Monday, 09 January, 2006, 23:07 GMT 04:07 PST
وجاہت مسعود
لندن
بلوچستان میں برسوں سے سلگتی کشیدگی، آگ اور خون کے بڑے منظر میں تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ریاست اور بلوچ قوم پرستوں میں مسلح تصادم کی یہ پانچویں کڑی ہے۔ اس تنازعے کا پہلا منظر خان قلات اور قائد اعظم میں سمجھوتے کے تین ہفتے بعد سامنے آ گیا تھا۔
بلوچ بغاوت کی دوسری کڑی 1958 میں شروع ہو کر 1962 میں نام نہاد معاہدۂ امن نیز سرکردہ بلوچ رہنماؤں کی پھانسی پر منتج ہوئی۔ 1963 میں منتخب بلوچ نمائندوں کی بغاوت یحیٰی خان کی آمد تک جاری رہی۔ بلوچوں کے خلاف بھٹو صاحب کی کارروائی جنرل ضیاء کے مارشل لاء تک چلتی رہی۔
موجودہ فوجی کارروائی میں ہمیشہ کی طرح اخفااور بد تدبیری کی گہری دھند موجود ہے۔ سیاسی مخالفین کو غدار قرار دیا جا رہا ہے۔ مبینہ غیر ملکی ہاتھ کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ بلوچوں کے اجتماعی امکان پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے۔ قومی یک جہتی کے نام پر حقیقی مسائل سے نظر چرائی جا رہی ہے اور ہمیشہ کی طرح پاکستانی عوام کو حقیقی صورت حال سے بے خبر رکھا جا رہا ہے۔
صوبائی تنازعات کی تاریخ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں ہر فوجی حکومت کے دوران کسی نہ کسی ایسے صوبے میں تصادم کا شاخسانہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے جسے فوج میں مناسب نمائندگی حاصل نہیں ہوتی۔ ایوب خان کے عہد میں بلوچستان میں چڑھائی ہوئی۔ یحیٰی خان مشرقی پاکستان گنوا بیٹھے۔ ضیاء الحق دور میں سندھ بندوقوں سے گونجتا رہا۔ موجودہ فوجی بندوبست میں بلوچ کشیدگی قریب 5 برس سے جاری ہے۔
اس تنازعے کا ایک فریق تو بلوچ سردار ہیں۔ دوسرا فریق بلوچ عوام ہیں۔تیسرا فریق پاکستان کے ریاستی ادارے ہیں۔ صورت حال کا چوتھا ممکنہ فریق پاکستان کے دیگر صوبوں کے عوام ہیں جن کی بڑی تعداد حالات سے بے خبر بھی ہے اور بڑی حد تک لاتعلق بھی۔اس چوتھے فریق کی عدم موجودگی مسئلے کے بنیادی سبب کی نشاندہی کرتی ہے۔
تمام معاشروں میں قدیم نظام حکومت سے جدید قومی ریاست بدلنے کے عمل میں کچھ خطوں اور گروہوں کو مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کرد قومیت ترکی، ایران اور عراق میں منقسم ہے تو یورپ میں روما قبائل اور دوسرے خانہ بدوش گروہ موجود ہیں۔ امریکہ میں ریڈ انڈین ہیں تو شام اور بحرین میں مذہبی اقلیتیں بالادست ریاستی شناخت سے بیگانگی کا شکار ہیں۔ جدید ریاست اپنی مخصوص جغرافیائی حدود نیز شہری اور ریاست کے براہ راست تعلق کے باعث بلوچستان جیسے قدیم معاشرتی نمونوں کو غیر ضروری مداخلت معلوم ہوتی ہے۔
اس کا حل نہ تو نسلی، لسانی اور ثقافتی شناختوں کو جھٹلانا ہے اور نہ ریاست کی عملداری کمزور کرنا ہے۔ ایسے پیچیدہ حالات کا قابل عمل حل عوام کی امور سیاست میں بامعنی اور استحقاقی شمولیت ہے۔تمام باخبر مبصرین متفق ہیں کہ پاکستان میں بامعنی سیاسی عمل کا راستہ روک دیا گیا ہے چناچہ ملک کے مختلف حصے سیاسی اقتدار اور فیصلہ سازی کے حوالے سے احساس محرومی کا شکار ہیں۔
ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ بلوچستان میں مسلمہ قبائلی سرداروں کی تعداد 120 سے زیادہ نہیں اور ان میں سے 100 کے لگ بھگ سردار غیر مشروط طور پر حکومت کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر مسئلہ محض قبائلی سرداروں کے مفادات کا ہے تو سوال کیا جا سکتا ہے کہ بلوچ عوام کی اتنی بڑی تعداد اپنے سرداروں کی اکثریت کے خلاف مٹھی بھر سرداروں کا نقطۂ نظر کیوں تسلیم کرتی ہے۔
اس کا واضح مطلب لیا جا سکتا ہے کہ بلوچستان میں وسیع پیمانے پر احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ اس خیال کی حمایت اور تردید میں اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے قطع نظر حقیقی مسئلہ یہی ہے کہ پاکستان میں آئین کو بے وقعت کر دیا گیا ہے۔ آئین ہی وہ دستاویز ہے جو عوام کو ریاست سے جوڑتی ہے۔ آئین کی فصیل گر جائے تو مسائل کا سیاسی حل ممکن نہیں رہتا۔ مکالمہ رک جاتا ہے اور باہمی اعتماد کا بحران پیدا ہوتا ہے۔
بلوچستان کے قوم پرست حلقے چار بنیادی خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ بننے سے صوبے کے جنوبی خطے میں آبادی کا تناسب بدل جاۓ گا اور بلوچ اپنی ہی زمین پر اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ بندرگاہ کی انتہا پسند مخالفت سے قطع نظر، معتدل بلوچ حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بندرگاہ بننے کے بعد یہاں آنے والوں کو ایک خاص مدت تک رہائشی حقوق نیز مقامی سیاست میں حصہ لینے سے روکا جاۓ۔
سرکاری موقف یہ ہے کہ ایک ہی ریاست کے شہریوں کو نقل مکانی کرنے اور سیاسی عمل میں حصہ لینے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ تاہم سرکاری حلقے ان سوالات کا جواب نہیں دیتے کہ گوادر میں فوجی اداروں اور افسران کو قریب 65 ہزار ایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے۔ چند سو روپے فی ایکڑ زمین کی قیمت دیکھتے ہی دیکھتے 15 لاکھ روپے فی ایکڑ تک جا پہنچی ہے۔ یہ زمین واضح طور پر مطلوبہ ہنر مند افراد کے نہیں بلکہ مراعات یافتہ طبقات کے ہاتھ میں جا رہی ہے جو اس بندرگاہ کے معاشی مواقع سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ گوادر سے کراچی تک تو سڑک تعمیر ہو چکی مگر گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سڑک محض کاغذوں پر موجود ہے۔
![]() | |
| اکبر بگٹی شیری رحمن کے ساتھ |
تاریخی طور پر بلوچستان جیسے مرکزی اقتدار سے کٹے ہوۓ علاقوں میں اختیارات نچلی سطح پر رہے ہیں اور عام آدمی کے لیے انصاف کی صورت حال کبھی مثالی نہیں رہی۔ چناچہ بلوچ عوام کو مطلق العنان مقامی سردار کی بجاۓ جدید ریاستی انتظام کا حصہ بننے پر خوش ہونا چاہیۓ۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ پاکستانی ریاست کے ادارے بد عنوانی کی شہرت رکھتے ہیں اور سیاسی عمل کی عدم موجودگی میں ان پر کوئی روک ٹوک بھی نہیں۔
بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ ضلع ڈیرہ بگتی سے ہر روز 57 ملین مکعب فٹ گیس نکالی جاتی ہے جو پاکستان کے کونے کونے میں پہنچتی ہے۔ یہاں پر جگہ جگہ قیمتی پتھروں اور کوئلے کی کانیں ہیں۔ تیل کے بے پناہ ذخائر ہیں۔
انتہا پسند قوم پرست بلوچ پاکستان سے پیچھا چھڑا کر جدید عالمی معیشت میں ان وسائل سے فاءدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ادھر ریاست اپنی آئینی عمل داری سے دست بردار ہونے پر تیار نہیں ہے۔ اعتدال پسند قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ گیس کی سالانہ 87 ارب روپے کی آمدنی سے بلوچستان کو محض 5 ارب روپے ملتے ہیں۔ سرکاری بیانات کے مطابق ایک آدھ سردار کو ملنے والی بے پناہ مراعات صوبے کے عوام کی خوشحالی کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ وسائل کی تقسیم کے سوال میں ایک پیچیدگی یہ ہے کہ رقبے کے اعتبار سے بلوچستان پاکستان کا 43 فیصد حصہ ہے لیکن اس کی ستر لاکھ آبادی کل آبادی کا صرف 5 فیصد ہے۔
قومی وسائل کی تقسیم آبادی کے اعتبار سے کی جاتی ہے اور بلوچستان کے حصے میں آنے والے 5 فیصد وسائل انتظامی امور پر صرف ہو جاتے ہیں اور ترقیاتی امور کو پوری توجہ نہیں ملتی۔ بلوچستان کے لیے 43 فیصد حصے کا مطالبہ اس لیے سنجیدہ نہیں کہ دوسری طرف سندھ محصولات اور پنجاب آبادی کی بنیاد پر ایسے ہی مطالبات پیش کر سکتے ہیں۔ تاہم آبادی اور رقبے میں عدم توازن کو دور کرنے کے لیے اسی طرح کی کوئی صورت نکالنا پڑے گی جیسے قومی اسمبلی اور سینٹ میں توازن قائم کیا گیا ہے۔
سیاسی اقتدار سے محرومی بلوچ عوام کا ایک اہم شکوہ ہے۔ اس کے جواب میں ریاست بلوچوں کی تاریخی پسماندگی اور مقامی سرداروں کی عوام دشمنی پر الزام دھرتی ہے۔ لیکن اس دلیل کا کیا جواب دیا جاۓ کہ بلوچ عوام یا مقتدر طبقوں نے جب بھی سیاسی عمل میں حصہ لینے کی کوشش کی انہیں مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔
![]() | |
عوام سے بیگانگی اختیار کرنے والی ریاستیں عوام پر کاٹھی ڈالنے کے لیے تاریخ اور سیاست میں من مانی پیوند کاری کرتی ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق پاکستانی ریاست نے قومی تشخص میں اردو زبان، ہندوستان دشمنی، سیاسی اسلام اور ایٹم بم کے چار پیوند لگاۓ ہیں۔ اردو بنیادی طور پر متحدہ ہندوستان کی سیاست سے جڑے ہوۓ پنجابی اور مہاجر حلقوں کا مسئلہ ہے۔ ہندوستان سے بلوچستان کی سرحد نہیں ملتی۔ مذہب کی بنیاد پر قوم کی تعمیر بنگال کی علیحدگی سے کھوکھلی ہو چکی۔ ایٹم بم سے بلوچوں کا تعلق صرف اتنا ہے کہ پاکستان ریاست نے بلوچوں کو اعتماد میں لیے بغیر ایٹم بم کا تجربہ چاغی کے پہاڑوں میں کیا تھا۔
برطانوی راج میں ہندوستانی خطوں کی نفسیات بیان کرتے ہوۓ بلوچوں کو باوقار قوم قرار دیا گیا تھا۔ جدید ریاست میں وقار کا تصور مساوات اور حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ معاشرے میں یکجہتی کے لیے تمام گروہوں کو سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں مگر یہ سمجھوتے سیاسی مکالمے اور مشترکہ مفادات کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ بندوق کی گولی سے منواۓ گۓ سمجھوتے دیرپا نہیں ہوتے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے پہاڑ بلند بھی ہیں اور سنگلاخ بھی۔ بلوچ عوام کے دلوں تک رسائی سیاسی عمل ہی کے ذریعے ہو سکتی ہے۔
(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں)