر اور خاص طور شبینوں پر ایک کور اسٹوری شائع کی تھی جس سے کافی تہلکہ مچنا تھا لیکن بدقسمتی سے ستمبر الیون کی دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہوگیا اور میڈیا میں داؤد ابراہیم اور دیگر ’بھائی لوگوں‘ کے شب و روز کی کہانیاں گیارہ ستمبر کی دہشت گردی کی خبروں میں دب گئیں ورنہ ’نیوزلائن‘ کی اس کہانی کا چرچا بقول شخصے، زبان زدِ عام ہو جاتا۔
’بھائی لوگوں‘ کی کہانی دب گئی |
کچھ عرصہ قبل امریکی محمکمۂ خزانہ نے بھی داؤد ابراہیم کے مبینہ طور پاکستانی شناختی کارڈ، ایڈریسوں اور جعلی پاسپورٹوں کے کوائف و تفاصیل جاری کی تھیں جن میں ان کی جائے پیدائش ایک جگہ ’نزد مزار عبداللہ شاہ غازی کلفٹن کراچی‘ اور رہائش کے پتے ڈیفنس کراچي درج تھے۔
پاکستانی حکومت اس کی بھی سختی سے تردید کرتی آئی ہے قطع نظر اس کے کہ کراچی کے بہت سے لوگ ’بھائی لوگوں‘ کی ایسی ’شناختوں‘ کے بارے میں گلیوں میں بہت سی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔
ممبئی کے لیئےایک بار اس شہر کے جمے پلے سلمان رشدی نے لکھا تھا کہ یہ نیویارک کی بغیر ایڈٹ شدہ یا پھر سے تحریر کردہ کاپی ہے۔
اب یہ گیارہ جولائي کو سال بیانوے کی طرح ممبئي میں بم کے دھماکوں کا ایک اور بڑا سانحہ پیش آیا ہے اور جس کے مبینہ ذمہ داران کے نام ایک دفعہ پھر ڈائریکٹ پاکستان کے نہ سہی مبینہ طور پاکستان کی پروردہ کہی جانے والی انتہا پسند اور جہادی تنظیموں کی طرف جاتے ہیں۔
انہی دنوں میں واشنگٹن کا دورہ کرنے والے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری (مجھے تو اس میں یقیں نہیں لیکن اگر کوئي حیات بعد الممات چيز ہے تو میاں محمود علی قصوری اپنی تربت میں ضرور بیچینی سے کروٹیں بدلتے ہونگے) نے تو مبینہ طور ممبئی دھماکوں کا تعلق کشمیر سے جوڑ ہی دیا جس کی بعد میں پاکستانی فارن آفس نے تردید کی۔
ایک بار پھر |
جب کہ کل بی بی سی اردو کی نشریات میں انیس سو بیانوے کے ممبئي دھماکوں پر تحقیقی کتاب لکھنے والے ہندوستانی صحافی حسین زیدی نے فوراً ہی تازہ دھماکوں کے پچھے ممکنہ ہاتھ جہادی تنظیم ’لشکر طیبہ‘ کا دیکھ لیا اور بھی بہت سے آزاد رائے رکھنے والے حلقے اس بڑی واردات کے پیچھے نام ’لشکر طیبہ‘ کا ہی لے رہے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے انیس سو اٹھاسی میں پاکستان کے حیدرآباد سندھ میں ایک اسی قسم کے ’بلیک فرائيڈے‘ جیسی واردات کے دوران منٹوں کے اندر جامشورو اور قاسم آباد کی سندھی آبادیوں میں بہت سے لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ تیس ستمبر کی دہشت گردی کے پیچھے کونسی تنظیم یا کون لوگ تھے۔
مانا کہ کشمیر میں ہندستانی حکومت نے انسانی حقوق اور انسانیت کی کھٹیا کھڑی کرلی ہے لیکن جینوئن جنگ آزادی، انسانی حقوق اور دہشت گردی میں ایک واضح فرق ہے۔ آج نہیں تو کل بر صغيیر میں بھی لوگ ماننے لگیں گے کہ یہاں آزادی و انصاف کے تمام راستے صرف اور صرف اہنسا کے راستوں سے ہی گذر کر جاتے ہیں۔