Tuesday, 25 April, 2006, 18:55 GMT 23:55 PST
انور سِن رائے
بی بی سی اردو، لندن
زندگی کے ہر شعبے کی طرح فلم میں بھی ایک مدت سے دو متوازی دھارے چل رہے ہیں یہاں فنکارانہ عزت، احترام اور مقام کمانے والے بھی گنے جاتے ہیں اور ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا جو ایسی فلمیں بناتے ہیں کہ فلم بین دیکھتے دیکھتے تھکتے نہیں۔
دنیا بھر میں کئی ادارے فلموں کے معیار کا تعین کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ہر سال بہترین فلموں کا یا فلموں کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا تعین کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اداروں نے ایک عرصے سے غیر مغربی ملکوں کی فلموں کو بھی اس معیار پر دیکھنا اور شمار میں لان شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے سے مختصر، تجرباتی اور دستاویزی فلموں کی بھی کیٹیگریاں بنائی گئی ہیں۔
ان میں زیاددہ تر ادارے اگرچہ امریکی ہیں لیکن ان کی ساکھ بڑی حد تک غیر متنازع ہے۔ گزشتہ ہزاریہ کے اختتام پر کم و بیش تمام ہی اداروں نے فلموں کے سو سال کا بھی جائزہ لیا اپنے اپنے معیار سے سو فلموں کا انتخاب کیا۔
ان میں سے جن اداروں کے انتخاب کو ہم نے سامنے رکھا ہے ان میں امریکن فلم انسٹیسیوٹ کا سروے آف امریکن موویز، نیشنل فلم رجسٹری آف امریکہ یا یو
![]() | |
| فلم ٹائٹینک آمدنی اور منافع کے حجم کے اعتبار سے اب تک سر فہرست ہے |
ان انتخابات کے مطابق امریکی فلم ’سٹیزن کین‘ نے اپنے بننے کے بیس سال بعد سے نہ صرف پہلے بننے والی بلکہ اب تک بننے والی دنیا کی سب سے بہترین فلم کا اعزاز حاصل کیا اور اب تک اس کا یہ اعزاز برقرار ہے۔
’سٹیزن کین‘ کے ڈائریکٹر اورسن ویلس کو اکثر فلمی حلقوں میں دنیا کا بہترین ڈائریکٹر مانا جاتا ہے اور ’سٹیزن کین‘ ان کی پہلی فلم تھی اور جب انہوں نے یہ فلم بنائی ان کی عمر پچیس سال تھی۔
دس بہترین فلموں میں ایک بار |
ٹوینٹیتھ سینچری فوکس کی ’ٹائٹینک‘ پر ساٹھ کروڑ ڈالر کے اخراجات آئے اور جون 2006 دنیا بھر میں اس کی آمدنی ایک ارب تیراسی کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی۔
گزشتہ صدی کے اختتام پر دنیا بھر کے جانے مانے ایک سو آٹھ ہدایتکاروں اور ایک سو پینتالیس نقادوں، ادیبوں اور ماہرین تعلیم نے صدی کی سو بہترین فلموں کا انتخاب کیا۔
گزشتہ پچھہتر سال سے زائد عرصے سے ہر سال مختلف ادارے سال کی بہترین فلم کا انتخاب کرتے آ رہے ہیں اور 1952 سے ہر دس سال بعد دس بہترین فلموں کا انتخاب بھی کیا جا رہا ہے۔ آخری انتخاب سن 2002 کو ہوا اور اس کے ساتھ ایک صدی کی تکمیل ہونے پر اب تک بنائی جانے والی سو بہترین فلموں کا بھی انتخاب کیا گیا۔
اب تک سرِ فہرست شمار کی جانے والی دس فلموں میں بالترتیب امریکن ڈائریکٹر اورسن ویلس کی ’سٹیزن کین‘ 1941، فرانسیسی ڈائریکٹر جین رینائر کی ’لا ریگلی ڈی جیو یا رولز آف دی گیمز‘ 1939، امریکن ڈائریکٹرالفرڈ ہچکاک کی ’ورٹیگو‘ 1958، امریکن ڈائریکٹر فرانسس فورڈ کپولا کی ’گاڈ فادر حصہ دوم‘ 1974، جاپان کے یاسوجیرو اوزو کی ’ٹوکیو سٹوری‘1953، امریکی ڈائریکٹر سٹینلے کبرک کی’2001، اے سپیس اوڈیسی‘ 1968، روسی ڈائریکٹر سرگئی ایزن سٹائن کی ’بیٹل شپ پوٹمکن‘1925، جرمن ڈائریکٹر مرناؤ کی سن رائز 1927، اطالوی ڈائریکٹر فیڈرو فیلینی کی ’½ 8‘ 1963 اور امریکن ڈائریکٹر جینی کیلی و سٹینلے ڈونن کی سنگنگ ان دی رین 1952 شامل ہیں۔
ان میں ’سٹیزن کین‘ گزشتہ سو سال کی سب سے پسندیدہ فلم ہے اور اس کی تصدیق ڈائریکٹروں ہی نے نہیں نقادوں اور رائے عامہ کے جائزوں نے بھی کی ہے اور یہ فلم 1962، 1972، 1982، 1992 اور 2002 کےجائزوں میں پہلے نمبر پر رہی۔
![]() | |
| فرانسیسی ڈائرکٹر جین رنائر کی فلم ’رولز آف دی گیمز‘ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران مسلسل دس بہترین فلموں میں شامل رہی ہے |
فرانسیسی ڈائریکٹر جین رینائر کی ’لا ریگلی ڈی جیو یا رولز آف دی گیمز‘ 1939 بھی مسلسل چھ دہائیوں سے دس بہترین فلموں میں شامل ہے اور تین بار دوسرے، دو بار تیسرے اور ایک بار دسویں نمبر پر رہی ہے۔
اطالوی ڈائریکٹر مائیکل انجیلو انتونیوننی کی 1960 کی فلم ’لا ایونٹورا یا دی ایڈونچر‘ تین بار دس بہترین فلموں میں شامل رہی ہے۔ ایک بار دوسرے، ایک بار پانچویں اور ایک بار ساتویں نمبر پر۔
فیڈریکو فیلینی کے ’½ 8‘ بھی تین بار دس سرِ فہرست فلموں میں رہی ہے۔ ایک بار چوتھے ایک بار پانچویں اور ایک بار نوویں نمبر پر۔
فرانسیسی فلم ڈائریکٹر کارل تھیوڈور ڈریئر کی ’پیشن آف جون آرک 1928‘ تین بار ٹاپ ٹن میں شامل رہی اور الفرڈ ہچکاک کی ’ورٹیگو‘ بھی تین بار دس بہترین فلموں شمار کی گئی۔
جو فلمیں دو بار دس بہترین فلموں میں شامل کی گئیں ان میں فرانسیسی ڈائریکٹر ژاں ویگو کی ’لا ایٹلانٹا‘ 1934، اطالوی ڈائریکٹر ویٹوریو ڈی سیکا کی ’دی بائی سائیکل تھیف‘ 1949، امریکی ڈائریکٹر بسٹر کیٹن اور کلائڈ بروکمین کی ’دی جنرلز‘ 1925، امریکی ڈائریکٹر ایرخ وان سٹروہم کی ’گریِڈ‘ 1924، اورسن ویلس کی ’دی میگنیفیسنٹ امبرسنز‘ 1942، امریکی ڈائریکٹر جان فورڈ کی دی ’سرچرز‘ 1956، جان کیلی اور سٹینلے ڈونِن کی ’سنگنگ ان دی رین‘ 1952، یاسوجیرو اوزو کی ’ٹوکیو سٹوری‘ 1953، سٹینلے کوبرک کی ’2001 سپیس اوڈیسی‘ 1968اور جاپانی ڈائریکٹر کینجی میزو گوشی کی ’اوگیٹسو مونو گاتاری‘ 1953 شامل ہیں۔