http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 25 December, 2005, 03:15 GMT 08:15 PST

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کونسا آئین اور کیسی ضمانت

صدر پرویز مشرف ان دنوں مسلسل یہ بات دہرا رہے ہیں کہ وہ نئے ڈیموں کی تعمیر کے معاملے میں پاکستان اور سندھ کو خودکشی نہیں کرنے دیں گے اور اس سلسلے میں تمام بدگمانیاں دور کرنے کے لیے ہر طرح کی آئینی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔

صدر مشرف کا اخلاص، دردمندی اور نیک نیتی اپنی جگہ مگر عرض صرف اتنی سی ہے کہ انیس سو چھپن کے پہلے آئین میں یہ ضمانت دی گئی تھی کہ پاکستان کا نظامِ حکومت پارلیمانی ہوگا اور انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوں گے۔

لیکن دو برس بعد ہی اس نوزائیدہ آئین کو قتل کردیاگیا اور اسکی قبر پر انیس سو باسٹھ کے آئین کی بنیاد رکھی گئی جس میں یہ ضمانت دے دی گئی کہ پاکستان کا نظامِ حکومت صدارتی ہوگا اور انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہ راست نہیں بلکہ بنیادی جمہوریت کے اصول پر ہوں گے۔

اسی آئین میں یہ ضمانت بھی دی گئی کہ صدرِ مملکت کی معذوری یا انتقال کی صورت میں صدارتی اختیارات عارضی طور پر قومی اسمبلی کے اسپیکر کو منتقل ہوجائیں گے۔لیکن اس آئین کے خالق جنرل ایوب خان نے جب استعفٰی دیا تو اختیارات اسپیکر کے بجائے بری فوج کے سربراہ جنرل یحیی خان کو منتقل کردیئے اور یوں اپنے ہاتھوں اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کا خاتمہ کردیا۔

جنرل یحیٰی نے ضمانت دی کہ انتخابات کے نتیجے میں نئی آئین ساز اسمبلی میں جس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی اسے اقتدار منتقل کردیا جائے گا۔اس ضمانت کا جو حشر ہوا اسے یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔

انیس سو تہتر کے پارلیمانی آئین کو متفقہ بنانے کے لیے زوالفقارعلی بھٹو نے حزبِ اختلاف کو یہ ضمانت دی کہ نئے پاکستان میں سیاسی تنازعات جمہوری طریقے اور افہام و تفہیم سے حل کئے جائیں گے تاکہ فیڈریشن کے یونٹوں کے مابین دوبارہ غلط فہمیاں اور احساسِ محرومی نہ پیدا ہو۔

لیکن اس آئین کی منظوری کے فوراً بعد جس طرح سرحد اور بلوچستان کی منتخب حکومتیں برطرف کی گئیں۔حزبِ اختلاف کو غدار قرار دے کرجیلوں میں ٹھونسا گیا۔بلوچستان میں فوج کشی ہوئی، صدر کو کٹھ پتلی میں تبدیل کیا گیا اور انیس سو ستتر کے انتخابی نتائج کے خلاف تحریک کچلنے کے لیے دو شہروں میں مارشل لا لگایا گیا اس کے نتیجے میں آئین کے خالق کی دی گئی ضمانتیں دھری رہ گئیں۔اور اسی کی بنیاد پر آنے والے فوجی حکمراں جنرل ضیا الحق کو یہ کہنے کا حوصلہ ہوا کہ آئین بارہ صفحے کی کتاب ہے جسے کبھی بھی پھاڑا جاسکتا ہے۔

خود جنرل پرویز مشرف نے آئین سے ماورا چیف ایگزیکٹو سے خود کو منتخب صدر میں تبدیل کرنے کے لیے آئین میں درج صدارتی انتخاب کے طریقے سے جس طرح کھلم کھلا روگردانی کی۔آئین میں سترھویں ترمیم لانے کے لیے وردی اتارنے کے اپنے ہی وعدے کا جو حشر کیا اور اب صوبائی مساوات کے نمائندہ واحد آئینی ادارے سینیٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے جس نیت سے آئینی ترمیم لانے کی کوشش ہورہی ہے ۔اس طرح کے سیاسی کلچر میں کیسا وعدہ، کونسا آئین اور کس طرح کی آئینی ضمانت اور وہ بھی کتنے دن کے لیے؟

جہاں آئین کند چھری سے ذبح کیے جائیں وہاں اگر کوئی صوبہ خودکشی کرنے کے بارے میں سوچے بھی تو اس پر اتنی تشویش کیوں؟