عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
دُکھ کا یہ دریا ریاستِ کشمیر کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔
اسی ریاست کے ایک گاؤں میں کوثر اپنی درد بھری زندگی کے دِن پورے کر رہی ہے۔ کوثر جوان ہے، شادی شدہ ہے لیکن اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔ ساس نے اسے بانجھ قرار دیکر اسکا جینا حرام کر رکھا ہے اور شوہر کی جانب سے بھی مار پھٹکار کے سوا اسکے حِصّے میں کچھ نہیں آتا۔
یہ روز روز کی لعنت ملامت آخر کوثر کو زندگی سے بیزار کر دیتی ہے اور وہ ایک پہاڑی چٹان سے بہتے دریا میں کود جاتی ہے۔
دریا، جو زمانے بھر کے دُکھ درد اپنی لہروں میں سمیٹ لینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ دریا، جسکی اتھاہ گہرائی دنیا سے بیزار ہر شے کو اپنے دامن میں پناہ دینے کا ظرف رکھتی ہے۔ لیکن کوثر کو دریا کی لہریں اُگل کر دوسرے کنارے پر لے جا پھینکتی ہیں اور یہ دوسرا کنارہ کشمیر کے بھارتی حصّے میں ہے۔
کوثر کو سرحدی محافظ گرفتار کر لیتے ہیں اور پاکستانی جاسوس سمجھ کر جموں کی جیل میں ڈال دیتے ہیں۔
برسوں تک مقدمہ چلتا ہے۔ دورانِ حراست جیل کا وارڈن کوثر پر جنسی حملے بھی کرتا ہے جن کے نتیجے میں یہ عورت حاملہ ہو جاتی ہے ۔۔۔ لیکن اس کربناک تجربے کا ایک پہلو کوثر کے خیالات میں ایک مثبت لہر دوڑا دیتا ہے۔
![]() | |
| ہدایت کارہ مدیحہ گوہر اپنی ٹیم کی بزرگ ترین فنکارہ عُزرا بٹ کے ساتھ |
اپنے بار آور ہونے کا فخریہ احساس دیگر تمام خیالات پر غالب آجاتا ہے اور وہ اپنے ہونے والے بچّے کے ساتھ اپنے گاؤں لوٹ جانا چاہتی ہے تاکہ ساری دنیا کو بتا سکے کہ وہ ایک بے فیض، بے ثمر اور بےکار عورت نہیں تھی۔
کوثر کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے۔سات برس تک مقدمہ لڑنے کے بعد وہ بھارتی حکام کو قائل کر لیتی ہے کہ وہ جاسوس نہیں ہے۔
اسے پاکستان واپس جانے کی اجازت مل جاتی ہے لیکن جس قانون نے اسے یہ اجازت بخشی ہے اسی قانون کی ایک شِق اُسکی بیٹی کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔
قانون کے رُو سے بیٹی ہندوستانی شہری ہے اور ماں کے ساتھ پاکستان نہیں جا سکتی۔
ماں کے لئے بیٹی سے جدا ہونا ممکن نہیں اور بیٹی کو وطن بدلنے کی اجازت نہیں۔ آخر ماں اپنی بیٹی کو گود میں اُٹھاتی ہے اور گھاٹ کی سیڑھیاں اتر کر دریا کے کنارے پہنچ جاتی ہے۔
![]() | |
| کھیل کے مصنّف شاہد محمود ندیم |
رحم طلب نگاہوں سے دریا کی لہروں کو دیکھتی ہے اور بیٹی سمیت دریا میں کود جاتی ہے۔۔۔ اِس مرتبہ دریا کو واقعی رحم آجاتا ہے اور وہ ماں بیٹی کو اپنے وسیع دامن میں ہمیشہ کے لیے چھُپا لیتا ہے۔
یہ تو تھی کوثر کی کہانی جو کہ کشمیر میں چند برس پہلے پیش آنے والے ایک سچّے واقعے پر مبنی تھی۔ لیکن شاہد محمود ندیم کے لکھے ہوئے کھیل ’دُکھ دریا‘ میں اس مرکزی کہانی کے علاوہ بھی کئی کہانیاں ہیں جو عورت کی مظلومیت کے موضوع کو تقویت بخشتی ہیں۔
بزرگ خاتون میرا میّا کی کہانی 1947 کے فسادات کی یاد تازہ کرتی ہے جب سرحد کے آرپار ہزاروں عورتیں اغیار کے نرغے میں آکر جنسی وحشت کا شکار ہوئی تھیں اور اپنے اپنے آبائی وطن لوٹتے وقت مائیں اپنے اُن بچّوں کو ساتھ نہیں لے جاسکتی تھیں جن پر ’ناجائز‘ کا ٹھپہ لگ چکا تھا۔
عورت کی بے کسی اور مجبوری کے موضوع کو ماضی کے تناظر میں دیکھتے ہوئے، کھیل کا مصنف تاریخ کی سرحدیں پھلانگ کر دیو مالا کی دنیا تک پہنچا ہے اور سِیتا ہَرن کے بعد اسکی اگنی پرکھشا کی خبر بھی لایا ہے۔
![]() | |
| مرکزی کردار بھارتی اداکارہ راجندر کور روزی نے ادا کیا |
زمان و مکان کی وسعتوں میں بکھرے ان مختلف النوع واقعات کو ایک موضوع کی چھتری تلے جمع کرنا ایک ایسا چیلنج تھا جس سے مصنّف بخوبی عہدہ برا ہوا ہے۔
اور یہ امر باعثِ حیرت نہیں ہونا چاہیئے کہ اس نے کھیل کی مہورت کے لئے عورتوں کے عالمی دِن کا انتخاب کیا۔
کھیل کا مرکزی کردار بھارتی ادا کارہ راجندر کور روزی نے ادا کیا ہے اور اسکی بیٹی کا کردار بھی بھارتی بچّی ملکہ سنگھ نے انتہائی خوبی سے نبھایا ہے۔
اِن کے علاوہ ساری کاسٹ پاکستانی ہے جن میں عذرا بٹ کا نام بالخصوص قابلِ ذکر ہے جنھوں نے سادھو خاتون مِیرا میّا کا کردار ادا کیا ہے۔
اجوکا تھیٹر میں یوں تو زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اداکاری کا شوق پورا کرتے ہیں لیکن اداکاری جِن لوگوں کا اوڑھنا بچھونا بن چُکی ہے اُن میں سرفراز انصاری کا نام سرِفہرست ہے جوکہ اجوکا کی ہر پروڈکشن میں ایک مرکزی ستون کی حیثیت سے نمودار ہوتے ہیں۔
دُکھ دریا میں بھی انہوں نے مختار ناتھ جوگی کا انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے جہاں اُنھیں صدا کاری کے ساتھ ساتھ اپنی گلوکاری کے جوہر دکھانے کا بھی بھرپور موقع ملا ہے۔
دُکھ دریا کی ہدایات مصنّف کی اہلیہ مدیحہ گوہر نے دی ہیں جنکا کہنا ہے کہ یہ کھیل بھی اس عظیم تر مشن کا ایک حصہ ہے جسکا مقصد دونوں ملکوں کے بیچ کھڑی نفرت کی مصنوعی دیواروں کو گرانا اور دونوں جانب کے عوام کو قریب تر لانا ہے۔