Friday, 03 June, 2005, 07:14 GMT 12:14 PST
وسعت اللہ خان
اردو آن لائن
نہیں معلوم کہ آج کے پاکستانی اسکولوں کے سرکاری نصاب میں انیس سو پینسٹھ کا تذکرہ کتنا اور کس انداز میں کیا جاتا ہے لیکن اب سے چونتیس برس پہلے جب ہم جماعت پنجم میں ٹاٹ پر بیٹھ کر معاشرتی علوم کی کتاب کھولتے تھے تو اس میں سب سے تفصیلی اور باتصویر باب سن پینسٹھ کی لڑائی کے بارے میں ہی تھا۔
اس باب میں ہم بچوں کو بتایا جاتا تھا کہ کس طرح ہم سے پانچ گنا طاقتور عیار دشمن نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی اور کس طرح ہماری بہادر مسلح افواج نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر صرف سترہ روز میں ہی دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔
جن مصنفین نے پانچویں جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب کا یہ باب لکھا تھا انہیں شائید کامل یقین تھا کہ یہ باب پڑہنے والے بچے نہ تو کبھی بڑے ہوں گے اور نہ ہی انکی رسائی دیگر تاریخی کتابوں، یاداشتوں اور مقالوں تک ہوگی۔
شائید اسی لئے ہم بچوں کو یہ بتانے سے گریز کیا گیا کہ پاکستان نے چھ ستمبر کی جنگ سے چار ماہ پہلے آپریشن جبرالٹر کے نام پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس مفروضے کے تحت سادہ کپڑوں میں فوجی بھیجنے شروع کئے کہ اسکے نتیجے میں کشمیر میں تحریکِ آزادی بھڑک اٹھے گی اور چین سے تین برس پہلے تازہ تازہ شکست کھانے والا بھارت اس تحریک پر قابو نہیں پاسکے گا۔
پاکستان کا یہ بھی خیال تھا کہ انیس سو اڑتالیس کی جنگِ کشمیر کی طرح اس بار بھی لڑائی صرف سیز فائر لائن تک محدود رہے گی اور بھارت اس جنگ کو بین الاقوامی سرحدوں تک نہیں پھیلائے گا۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور جنگ لاہور اور سیالکوٹ کی دھلیز تک پہنچ گئی۔
چنانچہ جب سترہ روز بعد اقوامِ متحدہ کے تحت بڑی طاقتوں کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی تو اسوقت تک پاکستانی فوج اپنا اسی فیصد ایمونیشن استعمال کرچکی تھی جبکہ بھارت کا صرف چودہ فیصد ایمونیشن استعمال ہوا تھا۔
صدر ایوب کے صاحبزادے گوہر ایوب خان کی اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ پاکستان کو بھارت کا جنگی پلان ایک بھارتی بریگیڈئر نے بیس ہزار روپے میں فروخت کردیا تھا تو اس کا کیا فائدہ ہوا۔
اگر پاکستان نے اس جنگ میں بھارت کے دوسودس مربع میل علاقے پر قبضہ کیا تو بھارت نے پاکستان کے سات سو دس مربع میل علاقے پر قبضہ کر لیا۔اگر پاکستان نے بھارت کے تین ہزار کے لگ بھگ فوجی ہلاک کئے تو اسکے بدلے پاکستان کے اڑتیس سو سے زائد فوجی کام آئے۔
اور اس ساری تگ و دو کے بعد ہاتھ کیا آیا
معاہدہ تاشقند۔ جس کے تحت دونوں ملکوں کی فوجیں پندرہ اگست انیس سو پینسٹھ کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔