Wednesday, 28 December, 2005, 20:01 GMT 01:01 PST
انور سِن رائے
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
اس سال شاعری کی کتابیں دو حصوں میں بانٹی جا سکتی ہیں ایک وہ جو ان کی لکھی ہوئی ہیں جنہیں کئی برسوں سے مسلسل لکھنے کے باوجود اب تک نئےلکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے اور دوسرے وہ جن کے بارے میں بہت کچھ یا کم و بیش سب طے ہو چکا ہے۔
سینئر لوگوں میں ظفر اقبال کی کلیات کی دوسری جلد آئی ہے اور اظہر غوری کے مطابق اس میں بھی ان کے چھ مجموعے شامل ہیں۔ کلیات کی تیسری جلد آئندہ سال آنے کو ہے۔ کلیات ’اب تک‘ کی تیسری جلد آنے تک ظفر اقبال کتنے مجموعوں کے برابر اور شعر کہہ دیں گے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
اب تک کی ہر جلد آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہے اور نہ صرف ’اب تک‘ کی املا تمام اعراب کے اہتمام کے ساتھ شائع کی گئی ہے بلکہ یہ اہتمام کتابوں کے ساتھ رکھا گیا ہے تا کہ ہر پڑھنے والے کو درست لفظ کی سہولت میسر آ جائے۔ اظہر غوری کی دیانت داری اپنی جگہ لیکن وہ ان لوگوں کا کیا کریں گے جن کی انگریزی کے تو ادھر سے ادھر ہونے میں جان نکل جاتی ہے لیکن جو اردو کو زیر زبر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
![]() | |
| شہزاد احمد کا شعری مجموعہ آنے والا کل |
اس کے علاوہ وہ 2005 کی شعری کتابوں میں شہزاد احمد کے مجوعے ’آنے والا کل‘ کو سال کی ایک اہم کتاب قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان پر شہزاد احمد کی غزلوں نے کوئی تاثر نہیں چھوڑا لیکن ’ان کی نظمیں بہت کمال کی ہیں‘۔ احمد جاوید کے مطابق ’ان کی ان نظموں میں ایک باقاعدہ تھیم ہے اور ایک پورے تصورِ انسان کی تشکیل ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
آصف فرخی کو اس بات پر ان سے اختلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ظفر اقبال کی کلیات جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے ویسے ویسے کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ شہزاد احمد کا مجموعہ بھی ان کو متاثر نہیں کر سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’احمد جاوید کے عالمانہ دیباچے نے بھی ’آنے والا کل‘ کی شاعری کو کوئی سہارا نہیں دیا‘۔
![]() | |
| اجمل سراج کی شاعری سوچتی ہوئی شاعری کا حصہ ہے |
عشرت آفریں دو دہائی قبل کراچی سے امریکہ سدھار چکی ہیں۔ یہ ان کی شاعری کا یہ دوسرا مجموعہ ہے۔ اگرچہ ’دھوپ اپنے حصے کی‘ خاصے وقفے کے بعد آیا ہے لیکن اس کے باوجود جس طرح ان کے اس مجموعے کو لیا گیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا نام اور کام فراموش نہیں ہوا۔
ان کی شاعری کی گواہی احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، کشور ناہید اور دوسروں کے علاوہ افتخار عارف نے بھی دی ہے۔ انتظار حسین نے ان کے کہانیاں بننے کے انداز کی داد دی۔
آصف فرخی کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا کی شاعری کے بارے میں وہ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ کس میں باقی رہنے کا امکان دکھائی دیتا ہے لیکن یہ ہے کہ ان کی شاعری سوچتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ساجد رشید کہتے ہیں |
ادھر ممتاز ادبی جریدے ’نیا ورق‘ ممبئی کے مدیر ساجد رشید کا کہنا ہے کہ اس سال بھارت میں اردو کی کتابیں گزشتہ سال کی طرح بہت آئیں اور اس سال بھی شعری مجوعوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی لیکن چند ایک کے سوا سب ’کاتا اور لے بھاگی‘ کے سے تھے اور یہ ایک قابلِ ذکر ہے ندا فاضلی کا ’شہر میرے ساتھ چل‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ندا فاضلی ہمیں میر و غالب کی عام روش کے بر خلاف کبیر اور نظیر سے جوڑتے ہیں اور ان کی شاعری سماج سے ہمارے پیچیدہ انسانی رشتے اور تعلق کا اظہار کرتی ہے اور ان کا اس سال آنے والا مجموعہ ان کے اس اسلوب و اظہار کی توسیع ہے۔
![]() | |
| لوری دل دکھاتی ہے، کی شاعری مختلف ہے |
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر اہم شاعر ہیں۔ وہ ’چھوٹی بحر کے بے ساختہ شاعر‘ ہیں لیکن کراچی میں ان کا یہ علاقہ کسی کے لیے ’نو گو‘نہیں ہے۔ انہیں اپنے ہی علاقے میں انور شعور اور جون ایلیا کا سامنا کرنا ہو گا۔ عزل میں جو شاعر اسلوب کی مہر ایجاد نہیں کر سکتا اسے وقتی مقبولیت تو مل سکتی ہے، مستقبل کی ضمانت نہیں۔
اسی سال ’کلیاتِ حسن‘ ایم پبلیکیشنز گوجرانوالہ نے زیدی لاہور کے اہتمام سے شائع کی ہے اور یہ غزل اور نظم کے علاوہ سلام، سوز اور قصائد کے بزرگ مرحوم
![]() | |
| کلیاتِ حسن گوجرانوالہ سے اور بامِ بقا فیصل آباد سے شائع ہوئی ہے |
اس کے علاوہ جرمنی کے طاہر عدیم کا پہلا شعری مجموعہ بامِ بقا کے نام سے آ یا ہے۔ اسے مثال پبلشرز فیصل آباد نے شائع کیا ہے اور اس میں لگ بھگ ایک سو پندرہ نظمیں اور غزلیں ہیں۔ کچھ ناقدین ان کی اکثر نظموں اور غزلوں کو اردو شاعری میں تازہ جھونکے کی مثال قرار دیتے ہیں۔ بیرون ملک میں رہنے والے شعرا کے ہاں ہجرت اور وطن سے دوری کا جو ایک کرب نظر آتا ہے وہ طاہر عدیم کی شاعری میں بھی موجود ہے لیکن یہ درد کیا شکل اختیار کرے گا اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
اس مجموعے کا فلیپ منیر نیازی اور وزیر آغا نے لکھا ہے اور طاہر کی شاعری کو سرگوشیوں کی شاعری سے تعبیر کیا ہے۔خاور جیلانی کا طویل مضمون طاہر عدیم کی شاعری کا مفصل احاطہ کرتا ہے۔ اس مجموعے میں شامل کلام خود شاعر سے تعارف کا بہترین ذریعہ ہے لیکن فی زمانہ کم لوگ اس پر اعتبار کرتے ہیں۔
![]() | |
| عشرت آفرین کا دسرا مجموعہ خاصے وقفے کے بعد آیا ہے |
ان کے مجموعوں کے نام بہت رومانی، ٹین ایجرسے اور ’احمد فرازیت‘ سے قریب لگتے ہیں لیکن انہیں تحیر، ماورایت و پُُراسراریت کے ساتھ ساتھ سیاسی صورتِ حال کی سچی اور متحرک تصویر کاری کا شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اردو کے ڈاکٹر اور استاد ہیں لیکن اب تک ان کا نام ادبی حلقوں سے نہ تو نیچے گیا ہے اور نہ ہی اوپر اٹھا ہے۔ دیکھیں ’دھیان‘ کی آمد ان کے لیے کیا لاتی ہے۔