Saturday, 19 November, 2005, 16:10 GMT 21:10 PST
علی احمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صدر جناب پرویز مشرف کی اپیل پر آج اسلام آباد میں عطیہ دینے والے ملکوں اور اداروں کی کانفرنس ہوئی جس میں پاکستان کے زلزلہ زدگان کی امداد آباد کاری اور تعمیر نو کے لیے پانچ ارب اور اسی کروڑ ڈالر کی فراہمی کے وعدے کیے گئے ہیں جو پاکستان کی توقع سے یقیناً زیادہ ہیں۔
کانفرنس بلانے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ زلزلہ زدگان کی امداد کے سلسلے میں عالمی برادری کی جانب سے جس فراخدلی کی توقع کی جارہی تھی وہ پوری طرح سامنے نہیں آئی تھی اور عام خیال یہ تھا کہ عالمی برادری پاکستان کے معاملے میں ذرا کنجوسی سے کام لے رہی ہے لیکن ’جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے‘ کے مصداق عالمی برادری اور امدادی ادارے کچھ زیادہ ہی جوش میں آگئے اور عین ممکن ہے کہ صدر مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز اب یہ سوچ رہے ہوں ’اے کاش کچھ زیادہ ہی مانگ لیتے‘۔
اطلاعات کے مطابق کانفرنس میں امدادی ادارے عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک، اسلامی بینک اور اقوام متحدہ کے علاوہ کوئی پچاس ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور جو کام تقریباً ناممکن معلو ہورہا تھا وہ ممکن بلکہ زیادہ ممکن ہوگیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سہرا جہاں صدر مشرف اور اور ان کی حکومت کے سر جاتا ہے وہاں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل جناب کوفی عنان کے سر بھی جاتا ہے جنہوں نے امداد کے مسئلے کو کچھ اتنی تندہی سے اٹھایا جیسے زلزلہ پاکستان میں نہیں بلکہ خود ان کے ملک میں آیا ہو۔ پاکستان کے عوام اور ان کی حکومت کو اقوم متحدہ اور اس کے عملے کا مشکور ہونا چاہیے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وعدہ شدہ رقم کی فراہمی میں کتنی مدت لگتی ہے اور اس کا طریقۂ کار کیا طے کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ اب تک پاکستان کو جو رقم موصول ہوئی ہے وہ صرف پندرہ کروڑ ڈالر ہے جو بقول شخصے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔
![]() | |
| اب تک پاکستان کو جو رقم موصول ہوئی ہے وہ صرف پندرہ کروڑ ڈالر ہے |
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی حکام کی یہ شکایت کسی حد تک بجا تھی اور اب اس کانفرنس کے بعد امید ہے کہ جیسے توقع سے زیادہ کے وعدے کیے گئے ہیں ویسے ہی امداد کی فراہمی کی رفتار میں بھی توقع سے زیادہ تیزی دکھائی جائے گی۔
عالمی برادری کی جانب سے اب تک جس سست روی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس کی میری نظر میں دو وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ میاں یوں تو چھوٹے موٹے طوفان اور زلزے وغیرہ ہمیشہ ہی بھیجتے رہتے ہیں لیکن ایک سال سے بھی کم عرصے میں تابڑ توڑ تین ایسی آفتوں کی مثال کم ملے گی کہ جس سے بڑے بڑوں کے پتے پانی ہوگئے۔
ایسی صورت میں عالمی برادری آخر کتنی امداد دے اور کس کس کو دے اور پھر عالمی برادری تو نام کی ہے اگر دیکھا جائے تو ایک آٹھ ترقی یافتہ ممالک ہیں اور کچھ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ملک ہیں۔ ان میں سے بھی بعض ’مولی اپنے پتوں بھاری‘ کے مصداق سیاسی اور مالی اعتبار سے آج کل خاصے پریشان ہیں۔
اب امریکہ کو ہی لے لیجیے افغانستان اور عراق کی جنگ کے اخراجات، حالیہ طوفان کترینا کی تباہ کاریاں وغیرہ اس کے بعد جو بھی دے دے اسے غنیمت جاننا چاہیے چہ جائے کہ کنجوسی کی شکایت کی جائے۔
یورپی ملکوں میں بھی جرمنی جس سے کچھ توقع کی جاسکتی تھی وہ بھی ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے خاصا پریشان ہے اور فرانس سے یوں بھی کچھ بہت زیادہ توقع نہیں تھی، حالیہ فسادات نے رہی سہی کثر بھی نکال دی ، ایسی صورت میں وہ اپنے ہی معاملات درست کر لے تو غنیمت ہے امداد کی بات تو بعد میں ہوگی۔ رہ گیا برطانیہ تو وہ میرا خیال جو کچھ کرسکتا ہے کر رہا ہے اور وہاں پاکستانی نژاد باشندے تو میرا خیال ہے اپنی بسات سے زیادہ کر رہے ہیں۔
دوسری وجہ جو عالمی برادری کی تساہلی کا باعث محسوس ہوتی ہے وہ غالباً یہ ہے کہ انہیں اب تک یہ اطمنان نہیں دلایا جاسکا ہے کہ وہ جو امداد فراہم کریں گے وہ متاثرین تک پہنچے گی اور اس میں کچھ زیادہ خورد برد کا امکان نہیں ہے۔
![]() | |
| پاکستان میں زلزلے نے کئی لوگوں ایک نادیدہ وقت سے دوچار کر دیا |
ا ب حکومت اور سرکاری اداروں کی کار کردگی کے بارے میں یہ شکوک وشبہات کس حد تک صحیح ہیں یہ تو میں نہیں جانتا لیکن خود پاکستان کی حزب ِ اختلاف کی جانب سے بھی یہ مطالبات کیے جاتے رہے ہیں کہ امدادی رقوم اور سامان کی تقسیم کو شفاف بنایا جائے اور اس کے لیے کوئی موثر طریقۂ کار وضح کیا جائے۔
صدر پرویز مشرف نے گزشتہ روز مظفرآباد میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ امدادی کام میں سو فیصد شفافیت برتی جائے گی۔ میرا خیال ہے ان کے اس دو ٹوک بیان کا بھی کانفرنس کے شرکاء پر اچھا اثر ہوا ہے۔
اب چونکہ پاکستان میں حکرانوں کے قول وفعل میں تضاد کی روایت خاصی پرانی ہے اس لیے صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم جناب شوکت عزیز کو اس مسئلے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے اور اس یقین دہانی کا عملی مظاہرہ بھی کرنا چاہیے اور پاکستان کی حزب اختلاف کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے، اس لیے کہ بیرونی ملکوں اور امدادی اداروں کو اعتماد میں لینے سے رقم ہی مل سکتی ہے لیکن ملک کے عوام اور حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے سے حکومت کی اپنی ساکھ بھی بحال ہوگی اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے میں مدد بھی ملے گی جو اتنا ہی ضروری ہے جتنی کہ بیرونی امداد۔
صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کو میں اس موقع پر کانفرنس کی کامیابی پر مبارک بعد پیش کرتے ہوئے ان سے یہ اپیل کروں گا کہ آپ عالمی برادری کا دل جیتنے میں تو یقینی کامیاب ہوگئے ہیں اب اپنے لوگوں کا دل جیتنے پر بھی ایک ذرا توجہ ہوجائے تو کیا حرج ہے۔