Tuesday, 25 April, 2006, 15:15 GMT 20:15 PST
حسن مجتبٰی
لندن
بینظیر بھٹو اور نواز شریف ملاقات نے، بقول ان کے’چارٹر آف ڈیمو کریسی‘ کو جنم دیا ہے۔ نہ جانے ایسے وعدے وعید پہلے بھی ان لوگوں نے ایک دوسرے سے اور پاکستان کے عوام سے بارہا کیے ہیں۔ یہ وعدوں کے جفادار سیاستدان۔
حال ہی میں امریکہ میں مقیم پاکستان کے ایک سابق پولیس افسر حسن عباس رضا نے اپنی کتاب ’پاکستان: ڈرفٹنگ ٹو ایکسٹریمزم‘ میں لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن نے نواز شریف سے اس وقت ملاقات کی تھی جب انہوں نے بینظیر بھٹو کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے دوران اسامہ بن لادن نے نواز شریف کو بھٹو حکومت گرانے کے لیے مالی مدد کی پیشکش کی تھی۔
نواز شریف کی حکومت کے آخری دنوں کو یاد کیجیے کہ جب انہوں نے اپنی مخالفت میں ایک حرف بھی منہ سے نکالنے پر انہیں گھوڑے کی دم سے باندھ کر کھنچوانے کی ٹھانی ہوئی تھی۔ جہاں ہڑتال کی کال بھی قابل سزائے موت جرم ٹھرا تھا۔ یہ جو ان کی اپنی ہی پارٹی کے جاوید ہاشمی جرم بغاوت کی لغو تہمت میں سزا کاٹ رہے ہیں یہ بھی نواز شریف کے ’سنہری‘ دور میں، بقول شخصے ’چائے کی پیالی ختم ہونے سے بھی کم عرصے میں پارلیمان سے پاس کروائے ہوئے قوانین و آئین کا شاخسانہ ہے‘۔ بالکل ایسے جیسے بھٹو کی پاس کروائی ہوئی چوتھی ترمیم نے بھٹو کے پاؤں کی بیڑیاں کس کے رکہے ہوئی تھیں۔
لیکن اس کا کیا کیجیے کہ ۔ ۔ ۔ |
اب جب پاکستان میں جہموریت کی بحالی کے نام پر بینظیر بھٹو اور نواز شریف آپس میں ملے تو انکی ٹیم میں ایف آئی اے ( فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی) کے ملک رحمان (اب ڈاکٹر اے آر ملک ) بھی شامل تہے۔ یہ وہی رحمان ملک ہیں جو بینظیر حکومت کے بریگیڈئر امتیاز بنے ہوئے تہے۔ مجہے کوئی عجب نھیں لگتا اگر نواز شریف کی طرف سے ان مذاکرات میں ان کے سابق آئی جی پولیس سندھ رانا مقبول بھی شامل ہوتے جو کراچی کے سول لائین تھانے میں آصف علی زرداری پر تشدد کے ایک ذمہ دار تہے۔
لیکن اب اس کا کیا کیجیے کہ پاکستان میں فوجی جرنیلوں نے جہموریت کا جنازہ اتنی دھام دھوم سے نکالا ہے کہ یہ سیاستدان کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں پاکستان میں جرنیل تانا شاہی کی نسبت کم ہی برے لگتے ہیں۔
میرے ملک میں مارشل لاؤں اور نیم مارشل لاؤں کی مار کھائے ہوئے یار دوستوں نے کہا چلو پاکستان کے دو جلاوطن سابق وزرائے اعظم اور حزب اختلاف کے رہنما ایک چھت کے نیچے مل رہے ہیں تو بڑی بات ہے۔ اب دیکھیں ان دونوں میں سے فوج کی طرف سے سمجھوتے کا سگنل پہلے کسے ملتا ہے اور کون پہلے پیٹھ دکھا کر راج سنگھاسن کی راہ لیتا ہے۔
اگر ایسا ہوا تو بھی یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی، کیونکہ یہ تب بھی ہوا تھا جب بیگم کلثوم نواز اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے مشرف مخالف مظاہروں اور مارچوں کی قیادت کر رہی تھیں لیکن جب فوج کی طرف سے ان کے شوہر کی رہائی اور خاندان سمیت سعودی عرب جلاوطنی کا سندیسہ آیا تو اے آر ڈی کی قیادت کو اس کی ہوا تک لگنے نہیں دی گئی تھی!