Friday, 31 March, 2006, 13:39 GMT 18:39 PST
باربرا پلیٹ
بی بی سی نیوز اسلام آباد
پاکستان میں ان دنوں ایک ایسے کارٹون بہت سراہا جا رہا ہے جس میں صدر بش اور صدر مشرف کے تعلقات کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اور اس کی پنچ لائین، جس پر ہر جگہ بات ہو رہی ہے یہ ہے کے صدر بش نے صدر مشرف کی جمہوری حیثیت کے بارے میں تشویش کو یوں ہی سرسری اڑا دیا۔
یہ طنز و مزاح پُرجوش اور بے قابو جذبات کا اظہار ہے۔
بلا شبہ صدر مشرف کا دعویٰ ہے کہ ایک فوجی ہوتے ہوئے بھی انہوں نے پریس کو آزاد کیا ہے۔
لیکن کیا اس میں سچائی بھی اتنی ہی ہے؟
نشریات کا ہجوم |
ٹیلی ویژن جرنلزم کی ہوا بھی یقیناً انہیں کے دور میں چلی ہے۔’آج‘ ٹی وی چینل جو خاص طور پر خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں کی وجہ سے پہنچانا جاتا ہے، اپنی پہلی سالگرہ منانے والا ہے۔
کچھ رکاوٹیں تو اب بھی ہیں لیکن ہوا کے دوش پر ان دو درجن سے زیادہ ٹی وی چینلوں کی نشریات کا ہجوم ہے جو اپنے ناظرین کا حلقہ وسیع سے وسیع تر کرنے کے لیے نئی نئی سیاسی بحثیں اور تنقید پر مبنی پروگرم پیش کرتےہیں لیکن ’آج‘ کے حالاتِ حاضرہ کے ڈائریکٹر طلعت حسین صدر مشرف کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔
ان کا کہنا ہے: ’بلاشبہ مشرف نے ہمیں لائسنس دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ سب پرائیویٹ چینل دکھائی بھی دے رہے ہیں لیکن جہاں تک روایتی معنوں سنجیدہ تنقیدی صحافت کا تعلق ہے تو پاکستان کے اخبارات و جرائد یعنی پرنٹ میڈیا میں پہلے بھی ہوتی تھی۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستانی پریس آمرانہ حکومتوں سے ٹکرانے کی ایک پوری تاریخ رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خطرے کی تلوار بھی لٹکتی رہی ہے اور اب بھی نئی رکاوٹیں موجود ہیں۔
پاکستانی صحافیوں نے حال ہی میں پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے اپنے ایک ساتھی سےاظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالیں۔ یہ صحافی تین ماہ قبل لاقانونیت سے عبارت قبائلی علاقے میں لاپتہ ہو گئے تھے اور اب تک ان کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے امریکہ کے بقول ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں محاذِ اوّل کی حیثیت حاصل ہے۔
صحافی کا اغواء |
قبائلی علاقوں میں صحافیوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا اور ان سے کچھ مارے جا چکے ہیں اور کچھ بھاگ گئے ہیں۔
صالح مسعود مقامی صحافیوں کی ایک یونین کے عہدے دار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’قبائلی علاقوں میں صحافت بالکل مفلوج ہو چکی ہے۔ ہم اسلامی شدت پسندوں، قبائلی بزرگوں اور حکومت ہی کا نہیں ہر اس کا نشانہ بھی ہیں جسے ہماری رپورٹ پسند نہیں آتی۔
ان مشکلات کے باوجود پریس خبریں دینے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس بارے میں آزاد خیال اخبار روزنامہ ڈان کے اسلام آباد کے ایڈیٹر محمد ضیاالدین کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں آزادی ہے بھی وہاں بھی اس کا دائرہ محدود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ: ’ذرائع ابلاغ کے با اثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سماجی کنٹرول کے دوسرے دو ادارے بھی یکساں طور پر آزاد ہوں۔ اور یہ ادارے ہیں پارلیمنٹ اور عدلیہ‘۔
بظاہر و دراصل؟ |
’سو اس وقت ہم اس طرح کام کر رہے ہیں کہ ہم جو دیکھیں وہ رپورٹ کر دیں لیکن کیا اس سے کچھ فرق پڑتا ہے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا‘۔
بظاہر دوسرے کئی ملکوں کے برخلاف پاکستان میں پریس آزاد ہے اور اس کے پاس اظہار کے زیادہ ذرائع ہیں لیکن آزادی اتنی بھی نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔