Friday, 14 April, 2006, 09:23 GMT 14:23 PST
حسن مجتبٰی
سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
کوئی زیادہ دن نہیں گزرے کہ سیدھے سادے مسلمان کی سیدھی سادی تشریح ہوا کرتی تھی۔گیارہویں والے کی نذر نیاز کرنا، زیادہ سے زیادہ قلندر کے میلے پر سیہون ، یا پھر مدینے یا کربلا چلے جانا، محرم میں کالی قمیض یا دوپٹہ پہن لینا، بچوں میں محرم کی نو راتوں تک دودھ بانٹنا، چارپائیاں الٹی کرکے زمین پر سونا اور نویں دسویں کو ننگے پاؤں چلنا، اور بس۔
میں ان زیادہ اچھے دنوں کی بھی بات نہیں کررہا ہوں جب لوگ کمہار سے پوچھتے تھے کہ ’ کاکا دیوالی کب ہے؟‘ کیونکہ وہ دیوالی کے دیپ بنایا کرتا تھا۔
آج کے جھنگ کے قریب سیالوں کے ایک ایسے گاؤں کے متعلق بھی کوئی مجھے بتا رہا تھا کہ آج کے دن تک ان کے ہاں کوئی فرقہ بازی نہیں ہوئی اور محرم کی مخصوصیوں اور مجالس کے مہتمم زیادہ تر سنی ہوتے ہیں- ایسا بتانے والا چاچا عباس علی فجر کو’دھمی‘ اور نماز کو منزل پڑھنا کہتا ہے-
نہ کوئی کسی پر تبرے بھیجتا تھا اور نہ ہی کوئی ’ض‘ ’دواد‘ کا مسئلہ، نہ سنی دوزخ کی ہنڈیا اور نہ ہی شیعے جنت کے دیوے کہلائے جاتے تھے۔ مرزے بھی ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے تھے تو جٹ بھی۔ ایسے مذہبی اجتماعات میں اگر زیادہ سے زیادہ کوئی ’خطرہ‘ ہوتا تو وہ جوتی چور یا فقیر کا ہوتا۔ ابھی ہیروئنچی بھی نہیں نکلے تھے کہ مسجد کے ایمپلی فائروں والی کھڑکیوں پر تالے پڑتے، پانی پینے کے گلاسوں کو زنجیر میں باندھا جاتا، اور پینڈولم والے کلاکوں کو بھی تالے لگتے۔
اصل میں پاکستان میں ہیروئینی اور جہادی ساتھ ساتھ آئے۔ میں ہیروئن اور جہاد کے سوداگروں کی بات نہیں کررہا۔ نہ ہی تب وہابی کمیونسٹ اور کیمونسٹ وہابی بنے تھے، نہ ہی ’حق ہیں حق ہیں چار یار حق ہیں پانچواں ضیاء الحق ہے‘ جیسے نعرے ایجاد ہوئے تھے- یہ فتنہ پرداز ملائيت اور عید میلادالنبی جیسی تقریبات میں بھی’جیئے مہاجر‘ کا نعرہ بہت دیر سے لگا- ’اگر کہیں تو ہمارے حجرت جی تو اینٹ سے اینٹ بجادیں‘ پھلیلی میں ایک ایسے اجتماع میں ایک مولوی کہہ رہا تھا۔ ’حجرت جی‘ سے اس کی مراد مولانا شاہ احمد نورانی تھے۔
مجھے یاد ہے کہ پکھا پیر چاڑھی حیدرآبا د کے قریب عید میلادالنبی کے جلسے میں ’جیئے مہاجر‘ کے نعرے لگانے پر تب حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنر شفیق پراچہ نے ان’ بچوں‘ کو تھپڑ مارے تھے۔
مجال نہیں کوئی بلوہ ہو |
میلاد کے ساتھ جو دوسری چیز کھوکھرا پار کی سرحد سے آئی وہ یوم شوکت اسلام منانا تھا، یعنی برصغیر اور خاص طور پر سندھ میں محمد بن قاسم کا آنا یا موجودہ کراچی سے لیکر ملتان تک سندھ کو فتح کرنے کی یاد۔ یہ اور بات ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں حجاج بن یوسف جیسے شقی القلب حکمران کے سپہ سالار محمد بن قاسم نے، جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں، جو جورو ستم سندھ اور خاص طور پر خاندان داہر سے کیئے اسکی نظیر مشکل ہی ملتی ہے۔ ’سندھ کے راجا تیری بیٹی راجکماری ننگی ساری‘ کے عنوان سے شیخ ایاز نے اسی واقع پر نظم لکھی۔ یہی وجہ تھی کہ بغداد میں سندھی عورتوں کے فریاد کناں ہونے پر محمد بن قاسم کو گائے کی کھال میں سلوا کر واپس بھیج دیا گیا تھا۔
بہرحال یوم شوکت اسلام پر پیر و جوان عربی لباس پہن کر ہرے جھنڈے لہراتے گھوڑوں پر سوار ہوکر محمد بن قاسم کا سوانگ رچاتے اور ان کے جلوس میں منجنیقوں (عربوں کے دیبل پر حملے میں استعمال ہونےوالا توپ نما ہتھیار) کے ماڈل بھی ہوتے۔ اللہ اللہ خیر صلا یہ دن بھی خیریت سے گزر جاتے۔
مگر جب پاکستان میں ضیاء الحق کا دور آیا تو پھر ایسے بڑے مذہبی دنوں کو انہوں نے اپنے بڑے سیاسی مقاصد اور ایجنڈوں کے لیے استعمال کیا۔ اگر آپ میں سے کسی کو ضیاءالحق حکومت کی پہلی عید میلادالنبی یاد ہے جب بھٹو کے خلاف قتل کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت آخری مرحلوں میں تھی۔
اسی برس عید میلاد النبی کو ضیاء الحق نے مزید ’سپر مارشل لاء‘ کا اعلان کیا جن میں انتخابات کا ملتوی ہونا، احتساب کا شروع ہونا اور اسلامائیزیشن کے اعلانات تھے جس میں ناچ گانوں، رقص و سرور پر مزید پابندیاں اور جسم فروشی پر کوڑوں کی سزائيں تھیں۔ ضیاءالحق انٹرنیشنل سیرت کانفرنسیں منعقد کرواتے جس میں درباری مصنف و منصف دونوں عہدوں و ترقی کے لیئے قطار بنائے کھڑے ہوتے۔ شب برات کے پٹاخے بموں میں تبدیل ہوئے۔ یہ صرف ضیاء الحق کے دور سے ہی دکھائی دینے لگا۔
مجھے ڈر ہے کہ کہیں کراچی میں عید میلادالنبی کے جلسے میں بم دھماکے اور ان میں ہلاکتیں سنہ دو ہزار سات میں متوقع انتخابات کو ملتوی کرنے کا بہانہ نہ بنیں، جیسے انیس سو ساٹھ کی دھائی میں سندھ کے خیرپور ضلع میں ٹیڑھی (جسے دوسرے فرقے کے لوگ آج تک کوفہ کہتے ہیں) میں ہونے والے شیعہ سنی فسادات کے بعد ایوب خان نے اپنے اقتدار کے دس سال نکالے اور
ضیا ءا لحق نے گیارہ برس!