Thursday, 11 May, 2006, 09:44 GMT 14:44 PST
حسن مجتبی
سان ڈیاگو، کیلفررنیا
کہتے ہیں میلے سے واپسی بڑی بری ہوتی ہے۔ لند ن سے واپسی پر میرے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔ آؤ بھگت لندن کے ائرپورٹ پر ہی شروع ہوئی۔
’لندن جس کا نام سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ امریکہ کےلیے برٹش ائر ویز میں سوار ہونےکےلیے جب لائن میں کھڑا ہوا تو قرعۂ میرے نام نکلا۔
امیگریشن کے بعد کسٹم کے کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے جوان نے پہلے دستی بیگ کو بدست خود ہی کھولنے اور مجھے اس سے دور رہنے کو کہا-
بیگ میں سے ایک ایک چیز کھول کر وہ اپنے سامنے میز پر رکھتا گیا۔ بیگ میں رکھی ہوئی سب چھوٹی موٹی چیزيں، جنہیں میں نے اپنے بچے، بیوی اور کچھ پڑوسیوں کےلیے کوونٹ گارڈن اور 'کوونٹ گارڈن کارنر' نامی دکان سے خریدا تھا۔ گفٹ شاپ کے ساؤتھ انڈین مالک نے سوینیئرز کےچار میگنٹ مفت دیے۔
دکان میں 'شاپ لفٹرز' پر نظر رکھنے والے ِاندر بھائی عرف اندر سنگھ جی سے پنجابی میں بات کرکے مزہ آیا تھا۔
انگلش چائے جس کی فرمائش میری دو پڑوسنوں جوانا اور جاپانی سلوویکو نے کی تھی۔ لندن کے پولیس والوں کے ماڈل جو میری بیوی کی فرمائش تھے- شہزادی ڈیانا کی تصویر والی پلیٹ۔۔۔پاپاراٹزیوں یا فرانس کی وڈیو گیمز جیسی ٹریفک یا بقول بہت سے پاکستانیوں کے’کارو کاری‘ یا ’آنر کلنگ‘ کی ماری ہوئی یہ شہزادی مجھے صرف دو وجوہات کی وجہ سے پسند ہے۔
ایک تو یہ میرے بہت ہی پیارے اور خوبصورت (مرد) دوست کی ہم شکل ہے اور دوسرا اس کی دنیا میں لینڈ مائينز یا بارودی سرنگوں کے خاتمے کےلیے کوششیں۔ جب بھی کہیں افغان یا دوسرے بارودی سرنگوں سے اپنے اعضا اور جان گنواۓ ہوئے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں تو مجھے نہ جانے کیوں شہزادی ڈیانا یاد آجاتی ہے۔
میری نسل نے اس کی شادی بھی دیکھی اور موت بھی۔ ایک ایسی شہزادی جو اس ماڈرن اور کرخت دنیا کی فیری ٹیلز میں فٹ اور ان فٹ نظر آتی ہے۔
لال ڈبل ڈیکر بس کا ماڈل، واکرز کے بسکٹ اس ظالم نے ایک ایک پیک کی ہوئی چيز کو پھر سے ادھیڑا اور پیک کیا اور جو چیز نہ کھل سکی اسے اپنے ہاتھ میں لیے دھات اور ہتھیار کی کھوج لگانے والے آلے سے چیک کیا-
![]() | |
| امریکی ائر پورٹ پر کھڑے مسافر |
آج کل کی دنیا کے ايرپورٹ نہ ہوئے پير پگارو کی درگاہ ہوگئے جہاں ہر کس ونا کس کو جوتے اتارنے پڑتے ہیں۔
مگر جیسے ہی میری پرواز امریکہ میں ڈالاس ائر پورٹ پر اتری تو سینٹرلی ائير کنڈیشنڈ عمارت میں ہونے کے باوجود بھی ٹیکساس کی لگتی لو محسوس ہوئی۔ یہ میرا کاؤ بوائےکنٹری۔
شیخ ایاز نے اسی گرمی کےلیے کہا تھا جس کا آزاد اور سلیس اردو میں منظوم ترجمہ ہوگا ’جہاں لو لگے جہاں آگ تپیں سو دیس مسافر میرا رے‘۔
’ویلکم بیک ٹو کیلیفورنیا‘ امریکی امیگریشن کے اہلکار نے میرے سفری دستاويز پر ٹھپہ لگاتے ہوئے کہا۔
لندن میں بہت کچھ دیکھا اور بہت کچھ دیکھنے کی تمنا رہ گئي جس میں مصدق سانول اور ان کی بیگم ڈاکٹر شہلا اور بچوں دارا اور صورت سے ملنا بھی شامل تھا۔ مظہر زیدی کے ساتھ رہنا بھی والدین کے ساتھ رہنے کے برابر ہے۔
حقیقت میں اسے اب چالیس یا چالیس سے اوپر والے ڈرنکرز کی بے بی سٹنگ کرنا پڑتی ہے۔ لندن اور پاکستان میں مظہر اور میرے دوسرے جو دوست ہیں احمد شمیم کی نظم کے ان شعروں کی طرح ہو گئے ہیں:
’پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے
جو ہم سے دور تھے لیکن ہمارے پاس رہتے تھے‘
تو ’دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگو‘ ! یہاں امریکہ میں کیا ہورہا ہے!
جرنلسٹکلی سپیکنگ، آنےوالی خزاں یا نومبر میں کانگرس کے انتخابات ہورہے ہیں۔ صدر بش کی معیاد صدارت ختم ہونے میں صرف ہزار دن باقی رہ گئے ہیں- ابھی پھر کل ہی اخبار’یوایس اے ٹوڈے‘ میں لکھا تھا کہ اس سروے کے مطابق صدر بش کی ریٹنگ اب اکتیس فیصد پر آ پہنچی ہے۔
کانگرس کے انتخابات کا اندازہ لگانا ہو تو یہاں کسی بھی پیٹرول پمپ یا گیس سٹیشن پر لگی گیس کی قیمتوں سے لگایا جا سکتا ہے جس کی تصویروں کے انہوں نے اشتہارات بھی بنوائے ہوئے ہیں۔
بھاؤ |
پہلے جب میں پیدل تھا تو اس کا اندازہ نہیں تھا لیکن جب میری خاتون خانہ نے ایک نیک کردار خاتون سے پرانی گاڑی خریدی ہے تب ہمیں ہر صبح دال سے پہلے گیس کا بھاؤ دیکھنا پڑتا ہے۔
بہت سے امریکی کہہ رہے تھے جب گیس تین ڈالر تک جائےگی تو حکمران پارٹی کےلیے اچھا شگون نہیں۔ بلکل ایسے جیسے پاکستان میں جمعہ کو عید پڑنے کو کہتے ہیں کہ دو خطبے حمکرانوں کےلیے اچھے نہیں ہوتے لیکن امریکہ میں گرمیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھتی اور سردیوں میں گرجاتی ہیں۔
کل کم از تین بڑے امریکی اخبارات کے اداریے بھی تیل کے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تھے۔ ایک اخبار میں یہ بھی لکھا تھا کہ کانگریس کے ان انتخابات میں عراق کے بعد سب سے بڑا موضوع امیگریشن ہے۔
اب پاکستان، سعودی عرب اور کیوبا جیسے ممالک بھی انسانی حقوق کے علمبردار کہلائيں گے۔ یار زندہ صحبت باقی۔