Sunday, 14 May, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پچھلے سوموار کو بی بی سی ٹی وی چینل نیوز ٹوئنٹی فور پر یہ واقعہ ہوا کہ ایک کمپیوٹر ایکسپرٹ گائے کیونے کو کمپوٹر ساز ادارے ایپل سے متعلق ایک تنازعے پر گفتگو کے لیے مدعو کیا گیا۔
انہیں ٹی وی سٹوڈیو کے برابر والے کمرے میں اپنی باری کے انتظار میں بٹھا دیا گیا۔اس دوران جو ٹیکسی ڈرائیور مسٹر کیونے کو پروگرام کے بعد گھر چھوڑنے کے لیے ٹی وی سٹیشن کے استقبالیے پر انتظار کررہا تھا اس نے ریسیپشن ڈیسک پر مسٹر کیونے کا نام لیا۔ وہاں موجود ایک اسسٹنٹ سمجھا کہ یہی مسٹر کیونے ہیں چنانچہ اسسٹنٹ نے ٹیکسی ڈرائیور کو نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ براہ راست اسٹوڈیو پہنچا دیا۔
اس سے پہلے کہ ٹیکسی ڈرائیور اپنے بارے میں منہ کھولتا اسکے کالر پر مائیکروفون لگ چکا تھا اور پریزینٹر نے اسے کمپیوٹر ایکسپرٹ سمجھتے ہوئے سوالات شروع کردیئے لیکن چند سیکنڈ میں ہی اندازہ ہوگیا کہ کوئی گڑبڑ ہوگئی ہے چنانچہ پروگرام کچھ سیکنڈ کے لیے روکنا پڑا۔
اس دوران اصل مہمان ایکسپرٹ مسٹر کیونے اسٹوڈیو کے برابر والے کمرے کی ٹی وی اسکرین پر بے بسی سے یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔
بی بی سی نے مسٹر کیونے، ٹیکسی ڈرائیور اور ناظرین سے اس غلطی پر خاصی معذرت کی ہے۔ کوئی بھی ادارہ جہاں انسان کام کریں گے وہاں اس طرح کے واقعات بھی سرزد ہوں گے۔ مثلاً اردو سروس کو ہی لے لیں۔آپ کبھی کبھار رپورٹوں کے بلا ترتیب چل جانے پر یقیناً جز بز ہوتے ہوں گے جسے میزبان تکنیکی خرابی کہہ کر معذرت بھی کرتا ہے۔
اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ میزبان جلدبازی میں اسکرپٹ لکھتے وقت رپورٹوں کی ترتیب آگے پیچھے کر گیا ہو اور سٹوڈیو مینجر کو بتانا بھول گیا ہو۔
![]() | |
| پروگرام پیش کرنے کے دوران غلطیاں ہوتی رہتی ہیں |
اب سے کئی برس پہلے جن صاحب کو کھیلوں کا تازہ احوال پیش کرنا تھا وہ عین وقت پر بھاگتے ہوئے پھولی سانس کے ساتھ سٹوڈیو تو پہنچ گئے لیکن سکرپٹ بھول آئے۔چنانچہ انہوں نے صورتِ حال کو اس طرح سنبھالنے کی کوشش کی۔
سامعین اس وقت پورٹ آف سپین میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کا پہلا دن ہے۔اب تک کئی کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں اور بیسیوں رنز بن چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دفعہ یہ بھی ہوچکا ہے کہ سیربین کے ایک پروڈیوسر نے سٹوڈیو کی طرف دوڑتے ہوئے کسی اور پروڈیوسر سے ملاقات کے لیے بیٹھے مہمان کو مراسلہ تھما دیا کہ اس کا ترجمہ کرکے فوراً سٹوڈیو آ جائیے۔مہمان سوائے ہکا بکا ہونے کے کچھ نہ کرسکا۔
کبھی کبھار یہ بھی ہوا کہ جہاں نما کی نائٹ شفٹ مسلسل کرنے کے نتیجے میں عین اسوقت مراسلہ پڑھنے والے کو جھپکی آگئی جب اسکی باری آنے ہی والی تھی۔ایسے موقع پر پروگرام کا میزبان میز کے نیچے سے اپنے ساتھی کا پیر دبانے یا کلائی مروڑ کر جگانے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا۔ فیلڈ رپورٹنگ کے دوران بھی عجیب واقعات ہوتے ہیں۔
مثلاً گزشتہ برس پاکستان کے شہر اٹک سے بی بی سی سنگت کا پروگرام جب سیربین میں لائیو پیش کیا جارہا تھا اور نعیمہ مہجور اپنے لہکتے لہجےمیں سامعین سے مخاطب تھیں ایک بلی دیوار پر سے سیٹلائٹ فون پر کود گئی اور رابطہ منقطع ہوگیا۔
![]() | |
| بی بی سی اردو کی نعیمہ احمد مہجور اور جاوید سومرو پروگرام کی تیاری میں مصروف ہیں |
آپ کے سامنے یہ واقعات بیان کرنے میں اس لیے جھجک نہیں ہے کہ ایسے واقعات ہر انسانی ادارے میں ہوتے ہیں۔ویسے بھی آپ سب بی بی سی کے وسیع و عریض خاندان میں شامل ہیں اور خاندان والوں سے بھلا کس بات کا پردہ۔