Sunday, 12 March, 2006, 13:08 GMT 18:08 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ولی خان ، جی ایم سید اور شیخ مجیب الرحمان کو مستقل یہ طعنے ملتے رہے کہ وہ بھارتی لابی کے لئے کام کرتے ہیں۔ لیکن شیخ مجیب الرحمان کو فروری انیس سو چوہتر میں بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم کے طور پر لاہور ایرپورٹ پر پورا سٹیٹ پروٹوکول دیا گیا۔
صدرِ پاکستان ، بری فوج کے سربراہ اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیا الحق نے جی ایم سید کے آبائی گاؤں سن جاکر انہیں گلدستہ پیش کیا اور صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے ولی باغ جاکر اصولی سیاست کے پیکر ولی خان کے ورثا سے تعزیت کی۔
پانچ دہائیوں تک پاکستانی فوج کا دفاعی نظریہ یہ رہا کہ بھارت پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے۔ اگر بھارت دس توپیں خریدے گا تو ہم کم ازکم پانچ ضرور خریدیں گے تاکہ فوجی توازن برقرار رہے۔ اس پورے عرصے میں پاکستان کی سرحدی پٹی میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کو مواصلات اور نقل و حمل کی سہولتوں سے یہ کہہ کر محروم رکھا گیا کہ جنگ کی صورت میں دشمن ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن آج کوئی بھی جا کر دیکھ سکتا ہے کہ لاہور سیکٹر میں برکی اور واھگہ تک کی ساری سرحدی پٹی پر فارم ہاؤسز اور رہائشی اسکیمیں پھل پھول رہی ہیں اور چار برس پہلے جو زمین ڈیڑھ لاکھ روپے ایکڑ میں بھی مہنگی سمجھی جاتی تھی اب پچیس لاکھ روپے ایکڑ میں بھی دستیاب نہیں ہے۔ تو کیا اب اس سرحدی علاقے میں دشمن نمبر ایک کے ساتھ کبھی لڑائی نہیں ہوگی۔
پاکستان بننے کے بعد اپنائے جانے والے دفاعی نظریے کے سائے میں تین نسلوں نے اس بنیاد پر اپنے پیٹ پر پتھر باندھے رکھے کہ بھارت سے مسابقت روٹی کپڑے اور مکان سے زیادہ اہم ہے۔ سکول اور اسپتال سے زیادہ اہم ملک کا جغرافیائی اور نظریاتی تحفظ ہے۔
تو کیا اب نیا دفاعی نظریہ چوتھی نسل کے لئے خوشخبری لے کر آئے گا۔کیا اب یہ توقع رکھی جائے کہ جون میں جو قومی بجٹ پیش ہونے والا ہے اس میں صحت، تعلیم ، رہائش اور روزگار کے شعبے میں دفاعی بجٹ کے برابر رقم رکھی جائے گی یا اب بھی سائنس و ٹیکنالوجی میں قومی ترقی کا معیار میزائلوں کے ٹھیک ٹھیک نشانے پر گرنے کی صلاحیت اور خارجہ پالیسی میں کامیابی کا معیار ایف سولہ طیاروں کا حصول ہی ٹھہرے گا۔