http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 26 March, 2006, 11:36 GMT 16:36 PST

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

میڈیا کا کوٹھا

آپ اس وقت کسی بھی اردو یا انگریزی اخبار کے ساتوں دن شائع ہونے والے تمام صفحات چاٹ لیں۔ کسی بھی ٹی وی چینل کی چوبیس گھنٹے کی نشریات سن لیں۔آپ کو محسوس ہوجائے گا کہ پاکستان کو اس وقت کون کون سے اہم مسائل درپیش ہیں۔

پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سینیٹ کے انتخابات میں صوبہ سرحد میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ، ناموسِ رسالت کے نام پر چلنے والی نیم پرتشدد مشرف مخالف تحریک، بھارت امریکہ جوہری معاہدے کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات، صدر بش کے اسلام آباد کے چھبیس گھنٹے کے دورے کی اچھی بری پرچھائیاں،

 لگتا ہی نہیں ہے کہ اس ملک میں صرف چھ ماہ تین ہفتے پہلے ایک ایسا زلزلہ بھی آیا تھا جس میں ایک لاکھ کے قریب لوگ ہلاک، ڈھائی لاکھ زخمی اور تیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے
 
وزیرستان میں شرپسندوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں، اسکے ردِعمل میں وزیرستان سے باہر بم دھماکے، پاکستان اورافغانستان کے درمیان بیان بازی میں شدت، بلوچستان کی پرتشدد بے چینی، گیس اور بجلی کی تنصیبات پر بار بار حملے، بگٹی قبیلے کی منحرف شاخوں کی اپنی زمین پر واپسی، عام انتخابات اگلے برس ہوں گے یا دوہزار آٹھ میں، صدر مشرف کس طرح دوبارہ باوردی صدر بن سکتے ہیں یا نہیں بن سکتے، بے نظیر نواز شریف بڑھتے ہوئے رابطے، کراچی میں پولیس کے ہاتھوں عام لوگوں کی ہلاکت، کھوکھراپار موناباؤ سرحد کھلنے اور امرتسر ننکانہ صاحب بس سروس کا پاک بھارت تعلقات پر اثر، کشمیر کے دونوں حصوں کے رہنماؤں کی اسلام آباد کانفرنس کی اہمیت، پاکستان انرجی کی ضروریات ایٹمی توانائی سے پوری کرے یا ازبکستان یا ایران سے گیس پائپ لائن کا حتمی فیصلہ کرے، سن دو ہزار سولہ تک کتنے ڈیم بن جانے چاہئیں، مسلم لیگ کا جشنِ صد سالہ کس کس طریقے سے منایا جائے، کراچی اسٹاک ایکسچینج میں یکدم چار سو پوائنٹس کیوں گر گئے، پاکستان کرکٹ ٹیم کی سری لنکا میں پرفارمنس کیسی رہی، ورلڈ سوشل فورم کے انعقاد سے پاکستان کا امیج کیسے بہتر ہوگا۔

یہ وہ موضوعات ہیں جن سے آپ کو اخبارات کے فرنٹ اور بیک پیج اور ادارتی صفحات بھرے ہوئےاور ٹی وی چینلز کے بلیٹنز اور ٹاک شوز پر چھائے ہوئے دکھائی دیں گے۔

لگتا ہی نہیں ہے کہ اس ملک میں صرف چھ ماہ تین ہفتے پہلے ایک ایسا زلزلہ بھی آیا تھا جس میں ایک لاکھ کے قریب لوگ ہلاک، ڈھائی لاکھ زخمی اور تیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے۔

وہ زلزلہ جس نے شروع کے دو ماہ میڈیا کو ہزاروں انسانی کہانیاں،پروفیشنل کیمروں کو المناکی کی بے شمار شاندار تصاویر، کالم بازوں، شاعروں، مضمون نگاروں، اداریہ نویسوں اور ٹی وی اسٹوڈیوز میں بیٹھے پنڈتوں کو خام مال فراہم کیا۔ میڈیا کی نہ ختم ہونے والی بھوک کو مٹایا۔اب اس زلزلے کی اوقات کبھی کبھار جاری ہونے والے کسی سرکاری بیان یا اقوامِ متحدہ کے کسی اہلکار یا ایجنسی کے پریس ریلیز یا پریس کانفرنس کی خبری کوریج تک محدود ہوگئی ہے۔ کسی کو شائد یہ خیال تک نہ آتا ہو کہ بحالی کے اس مرحلے میں تیس لاکھ سے زائد متاثرین کو میڈیا کی حمایت کی جتنی ضرورت ہے کبھی نہیں تھی۔

زلزلے کی کہانی اس رئیس زادے کی کہانی ہے جو اپنی تمام کمائی ذرائع ابلاغ کے کوٹھے پر لٹا کر اسی چوبارے کے نیچے پان سگریٹ بیچ رہا ہے۔