Friday, 21 October, 2005, 16:40 GMT 21:40 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
آج کل ملک میں اس بات کا بہت تذکرہ ہے کہ آٹھ اکتوبر کے بعد پاکستان کے لوگوں نے جس طرح زلزلہ زدگان کی امداد کی ہے اس نے انیس سو پینسٹھ کی یاد تازہ کردی ہے جب عوام جنگ کے دنوں میں ایک قومی جذبہ کے ساتھ متحد ہوگئے تھے۔
لاہور میں جگہ جگہ سڑکوں پر قوم کے جذبہ وحدت کی تحسین میں بینرز لگے ہوئے ہیں، اخباروں میں کالم نویس روزانہ عوام کی تعریفیں کررہے ہیں کہ اس نے اپنے زندہ وجود کا کھل کر احساس دلا دیا ہے اور یہ کہ اب وہ ایک جاگی ہوئی قوم ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستانی قوم ایک زندہ، باکردار اور خودآگاہ قوم ہے۔ اس موقع کو پاکستان کی تاریخ کے بہترین لمحہ سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
کیا حقیقت میں ایسا ہی ہے؟
حقائق یوں ہیں۔ آٹھ اکتوبر کو زلزلہ آیا۔ کم سے کم ایک روز تک میڈیا اور زیادہ تر لوگ اسلام آباد کے ایک رہائشی ٹاور کے منہدم ہونے کو سب سے بڑے واقعہ سمجھتے رہے۔بعد میں یہ رپورٹیں آنا شروع ہوئیں کہ اصل میں زلزلہ سے متاثر تو کشمیر اور ہزارہ کے علاقے ہوئے ہیں۔ زلزلہ سے صوبہ سرحد کے پانچ ضلعے، کوہستان، بٹ گرام، شانگلہ، مانسہرہ اور ایبٹ آباد جبکہ کشمیر میں مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ اور باغ متاثر ہوئے۔
![]() | |
| پہاڑوں کے اکثر علاقوں تک ابھی رسائی نہیں ہو سکی |
تصویر کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔ بہت سے متاثرہ علاقوں میں ابھی تک راستے نہیں کھولے جاسکے۔ پہاڑوں پر رہنے والے اکثر متاثرہ لوگوں تک ابھی تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی۔ ان تک امدادی سامان بہت کم پہنچا ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں تک پہنچنے کے لیے جتنے ہیلی کاپٹر درکار تھے وہ حکومت کے پاس موجود نہیں ہیں۔
عوام نے زیادہ تر اپنے پرانے کپڑوں اور پرانی رضائیوں اور کچھ نقدی کے عطیے تو دیے لیکن رضا کارانہ کام میں دلچسپی نہیں لی۔ سوائے ڈاکٹروں کی ٹیموں کے عام نوجوانوں نے متاثرہ علاقوں میں جا کر ملبہ ہٹانے اور لاشوں کو نکالنے کے کام کے لیے خود کو پیش نہیں کیا۔
زیادہ تر متاثرہ علاقوں میں میتیں ابھی تک ملبہ میں دفن ہیں۔ یہ رضا کار پہاڑی علاقوں میں پیدل جا کر بھی امدادی سامان لے جاسکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ رضا کارانہ کام امدادی کام کا وہ بھاری پتھر ہے جسے کسی نے اٹھانا پسند نہیں کیا حالانکہ ملک میں بے روزگار نوجوانوں کی اور ان کے پاس دستیاب وقت کی کمی نہیں۔
عام لوگوں کی طرف سے متاثرہ علاقوں یا ان کے قریبی قصبوں میں جو امدادی سامان تقسیم کیا گیا وہ مقدار میں بہت زیادہ تھا۔ جن لوگوں کو اس سامان کی ضرورت نہیں تھی انہوں نے بھی اس پر ہاتھ صاف کیا اور کر رہے ہیں۔ امدادی سامان کی لوٹ مار کے واقعات بھی ہوئے۔
متاثرہ ضلعوں میں مقامی سیاستدانوں نے اپنے ووٹروں کو خوش کرنے کے لیے سامان کو ان لوگوں میں بھی بانٹا جو اس کے حق دار نہیں تھے۔ بعض متاثرہ لوگوں نے بھی جھوٹ بول کر ایک سے زیادہ بار امداد وصول کی۔ شروع کے سات روز تک لاوارث بچوں کو لوگ ہسپتالوں اور کیمپوں سے بلا روک ٹوک لے جاتے رہے۔
![]() | |
| پہلے چند روز تک ہسپتالوں تک لائے جانے والے بچوں کو لوگ بلا روک ٹوک لے جاتے رہے |
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیس ہزار خیمے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔یوں تقریبا دو لاکھ خیموں کی ضرورت تو اس وقت بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں دو لاکھ ایسے صاحب حیثیت خاندان یا لوگ نہیں جو اگر ایک ایک خیمہ بھی عطیہ کریں تو پاکستان کو بیرون ملک سے امداد مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ پاکستان کی پچاس سے زیادہ خیمہ بنانے والی فیکٹریاں روزانہ آٹھ ہزار خیمے بناسکتی ہیں۔
ایک خیمہ کی قیمت تقریبا ڈھائی ہزار ہے۔ پاکستان میں ہر سال تقریبا ایک لاکھ کاریں فروخت ہوتی ہیں۔ لاہور کی فوڈ اسٹریٹ اور ایم ایم عالم روڈ پر ہفتہ اور اتوار کے روز مہنگے ریستورانوں میں کھانا کھانے والوں کا اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ ذرا دیر سے جانے والوں کو جگہ نہیں ملتی۔ بعض ریستورانوں میں ایک آدمی کے بوفے کا بل ایک ہزار روپے ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق تیس لاکھ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ڈھائی سے تین لاکھ خاندان یا گھر متاثر ہوئے ہیں۔ وفاقی ریلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی مستقل بحالی کے لیے پانچ ارب ڈالرز یعنی تین سو ارب پاکستانی روپے درکار ہیں۔
اگر دس صاحب حیثیت خاندان مل کر ایک خاندان کی بحالی میں اس کی جزوی مدد بھی کریں تو کیا پندرہ کروڑ آبادی اور تقریبا تین کروڑ خاندانوں پر مشتمل اس ملک میں مالی استطاعت رکھنے والے تیس لاکھ خاندان بھی موجود نہیں جو ایسا کرسکیں؟ کہا جاتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد کی ہجرتِ مدینہ کے موقع پر ہر انصار نے ایک مہاجر کو اپنا بھائی قرار دیا تھا اور اس منہ بولے بھائی کو اپنے گھر اور کاروبار میں شریک کیا تھا۔ یہاں دس آدمی مل کر ایک آدمی کو بھائی بنا لیں تو کام ہوسکتا ہے۔
بڑے شہروں اور قصبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ایک لاکھ بیس ہزار دیہات ہیں۔ چھ ہزار سے زیادہ یونین کونسلیں ہیں جبکہ ہر یونین کونسل میں پندرہ سے بیس دیہات ہوتے ہیں۔ ملک میں چھ سو سے زیادہ تحصیلیں ہیں اور ایک سو دس ضلعے ہیں۔
سیدھی سی ناممکن بات |
کیا ملک کی ایک سو سے زیادہ ضلعے اپنے ترقیاتی کاموں اور بجٹ میں ان متاثرہ ضلعوں کو حصہ نہیں دے سکتے؟ اگر دس ضلعے مل کر ایک ضلعے کو مدد کے لیے منتخب کرلیں تو ہر متاثرہ ضلع کی بحالی آسان ہوسکتی ہے۔ اگر پاکستان کے ساٹھ دیہات مل کر ایک گاؤں کی بحالی کا بیڑا اٹھالیں تو ہر متاثرہ گاؤں کے لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان مہیا کیا جاسکتا ہے۔
اس وقت پاکستان بیرونی امداد کی درخواست کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے جو عالمی ہدف مقرر کیا تھا وہ اس ہدف سے اب تک بہت ہی پیچھے ہے اور اب اس حالت پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتباہ بھی جاری کر چکے ہیں۔
اگر واقعی پاکستانی قوم زندہ ہے جیسا کہ ہر جگہ چرچا ہے تو پاکستان کو اس امداد کی ضرورت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے پندرہ کروڑ عوام اور تین کروڑ گھرانوں میں سے ایک چوتھائی اتنے مالدار ہیں کہ وہ یہ کام خود کرسکیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو پاکستانی قوم واقعی زندہ قوم کہلائی جاسکے گی۔ وہ پاکستان کا بہترین لمحہ ہوگا۔